🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

101. ابْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ
دین پر اس وقت آنسو بہاؤ جب اس کے حکمران نااہل لوگ بن جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8783
حدثنا أبو الطيِّب محمد بن الحسن الحِيرِي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يَعلَى بن عُبيد، حدثنا الأعمش، عن شَقِيق قال: قال عبد الله: كيف أنتم إذا لَبِسَتكم (1) فتنةٌ يَهرَمُ فيها الكبير، ويَربُو فيها الصغير، ويتخذها الناسُ سُنّةً، فإذا غُيِّرَت قالوا: غُيِّرَت السُّنة، قيل: متى ذلك يا أبا عبد الرحمن (2) ؟ قال: إذا كَثُرَت قرّاؤُكم [وقلَّتْ فقهاؤُكم، وكَثُرَت أُمراؤُكم، وقلَّتْ أُمناؤُكم] (3) والتُمِسَت الدنيا بعمل الآخرة (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8570 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ نے فرمایا: اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہو گی جب تم پر ایسا فتنہ آئے گا، جو بوڑھوں کو ہلاک کر دے گا اور اس میں بچے پرورش پائیں گے، اور لوگ اسی طریقے پر کاربند ہو جائیں گے، جب اس میں تبدیلی آئے گی تو لوگ کہیں گے: کیا طریقہ تبدیل ہو گیا ہے؟ ان سے پوچھا گیا: اے ابوعبدالرحمن یہ وقت کب آئے گا؟ انہوں نے فرمایا: جب تمہارے ہاں قاری بہت ہو جائیں، فقہاء کی کمی ہو جائے، تمہارا مال بہت زیادہ ہو جائے اور امین لوگ کم رہ جائیں، اور آخرت کے عمل کے بدلے دنیا تلاش کی جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8783]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8784
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد بن حاتم الدُّوري، حدثنا أبو عامر عبد الملك بن عَمْرو العَقَدي، حدثنا كَثير بن زيد، عن داود بن أبي صالح قال: أَقبل مروانُ يومًا، فوَجَدَ رجلًا واضعًا وجهَه على القبر، فأَخذ برَقَبتِه، وقال: أتدري ما تصنعُ؟ قال: نعم فأقبل عليه، فإذا هو أبو أيوب الأنصاريُّ، فقال: جئتُ رسولَ الله ﷺ ولم آتِ الحَجَر، سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا تَبكُوا على الدِّين إذا وَلِيَه أهلُه، ولكن ابكُوا عليه إذا وَلِيَه غيرُ أهلِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8571 - صحيح
داؤد بن ابی صالح فرماتے ہیں: ایک دن مروان آیا، اس نے دیکھا کہ ایک آدمی قبر پر اپنی پیشانی رکھے ہوئے ہے، مروان نے اس کو گردن سے پکڑا اور بولا: تمہیں معلوم ہے کہ تم کیا حرکت کر رہے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ جب انہوں نے مروان کی جانب چہرہ کیا تو وہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دین پر اس وقت مت رونا جب اس کی ذمہ داری اس کے اہل لوگوں کے پاس ہو، بلکہ اس وقت رونا جب اس کی ذمہ داری نااہل لوگوں کے پاس چلی جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8784]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8785
حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا أبو عِصْمةَ سهل بن المتوكِّل، حدثنا محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا جعفر بن سليمان، حدثنا فَرقَد السَّبَخي، عن عاصم بن عمرو، عن أبي أُمامة، عن النبي ﷺ قال:"يَبيتُ قومٌ من هذه الأمَّة على طعامٍ وشرابٍ ولهوٍ فيُصبِحون قد مُسِخُوا خنازيرَ، ولَيُخسَفَنَّ بقبائلَ فيها وفي دُورٍ فيها، حتى يُصبِحوا فيقولوا: خُسِفَ الليلةَ ببني فلان، خُسِفَ الليلةَ بدَارٍ (2) ، ولَيُرسَلنَّ عليهم حَصْباءُ حجارةٌ كما أُرسِلت على قوم لوطٍ، على قبائلَ فيها، وعلى دورٍ منها، وليُرسَلنَّ عليهم الريحُ العقيمُ، قال: بشُربِهم (3) الخمرَ، وأكلِهم الرِّبا، ولُبسِهم، الحريرَ، واتخاذِهم القَيْناتِ، وقَطيعتِهم الرِّحِمَ"؛ قال: وذكر خَصْلةً أخرى فنسيتُها (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم لجعفر، فأما فَرقَدٌ فإنهما لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8572 - صحيح
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس امت کے کچھ لوگ کھانے پینے اور لہو و لعب میں رات گزاریں گے اور صبح کے وقت ان کی شکلیں خنزیروں کی شکلوں میں بدل چکی ہوں گی، ان میں پورے پورے قبیلے زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے، اور وہاں کی بستیاں تباہ کر دی جائیں گی، صبح کے وقت لوگ آپس میں یوں باتیں کر رہے ہوں گے کہ گزشتہ رات دار بنی فلاں کا فلاں قبیلہ زمین میں دھنسا دیا گیا، اور ان پر پتھروں والی سخت آندھی بھیجی گئی، جیسا کہ قوم لوط پر بھیجی گئی تھی، اور ان پر سخت تیز آندھی بھیجی گئی ہے، اس نے ان کو تباہ کر دیا ہے، جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو شراب نوشی اور سود خوری، ریشم پہننے اور گانے والی لونڈیاں اختیار کرنے اور قطع رحمی کی وجہ سے تباہ کر دیا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: یہاں پر ان کی ایک اور بھی خصلت بیان کی گئی تھی، وہ میں بھول چکا ہوں۔ ٭٭ جعفر کی روایت کے مطابق یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور فرقد کی روایات امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8785]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8786
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعْبة، عن سِمَاك بن حَرْب قال: سمعت جابر بن سَمُرة يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لتَفتَحَنَّ لكم كنوزَ كِسْرى الأبيضَ - أو الذي في الأبيض - عِصابةٌ من المسلمين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8573 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے لئے مسلمانوں کی ایک جماعت کسریٰ کے سفید خزانے کھولے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8786]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں