المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
88. إذا رأيتم الرايات السود فأتوها ولو حبوا
جب تم سیاہ جھنڈے دیکھو تو ان کی طرف ضرور جاؤ خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل برف پر چلنا پڑے
حدیث نمبر: 8742
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا مُعاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن سلمان (3) بن رَبِيعة قال: انطلقتُ في نفرٍ من أصحابي حتى قَدِمْنا مكة، قال: فطلَبْنا عبدَ الله بنَ عمرو فلم نُوافِقْه، فإذا قريبٌ من ثلاث مئة راجلٍ، فرجعنا فلَقِيناه في المسجد، فإذا شيخٌ عليه بُرْدانِ قِطْريّان وعِمامةٌ ليس عليه قميص، فقال: ممَّن أنتم؟ قلنا من أهل العراق قال: أنتم يا أهلَ العراق تَكذِبون وتُكذِّبون وتَسخَرون، قلنا: لا نَكذِبُ ولا نُكذِّبُ ولا نَسخَر، قال: كم بينَكم وبين الأُبُلّة؟ قلنا: أربعُ فراسخَ، قال: يوشكُ بنو قَنطُوراء بن كركر أن تَسُوقَكم من خُراسان وسِجِستان سَوْقًا عنيفًا، ثم يَخرُجون حتى يَربِطون خيولَهم بنهر دِجْلة، قومٌ صِغارُ الأعين، خُنْسُ الأنوف، كأنَّ وجوههم المَجَانُّ المُطرَقة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سلمان بن ربیعہ فرماتے ہیں: میں اپنے چند دوستوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں آیا، ہم نے وہاں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈا، لیکن وہ ہمیں نہ ملے، ہم نے تقریبا 300 سواروں کو دیکھا، لیکن ہمیں وہ نہ ملے، پھر ہم مسجد میں آ گئے، یہاں ہم نے ایک بزرگ کو دیکھا، اس نے دو قطری چادریں زیب تن کی ہوئی تھیں، سر پر عمامہ تھا، اور قمیص نہیں پہنا ہوا تھا، انہوں نے ہم سے پوچھا: تم کون ہو؟ ہم نے کہا: ہم عراق سے آئے ہیں، انہوں نے فرمایا: اے عراقیو! تم جھوٹ بھی بولتے ہو، اور جھٹلاتے بھی ہو اور تم مذاق بھی کرتے ہو، ہم نے کہا: ہم نہ جھوٹ بولتے ہیں، نہ کسی چیز کو جھٹلاتے ہیں، اور نہ ہی ہم کسی چیز کا مذاق اڑاتے ہیں، انہوں نے کہا: تمہارے اور ایلہ کے درمیان کتنی مسافت ہے؟ ہم نے بتایا کہ چار فرسخ۔ انہوں نے فرمایا: قریب ہے کہ ” بنی قنطوراء بن کرکر “ تمہیں خراسان اور سجستان سے سختی کے ساتھ ہانکتے ہوئے لائیں گے، پھر یہ نکلیں گے اور اپنے گھوڑے دریائے دجلہ کے کنارے پر باندھیں گے، ان لوگوں کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی، ناک چپٹے ہوں گے۔ اور ان کے چہرے ڈھال کی طرح ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8742]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8742 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذا وقع في النسخ الخطية، بلا ياء، والصواب في اسمه واسم أبيه: سليمان بن الربيع كما في "التاريخ الكبير" للبخاري 4/ 12 و "الجرح والتعديل" 4/ 117 و"الثقات" لابن حبان 4/ 309.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام بغیر "یاء" کے لکھا گیا ہے، جبکہ ان کا اور ان کے والد کا درست نام "سلیمان بن ربیع" ہے جیسا کہ بخاری کی "التاریخ الکبیر" (4/12)، "الجرح والتعدیل" (4/117) اور ابن حبان کی "الثقات" (4/309) میں ہے۔
(1) صحيح عن عبد الله بن عمرو كما سلف بيانه برقم (8627)، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل سليمان بن الربيع، فقد انفرد بالرواية عنه عبد الله بن بريدة، ووثقه ابن حبان.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے "صحیح" ہے جیسا کہ اس کا بیان پہلے نمبر (8627) پر گزر چکا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: یہ سند سلیمان بن ربیع کی وجہ سے "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے، ان سے روایت کرنے میں عبد اللہ بن بریدہ منفرد ہیں اور ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے۔