المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
96. من قرأ سورة الكهف لم يسلط عليه الدجال
جس نے سورہ کہف کی تلاوت کی، دجال اس پر غالب نہیں آ سکے گا
حدیث نمبر: 8774
وأخبرنا بكر بن محمد المَرْوَزي، حدثنا أبو الأحوص القاضي، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثني عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان، عن أبي هاشم، عن أبي مِجلَز، عن قيس بن عُبَادٍ، عن أبي سعيد الخُدْري قال: مَن قرأَ سورةَ الكهف كما أُنزِلَت، ثم خرج إلى الدَّجّال، لم يُسلَّطْ عليه، ولم يكن له عليه سبيل (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8562 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8562 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس نے سورہ کہف اسی طرح پڑھی جیسے وہ نازل ہوئی ہے، پھر وہ دجال كی طرف نكلے تو دجال اس پر غالب نہیں آ سكے گا۔ راوی كو شک ہے كہ یہاں پر سیدنا ابوسعید خدری نے ” لم یسلط علیہ “ کے الفاظ ارشاد فرمائے یا ” لم یكن لہ علیہ سبیل “ کے الفاظ بولے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8774]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8774 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل نعيم بن حماد، وقد توبع، واختلف في وقفه ورفعه كما سلف بيانه برقم (2097)، وهو وإن كان الأشهر وقفه على أبي سعيد، إلّا أنَّ له حكم المرفوع، إذ لا مجال للرأي فيه كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 5/ 39.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند نعیم بن حماد کی وجہ سے حسن ہے، اور ان کی متابعت بھی کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اس حدیث کے موقوف اور مرفوع ہونے میں اختلاف ہے جیسا کہ نمبر (2097) پر اس کا بیان گزر چکا ہے۔ اگرچہ یہ حضرت ابو سعید خدری پر موقوف ہونے کے حوالے سے زیادہ مشہور ہے، لیکن یہ "حکمِ مرفوع" میں ہے (یعنی نبی ﷺ ہی کا فرمان سمجھا جائے گا)، کیونکہ ایسی باتوں میں ذاتی رائے (اجتہاد) کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "نتائج الافکار" (5/39) میں فرمایا ہے۔
والحديث في "الفتن" لنعيم بن حماد برقم (1582).
📖 حوالہ: یہ حدیث نعیم بن حماد کی کتاب "الفتن" میں نمبر (1582) پر ہے۔
وقد سلف برقم (2098) من طريق أحمد بن حنبل وأبي موسى الزَّمِن عن عبد الرحمن بن مهدي.
📝 نوٹ: یہ حدیث نمبر (2098) پر احمد بن حنبل اور ابو موسیٰ زمن کے طریق سے، عبدالرحمن بن مہدی کے واسطے سے گزر چکی ہے۔