🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

88. إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ فَأْتُوهَا وَلَوْ حَبْوًا
جب تم سیاہ جھنڈے دیکھو تو ان کی طرف ضرور جاؤ خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل برف پر چلنا پڑے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8740
وأخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا الوليد ورِشْدِين قالا: حدثنا ابن لَهِيعة، عن أَبي قَبِيل، عن أبي رُومانَ، عن علي بن أبي طالب قال: يَظْهَرُ السُّفياني على الشام ثم يكون بينهم وقعةٌ بقَرقيسِيَا حتى تَشبَعَ طيرُ السماء وسِباعُ الأرض من جِيَفِهم، ثم ينفتقُ عليهم فَتْقٌ من خلفِهم، فتُقبِلُ طائفةٌ منهم حتى يدخلوا أرضَ خُراسانَ [وتُقبِل خيل السُّفياني في طلب أهل خراسان] (3) ويقتلون شِيعةَ آل محمد ﷺ بالكوفة، ثم يخرج أهلُ خراسان في طلب المَهْديِّ (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8530 - خبر واه
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سفیانی شام میں ظاہر ہو گا، پھر قرقیسا میں ان کے درمیان ایک جنگ ہو گی، پرندے اور درندے ان کے لاشوں کو کھا کھا کر اپنا پیٹ بھریں گے، پھر ان میں اختلافات رونما ہوں گے، ان میں سے ایک جماعت نکلے گی اور خراسان میں جائے گی، اور سفیانی کے گھڑ سوار اہل خراسان کے تعاقب میں نکلیں گے، اور کوفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی جماعت سے جنگ کریں گے۔ پھر اہل خراسان مہدی کی طلب میں نکل جائیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8740]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8741
أخبرنا الحسن (1) بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا خالدٌ الحذَّاء، عن أبي قِلابة، عن أبي أسماء، عن ثَوْبان قال: إذا رأيتم الراياتِ السُّودَ خَرجَت من قِبَل خُراسان، فائتُوها ولو حَبْوًا، فإنَّ فيها خليفةَ الله المَهْدي (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تم دیکھو کہ خراسان کی طرف سے کالے جھنڈے والے لشکر نمودار ہو گئے ہیں، تو اس میں لازمی شریک ہونا کیونکہ اس لشکر میں اللہ کا خلیفہ سیدنا مہدی رضی اللہ عنہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8741]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8742
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا مُعاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن سلمان (3) بن رَبِيعة قال: انطلقتُ في نفرٍ من أصحابي حتى قَدِمْنا مكة، قال: فطلَبْنا عبدَ الله بنَ عمرو فلم نُوافِقْه، فإذا قريبٌ من ثلاث مئة راجلٍ، فرجعنا فلَقِيناه في المسجد، فإذا شيخٌ عليه بُرْدانِ قِطْريّان وعِمامةٌ ليس عليه قميص، فقال: ممَّن أنتم؟ قلنا من أهل العراق قال: أنتم يا أهلَ العراق تَكذِبون وتُكذِّبون وتَسخَرون، قلنا: لا نَكذِبُ ولا نُكذِّبُ ولا نَسخَر، قال: كم بينَكم وبين الأُبُلّة؟ قلنا: أربعُ فراسخَ، قال: يوشكُ بنو قَنطُوراء بن كركر أن تَسُوقَكم من خُراسان وسِجِستان سَوْقًا عنيفًا، ثم يَخرُجون حتى يَربِطون خيولَهم بنهر دِجْلة، قومٌ صِغارُ الأعين، خُنْسُ الأنوف، كأنَّ وجوههم المَجَانُّ المُطرَقة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سلمان بن ربیعہ فرماتے ہیں: میں اپنے چند دوستوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں آیا، ہم نے وہاں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈا، لیکن وہ ہمیں نہ ملے، ہم نے تقریبا 300 سواروں کو دیکھا، لیکن ہمیں وہ نہ ملے، پھر ہم مسجد میں آ گئے، یہاں ہم نے ایک بزرگ کو دیکھا، اس نے دو قطری چادریں زیب تن کی ہوئی تھیں، سر پر عمامہ تھا، اور قمیص نہیں پہنا ہوا تھا، انہوں نے ہم سے پوچھا: تم کون ہو؟ ہم نے کہا: ہم عراق سے آئے ہیں، انہوں نے فرمایا: اے عراقیو! تم جھوٹ بھی بولتے ہو، اور جھٹلاتے بھی ہو اور تم مذاق بھی کرتے ہو، ہم نے کہا: ہم نہ جھوٹ بولتے ہیں، نہ کسی چیز کو جھٹلاتے ہیں، اور نہ ہی ہم کسی چیز کا مذاق اڑاتے ہیں، انہوں نے کہا: تمہارے اور ایلہ کے درمیان کتنی مسافت ہے؟ ہم نے بتایا کہ چار فرسخ۔ انہوں نے فرمایا: قریب ہے کہ بنی قنطوراء بن کرکر تمہیں خراسان اور سجستان سے سختی کے ساتھ ہانکتے ہوئے لائیں گے، پھر یہ نکلیں گے اور اپنے گھوڑے دریائے دجلہ کے کنارے پر باندھیں گے، ان لوگوں کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی، ناک چپٹے ہوں گے۔ اور ان کے چہرے ڈھال کی طرح ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8742]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8743
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا سُوَيد أبو حاتم اليَمَامي، عن يحيى بن أبي كَثير، عن زيد بن سلَّام، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ حُذيفةَ بن اليَمَان لما احتُضِر أتاه ناسٌ من الأعراب، قالوا له: يا حذيفةُ، ما نراكَ إلَّا مقبوضًا، فقال لهم: غِبٌّ مسرور، وحبيبٌ جاء على فاقةٍ، لا أَفلحَ من نَدِمَ، اللهمَّ إني لم أشارِكْ غادرًا في غَدْرتِه، فأعوذُ بك اليوم من صاحب السُّوء. كان الناس يَسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنتُ أسألُه عن الشرِّ، فقلت: يا رسولَ الله، إنا كنا في شرٍّ، فجاءنا اللهُ بالخير، فهل بعد ذلك الخير شرٌّ؟ قال: فقال:"نَعَم" قلت: وهل وراءَ ذلك الخيرِ من شرٍّ؟ قال:"نَعَم" قلت: كيف؟ قال:"سيكون بعدي أئمَّةٌ لا يَهتَدُون بهَدْيي، ولا يَستنُّون بسُنَّتي، وسيقوم رجالٌ قلوبُهم قلوبُ شياطين (2) في جُثْمان إنسان" فقلت: كيف أصنعُ إن أدرَكَني ذلك؟ قال:"تسمعُ للأميرِ الأعظمِ، وإن ضَرَبَ ظهرَك وأَخَذَ مالَك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8533 - صحيح
زید بن سلام اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے پاس کچھ دیہاتی لوگ آئے اور کہنے لگے: اے حذیفہ! ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی وفات ہونے والی ہے، سیدنا حذیفہ نے ان سے فرمایا: میرے چہرے پر خوشی کے آثار ہیں اور حبیب فاقوں سے ہی ملتا ہے، وہ کامیاب نہیں ہوتا جو ان باتوں پر پریشان ہو جاتا ہے، البتہ میں کسی باغی کی بغاوت میں شمولیت اختیار نہیں کروں گا، آج میں برے ساتھی سے تجھے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم شر میں ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ہم پر خیر لائے گا، کیا اس خیر کے بعد کوئی شر بھی آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کی: کیا اس خیر کے بعد پھر کوئی شر آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ ائمہ ایسے ہوں گے جو میری ہدایت پر نہیں ہوں گے، نہ میری سنت پر عمل پیرا ہوں گے، اور عنقریب کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جن کے دل دیکھنے میں تو ایسے ہی ہوں گے جیسے کسی انسان کے جسم میں دل ہوتا ہے، میں نے کہا: اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم امیر اعظم کی پیروی کرنا، اگرچہ وہ تیری پیٹھ پر مارے، اگرچہ وہ تیرا مال کھا لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8743]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8744
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبَهاني الزاهد، حدثنا محمد بن عبد الله بن أُورْمةَ، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن القاسم بن الحارث، عن عبد الله بن عُتْبة، عن أبي مسعود الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يزالُ هذا الأمرُ فيكم وأنتم وُلاتُه ما لم تُحدِثوا أعمالًا تَنزِعُه منكم، فإذا فعلتُم ذلك سَلَّطَ اللهُ عليكم شِرارَ خلقِه، فالتَحَوْكم كما يُلتَحى القضيبُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8534 - صحيح
سیدنا ابوسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خلافت ہمیشہ تم میں رہے گی اور تم امیر رہو گے جب تک کہ تم من گھڑت اعمال کو نہ اپنا لو گے، جب تم من گھڑت اعمال کو اپنا لو گے تو خلافت تم سے چھن جائے گی، اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ تم پر دنیا کے خبیث ترین لوگوں کو تمہارا حکمران بنا دے گا، وہ تمہیں اس طرح چھیل کر رکھ دیں گے جیسے کاٹی ہوئی شاخ کو چھیلا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8744]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں