🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. ابكوا على الدين إذا وليه غير أهله
دین پر اس وقت آنسو بہاؤ جب اس کے حکمران نااہل لوگ بن جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8785
حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا أبو عِصْمةَ سهل بن المتوكِّل، حدثنا محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا جعفر بن سليمان، حدثنا فَرقَد السَّبَخي، عن عاصم بن عمرو، عن أبي أُمامة، عن النبي ﷺ قال:"يَبيتُ قومٌ من هذه الأمَّة على طعامٍ وشرابٍ ولهوٍ فيُصبِحون قد مُسِخُوا خنازيرَ، ولَيُخسَفَنَّ بقبائلَ فيها وفي دُورٍ فيها، حتى يُصبِحوا فيقولوا: خُسِفَ الليلةَ ببني فلان، خُسِفَ الليلةَ بدَارٍ (2) ، ولَيُرسَلنَّ عليهم حَصْباءُ حجارةٌ كما أُرسِلت على قوم لوطٍ، على قبائلَ فيها، وعلى دورٍ منها، وليُرسَلنَّ عليهم الريحُ العقيمُ، قال: بشُربِهم (3) الخمرَ، وأكلِهم الرِّبا، ولُبسِهم، الحريرَ، واتخاذِهم القَيْناتِ، وقَطيعتِهم الرِّحِمَ"؛ قال: وذكر خَصْلةً أخرى فنسيتُها (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم لجعفر، فأما فَرقَدٌ فإنهما لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8572 - صحيح
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس امت کے کچھ لوگ کھانے پینے اور لہو و لعب میں رات گزاریں گے اور صبح کے وقت ان کی شکلیں خنزیروں کی شکلوں میں بدل چکی ہوں گی، ان میں پورے پورے قبیلے زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے، اور وہاں کی بستیاں تباہ کر دی جائیں گی، صبح کے وقت لوگ آپس میں یوں باتیں کر رہے ہوں گے کہ گزشتہ رات دار بنی فلاں کا فلاں قبیلہ زمین میں دھنسا دیا گیا، اور ان پر پتھروں والی سخت آندھی بھیجی گئی، جیسا کہ قوم لوط پر بھیجی گئی تھی، اور ان پر سخت تیز آندھی بھیجی گئی ہے، اس نے ان کو تباہ کر دیا ہے، جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو شراب نوشی اور سود خوری، ریشم پہننے اور گانے والی لونڈیاں اختیار کرنے اور قطع رحمی کی وجہ سے تباہ کر دیا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: یہاں پر ان کی ایک اور بھی خصلت بیان کی گئی تھی، وہ میں بھول چکا ہوں۔ ٭٭ جعفر کی روایت کے مطابق یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور فرقد کی روایات امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8785]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8785 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) هكذا في النسخ الخطية، وفي مصادر التخريج: بدار فلان، وهو أوضح.
📝 تحقیقِ متن: قلمی نسخوں میں ایسا ہی ہے، جبکہ تخریج کے مصادر میں "بدار فلان" (فلاں کے گھر میں) ہے اور یہ زیادہ واضح ہے۔
(3) في النسخ الخطية: قال: وإن شربهم، وأثبتنا ما في مصادر التخريج لوجاهته.
📝 تحقیقِ متن: قلمی نسخوں میں "قال: وإن شربهم" ہے، ہم نے وہ متن ثابت کیا ہے جو تخریج کے مصادر میں ہے کیونکہ وہی زیادہ معقول ہے۔
(4) إسناده ضعيف بمرَّة من أجل فرقد السَّبخي، فالجمهور على تضعيفه، وهو منكر الحديث. وأخرجه أحمد 36/ (22231) عن سيار بن حاتم، عن فرقد السبخي، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند فرقد سبخی کی وجہ سے "ضعیف بمرہ" (سخت ضعیف) ہے؛ جمہور نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہیں۔ 📖 حوالہ: اسے احمد (36/22231) نے سیار بن حاتم سے، انہوں نے فرقد سبخی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 37/ (22790) من طريق صدقة بن موسى، عن فرقد، به.
📖 حوالہ: اسے عبداللہ بن احمد نے مسند احمد پر اپنی زیادات (37/22790) میں صدقہ بن موسیٰ کے طریق سے، انہوں نے فرقد سے اسی طرح تخریج کیا ہے۔
وقد ذكر أحمد وابنه عن فرقد في هذين الموضعين أسانيد أخرى لهذا الحديث عن النبي ﷺ بعضها مرسل، وهذه الأسانيد لا يتأتى اجتماعها إلّا لحافظ صنعتُه الحديث، وليس ذاك فرقدًا.
🔍 فنی نکتہ: امام احمد اور ان کے بیٹے نے ان دونوں مقامات پر فرقد سے نبی کریم ﷺ تک اس حدیث کی دیگر اسانید بھی ذکر کی ہیں جن میں سے بعض مرسل ہیں؛ ان اسانید کا اجتماع (یاد رکھنا) صرف اسی حافظِ حدیث کے بس کی بات ہے جو فنِ حدیث میں ماہر ہو، اور فرقد ایسے نہیں ہیں۔