المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
96. من قرأ سورة الكهف لم يسلط عليه الدجال
جس نے سورہ کہف کی تلاوت کی، دجال اس پر غالب نہیں آ سکے گا
حدیث نمبر: 8773
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، حدثنا سعيد بن سِنان، عن أبي الزاهريَّة، عن كَثير بن مُرَّة، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ سُئِلَ عن طعام المؤمنين في زمن الدَّجّال، قال:"طعامُ الملائكةِ" قالوا: وما طعامُ الملائكة؟ قال:"طعامُهم مَنطِقُهم بالتسبيح والتقديس، فمن كان مَنطِقُه يومئذٍ التسبيحَ والتقديسَ، أَذهَبَ اللهُ عنه الجوعَ فلم يَخْشَ جُوعًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8561 - كلا فسعيد متهم تالف
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8561 - كلا فسعيد متهم تالف
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ دجال کے زمانے میں مومنوں کا طعام کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مومنوں کا وہی طعام ہو گا جو) فرشتوں کا طعام ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کا طعام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا طعام، اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل ہے، اس زمانے میں جو شخص تسبیح و تہلیل کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے بھوک ختم فرما دے گا، اس کے بعد اس کو بھوک کا کوئی خوف نہیں رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8773]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8773 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده واهٍ من أجل سعيد بن سنان: وهو الشامي، وقال الذهبي في "تلخيصه": سعيد متَّهم تالف. أبو الزاهرية: هو حدير بن كريب.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند سعید بن سنان کی وجہ سے واہی (انتہائی کمزور) ہے؛ یہ شامی ہیں، اور ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں کہا: "سعید متہم اور تالف (تباہ شدہ) ہے"۔ 🔍 فنی نکتہ: ابو الزاہریہ کا نام حدیر بن کریب ہے۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (1588) عن الحكم بن نافع، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (1588) میں حکم بن نافع سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وفي الباب نحوه عن عائشة عند أحمد 41 / (24470).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں اسی طرح کی روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسند احمد (41/24470) میں موجود ہے۔
وعن أسماء بنت يزيد عنده أيضًا 45/ (27568).
🧩 متابعات و شواہد: اور حضرت اسماء بنت یزید سے بھی احمد ہی میں (45/27568) موجود ہے۔
وعن أبي أمامة في آخر حديثه عند ابن ماجه (4077). وأسانيد الثلاثة ضعيفة، وباجتماع هذه الأحاديث الثلاثة يحتمل أن يكون للحديث في هذا المعنى أصل، والله تعالى أعلم.
🧩 متابعات و شواہد: اور حضرت ابو امامہ کی حدیث کے آخر میں ابن ماجہ (4077) میں موجود ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ان تینوں کی اسانید ضعیف ہیں، لیکن ان تینوں احادیث کے جمع ہونے سے احتمال ہے کہ اس مفہوم کی حدیث کی کوئی نہ کوئی اصل (بنیاد) موجود ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔