🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

101. ابْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ
دین پر اس وقت آنسو بہاؤ جب اس کے حکمران نااہل لوگ بن جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8784
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد بن حاتم الدُّوري، حدثنا أبو عامر عبد الملك بن عَمْرو العَقَدي، حدثنا كَثير بن زيد، عن داود بن أبي صالح قال: أَقبل مروانُ يومًا، فوَجَدَ رجلًا واضعًا وجهَه على القبر، فأَخذ برَقَبتِه، وقال: أتدري ما تصنعُ؟ قال: نعم فأقبل عليه، فإذا هو أبو أيوب الأنصاريُّ، فقال: جئتُ رسولَ الله ﷺ ولم آتِ الحَجَر، سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا تَبكُوا على الدِّين إذا وَلِيَه أهلُه، ولكن ابكُوا عليه إذا وَلِيَه غيرُ أهلِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8571 - صحيح
داود بن ابی صالح سے روایت ہے کہ ایک دن مروان آیا تو اس نے ایک شخص کو اپنا چہرہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) قبر مبارک پر رکھے ہوئے پایا، مروان نے اس شخص کو گردن سے پکڑا اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ تم کیا کر رہے ہو؟ جب وہ شخص مروان کی طرف متوجہ ہوا تو وہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے (مروان کے جواب میں) فرمایا: ہاں (مجھے بخوبی علم ہے)، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں، میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: دین پر اس وقت آنسو نہ بہاؤ جب اس کے ذمہ دار اس کے اہل (صالح اور حق دار) لوگ ہوں، بلکہ اس وقت دین پر گریہ و زاری کرو جب اس کے والی و وارث وہ لوگ بن جائیں جو اس کے اہل نہ ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8784]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8784] [ترقيم الشركة 8674] [ترقيم العلميه 8571]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8785
حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا أبو عِصْمةَ سهل بن المتوكِّل، حدثنا محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا جعفر بن سليمان، حدثنا فَرقَد السَّبَخي، عن عاصم بن عمرو، عن أبي أُمامة، عن النبي ﷺ قال:"يَبيتُ قومٌ من هذه الأمَّة على طعامٍ وشرابٍ ولهوٍ فيُصبِحون قد مُسِخُوا خنازيرَ، ولَيُخسَفَنَّ بقبائلَ فيها وفي دُورٍ فيها، حتى يُصبِحوا فيقولوا: خُسِفَ الليلةَ ببني فلان، خُسِفَ الليلةَ بدَارٍ (2) ، ولَيُرسَلنَّ عليهم حَصْباءُ حجارةٌ كما أُرسِلت على قوم لوطٍ، على قبائلَ فيها، وعلى دورٍ منها، وليُرسَلنَّ عليهم الريحُ العقيمُ، قال: بشُربِهم (3) الخمرَ، وأكلِهم الرِّبا، ولُبسِهم، الحريرَ، واتخاذِهم القَيْناتِ، وقَطيعتِهم الرِّحِمَ"؛ قال: وذكر خَصْلةً أخرى فنسيتُها (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم لجعفر، فأما فَرقَدٌ فإنهما لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8572 - صحيح
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کے کچھ لوگ (رات کو) کھانے پینے اور لہو و لعب (کھیل کود) پر مگن رات بسر کریں گے، پس وہ اس حال میں صبح کریں گے کہ انہیں خنزیروں کی شکل میں مسخ کر دیا گیا ہوگا، اور یقیناً بعض قبائل اور گھرانوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، یہاں تک کہ لوگ صبح اٹھ کر کہیں گے: آج رات فلاں قبیلے کو زمین میں دھنسا دیا گیا، آج رات فلاں گھر زمین میں دھنس گیا، اور یقیناً ان پر پتھروں کی بارش بھیجی جائے گی جیسے قومِ لوط پر بھیجی گئی تھی، یہ عذاب بعض قبائل اور ان کے گھروں پر آئے گا، اور ان پر بانجھ (تباہ کن) ہوا بھیجی جائے گی، (اور یہ سب عذاب) ان کے شراب پینے، سود کھانے، (مردوں کے) ریشم پہننے، گانے والی عورتیں رکھنے اور قطع رحمی (رشتہ داروں سے تعلق توڑنے) کی وجہ سے ہوگا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور خصلت کا بھی ذکر کیا تھا جسے میں بھول گیا ہوں۔
یہ حدیث جعفر (کی روایت) کی وجہ سے امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، رہا فرقد تو اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8785]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرَّة من أجل فرقد السَّبخي، فالجمهور على تضعيفه، وهو منكر الحديث» [ترقيم الرساله 8785] [ترقيم الشركة 8675] [ترقيم العلميه 8572]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرَّة من أجل فرقد السَّبخي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8786
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعْبة، عن سِمَاك بن حَرْب قال: سمعت جابر بن سَمُرة يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لتَفتَحَنَّ لكم كنوزَ كِسْرى الأبيضَ - أو الذي في الأبيض - عِصابةٌ من المسلمين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8573 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مسلمانوں کی ایک جماعت ضرور کسریٰ کے سفید خزانے کو — یا فرمایا کہ وہ خزانہ جو سفید محل میں ہے — فتح کرے گی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8786]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، عبد الرحمن بن الحسن القاضي» [ترقيم الرساله 8786] [ترقيم الشركة 8676] [ترقيم العلميه 8573]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8787
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتَيبة القاضي بمصر، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي، حدثنا عمران القَطّان، عن قَتَادة، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"بادِروا بالأعمال سِتًّا: قبلَ طلوع الشمس من مَغرِبها، والدُّخان، والدَّجّال، ودابَّةِ الأرض، وخُوَيصَّةِ أحدكم، وأمرِ العامَّة" (2) . قد احتجَّ مسلم بعبد الله بن رَبَاح.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8574 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ چیزوں کے (ظہور پذیر ہونے سے) پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو: سورج کا اپنے مغرب سے طلوع ہونا، دھواں، دجال، زمین سے نکلنے والا جانور (دابة الارض)، تم میں سے کسی کی انفرادی موت (کا فتنہ) اور قیامت (کا عام فتنہ)۔ امام مسلم نے عبداللہ بن رباح سے استدلال کیا ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8787]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد خولف فيه عمران بن داوَر القطان، وهو صدوق إلّا أنه يهم ويخالف، وقد خالفه كبار أصحاب قتادة وثقاتهم فرووه عن قتادة عن الحسن عن زياد بن رِياح عن أبي هريرة كما سيأتي، وهو المحفوظ» [ترقيم الرساله 8787] [ترقيم الشركة 8677] [ترقيم العلميه 8574]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں