المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
88. إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ فَأْتُوهَا وَلَوْ حَبْوًا
جب تم سیاہ جھنڈے دیکھو تو ان کی طرف ضرور جاؤ خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل برف پر چلنا پڑے
حدیث نمبر: 8741
أخبرنا الحسن (1) بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا خالدٌ الحذَّاء، عن أبي قِلابة، عن أبي أسماء، عن ثَوْبان قال: إذا رأيتم الراياتِ السُّودَ خَرجَت من قِبَل خُراسان، فائتُوها ولو حَبْوًا، فإنَّ فيها خليفةَ الله المَهْدي (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے نکلے ہیں، تو ان کے پاس ضرور پہنچو خواہ تمہیں برف پر گھسٹ کر (گھٹنوں کے بل) جانا پڑے، کیونکہ ان میں اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8741]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8741]
تخریج الحدیث: «ضعيف مضطرب كما سبق بيانه عند الحديث رقم (8638)» [ترقيم الرساله 8741] [ترقيم الشركة 8634]
الحكم على الحديث: ضعيف مضطرب
حدیث نمبر: 8742
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا مُعاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن سلمان (3) بن رَبِيعة قال: انطلقتُ في نفرٍ من أصحابي حتى قَدِمْنا مكة، قال: فطلَبْنا عبدَ الله بنَ عمرو فلم نُوافِقْه، فإذا قريبٌ من ثلاث مئة راجلٍ، فرجعنا فلَقِيناه في المسجد، فإذا شيخٌ عليه بُرْدانِ قِطْريّان وعِمامةٌ ليس عليه قميص، فقال: ممَّن أنتم؟ قلنا من أهل العراق قال: أنتم يا أهلَ العراق تَكذِبون وتُكذِّبون وتَسخَرون، قلنا: لا نَكذِبُ ولا نُكذِّبُ ولا نَسخَر، قال: كم بينَكم وبين الأُبُلّة؟ قلنا: أربعُ فراسخَ، قال: يوشكُ بنو قَنطُوراء بن كركر أن تَسُوقَكم من خُراسان وسِجِستان سَوْقًا عنيفًا، ثم يَخرُجون حتى يَربِطون خيولَهم بنهر دِجْلة، قومٌ صِغارُ الأعين، خُنْسُ الأنوف، كأنَّ وجوههم المَجَانُّ المُطرَقة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سیدنا سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں اپنے ساتھیوں کے ایک گروہ کے ساتھ مکہ پہنچا، ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو کو تلاش کیا مگر وہ نہ ملے، وہاں تقریباً تین سو پیدل لوگ موجود تھے، پھر ہم واپس مڑے تو انہیں مسجد میں پایا، وہ ایک بزرگ تھے جنہوں نے دو قطری چادریں اوڑھ رکھی تھیں اور عمامہ پہنا ہوا تھا لیکن قمیص نہیں پہنی تھی، انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ ہم نے کہا: اہل عراق میں سے، انہوں نے کہا: تم اہل عراق جھوٹ بولتے ہو، جھٹلاتے ہو اور مذاق اڑاتے ہو، ہم نے کہا: ہم نہ جھوٹ بولتے ہیں، نہ جھٹلاتے ہیں اور نہ ہی مذاق اڑاتے ہیں، انہوں نے پوچھا: تمہارے اور ابلہ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: چار فرسخ، انہوں نے کہا: عنقریب بنو قنطوراء بن کرکر تمہیں خراسان اور سجستان سے نہایت سختی سے ہانک کر نکال دیں گے، پھر وہ آگے بڑھیں گے یہاں تک کہ اپنے گھوڑے نہر دجلہ کے کنارے باندھیں گے، وہ چھوٹی آنکھوں اور چپٹی ناک والے لوگ ہوں گے، ان کے چہرے ایسی ڈھالوں کی طرح ہوں گے جن پر تہہ چڑھی ہوتی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8742]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8742]
تخریج الحدیث: «صحيح عن عبد الله بن عمرو كما سلف بيانه برقم (8627)، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل سليمان بن الربيع، فقد انفرد بالرواية عنه عبد الله بن بريدة، ووثقه ابن حبان» [ترقيم الرساله 8742] [ترقيم الشركة 8635]
الحكم على الحديث: صحيح عن عبد الله بن عمرو كما سلف بيانه برقم (8627)
حدیث نمبر: 8743
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا سُوَيد أبو حاتم اليَمَامي، عن يحيى بن أبي كَثير، عن زيد بن سلَّام، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ حُذيفةَ بن اليَمَان لما احتُضِر أتاه ناسٌ من الأعراب، قالوا له: يا حذيفةُ، ما نراكَ إلَّا مقبوضًا، فقال لهم: غِبٌّ مسرور، وحبيبٌ جاء على فاقةٍ، لا أَفلحَ من نَدِمَ، اللهمَّ إني لم أشارِكْ غادرًا في غَدْرتِه، فأعوذُ بك اليوم من صاحب السُّوء. كان الناس يَسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنتُ أسألُه عن الشرِّ، فقلت: يا رسولَ الله، إنا كنا في شرٍّ، فجاءنا اللهُ بالخير، فهل بعد ذلك الخير شرٌّ؟ قال: فقال:"نَعَم" قلت: وهل وراءَ ذلك الخيرِ من شرٍّ؟ قال:"نَعَم" قلت: كيف؟ قال:"سيكون بعدي أئمَّةٌ لا يَهتَدُون بهَدْيي، ولا يَستنُّون بسُنَّتي، وسيقوم رجالٌ قلوبُهم قلوبُ شياطين (2) في جُثْمان إنسان" فقلت: كيف أصنعُ إن أدرَكَني ذلك؟ قال:"تسمعُ للأميرِ الأعظمِ، وإن ضَرَبَ ظهرَك وأَخَذَ مالَك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8533 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8533 - صحيح
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے ان کے والد کی سند سے ان کے دادا سے روایت ہے کہ جب سیدنا حذیفہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے حذیفہ! ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی روح قبض ہونے والی ہے، انہوں نے کہا: ایک خوشی جو دیر سے آئی، اور ایک محبوب جو ضرورت کے وقت پہنچا، وہ شخص کبھی فلاح نہیں پائے گا جو (دنیا چھوڑنے پر) نادم ہو، اے اللہ! میں نے کبھی کسی غدار کی غداری میں اس کا ساتھ نہیں دیا، پس آج میں تجھ سے برے ساتھی سے پناہ مانگتا ہوں، (پھر کہا:) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم شر میں مبتلا تھے، پھر اللہ نے ہمیں خیر عطا فرمائی، تو کیا اس خیر کے بعد پھر کوئی شر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے عرض کیا: کیا اس خیر کے پیچھے بھی کوئی شر ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو نہ میری ہدایت پر چلیں گے اور نہ میری سنت کی پیروی کریں گے، اور عنقریب ایسے لوگ کھڑے ہوں گے جن کے دل انسانی جسموں میں شیطانوں کے دل ہوں گے“، میں نے عرض کیا: اگر میں اس صورتحال کو پا لوں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم امیرِ اعظم کی بات سننا اور ماننا، اگرچہ وہ تمہاری پیٹھ پر مارے اور تمہارا مال چھین لے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8743]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8743]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سويد أبي حاتم اليمامي، فإننا لم نتبينه، وسلّام بن أبي سلام والد زيد مجهول الحال، وأبو سلام» [ترقيم الرساله 8743] [ترقيم الشركة 8636] [ترقيم العلميه 8533]
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 8744
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبَهاني الزاهد، حدثنا محمد بن عبد الله بن أُورْمةَ، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن القاسم بن الحارث، عن عبد الله بن عُتْبة، عن أبي مسعود الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يزالُ هذا الأمرُ فيكم وأنتم وُلاتُه ما لم تُحدِثوا أعمالًا تَنزِعُه منكم، فإذا فعلتُم ذلك سَلَّطَ اللهُ عليكم شِرارَ خلقِه، فالتَحَوْكم كما يُلتَحى القضيبُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8534 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8534 - صحيح
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ معاملہ (حکمرانی) تم میں ہی رہے گا اور تم ہی اس کے والی رہو گے جب تک تم ایسے کام نہیں کرو گے جو اسے تم سے چھین لیں، پس جب تم ایسا کرو گے تو اللہ تم پر اپنی مخلوق کے بدترین لوگوں کو مسلط کر دے گا، جو تمہیں اس طرح ادھیڑ کر رکھ دیں گے جیسے کسی شاخ کی چھال ادھیڑ دی جاتی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8744]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8744]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة القاسم بن الحارث: واسمه القاسم بن محمد بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، نسب هنا إلى جدِّه» [ترقيم الرساله 8744] [ترقيم الشركة 8637] [ترقيم العلميه 8534]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة القاسم بن الحارث: واسمه القاسم بن محمد بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام
حدیث نمبر: 8745
أخبرني أبو زكريا العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن أبيه، عن أبي يعلى الثَّوْري، عن سعد بن حُذَيفة قال: رُفِعَ إلى حُذيفةَ عيوبُ سعيد بن العاص، فقال: ما أدري أيَّ الأمرين أردتُم: تناولَ سلطان قومٍ ليس لكم، أو أردتم ردَّ هذه الفتنة، فإنها مُرسَلةٌ من الله، تَرتَعي في الأرض حتى تَطأَ خِطامَها، ليس أحدٌ رادَّها ولا أحدٌ مانعَها، وليس أحدٌ متروكًا (1) يقول: اللهُ اللهُ، إلَّا قُتِل، ثم يبعثُ الله قومًا قَزَعًا كَفَزَع الخريف (2) . قال: القَزَعُ: القِطعة من السَّحاب الرَّقيق، كأنَّها ظِلٌّ إذا مرَّت تحت السَّحاب الكثير.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8535 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8535 - صحيح
سیدنا سعد بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے سامنے سعید بن عاص کے عیوب بیان کیے گئے تو انہوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ تم ان دونوں میں سے کیا چاہتے ہو؟ کیا تم ایسی قوم کی سلطنت چھیننا چاہتے ہو جو تمہارے لیے نہیں ہے یا تم اس فتنے کو روکنا چاہتے ہو؟ حالانکہ یہ اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے، یہ زمین میں اس طرح چرتا پھرے گا یہاں تک کہ اپنی نکیل کو بھی روند ڈالے گا، اسے کوئی لوٹانے والا اور روکنے والا نہیں ہے، اور کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جائے گا جو ”اللہ اللہ“ کہتا ہو مگر اسے قتل کر دیا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجے گا جو خزاں کے بادلوں کے ٹکڑوں کی طرح «قَزَعًا كَفَزَعِ الْخَرِيفِ» ہوں گے۔ انہوں نے کہا: «الْقَزَعُ» سے مراد ہلکے بادل کا ٹکڑا ہے جو سائے کی طرح ہوتا ہے جب وہ بہت سے بادلوں کے نیچے سے گزرتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8745]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8745]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سعد بن حذيفة، فقد روى عنه ثلاثة، وذكره ابن حبان في "الثقات"» [ترقيم الرساله 8745] [ترقيم الشركة 8638] [ترقيم العلميه 8535]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل سعد بن حذيفة