🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
110. لن تفتن أمتي حتى يظهر فيهم التمايز ، والتمايل ، والمقامع
میری امت اس وقت تک فتنے میں نہیں پڑے گی جب تک ان میں تفریق، کج روی اور ظلم ظاہر نہ ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8810
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا عثمان بن كَثير بن دينار، عن سعيد بن سِنان، عن أبي الزاهريَّة، عن أبي شَجَرة كَثير بن مُرَّة، عن حُذيفة بن اليمان قال: قال رسول الله ﷺ:"لن تَفْنى (4) أمَّتي حتى يظهرَ فيهم التمايزُ والتمايلُ والمَعامعُ" قلت: يا رسول الله، ما التمايزُ؟ قال:"التمايزُ عصبيَّةٌ يُحدِثها الناسُ بعدي في الإسلام" قلت: فما التمايلُ؟ قال:"يَميل القبيلُ على القَبيل فيستحلُّ حُرمتَها" قلت: فما المَعامعُ؟ قال:"تسير الأمصارُ بعضُها إلى بعض تختلفُ أعناقُها في الحرب" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8597 - بل سعيد متهم به
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں اس وقت تک فتنہ نہیں ہو گا جب تک کہ ان میں تمایز، تمایل اور مقاطع ظاہر نہیں ہو گا۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمایز کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمایز، وہ عصبیت ہے جو لوگ میرے بعد اسلام میں پیدا کر لیں گے۔ میں نے پوچھا: تمایل کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک قبیلہ، دوسرے قبیلہ پر مائل ہو گا اور اس کی حرمت کو حلال سمجھ لے گا۔ میں نے پوچھا: مقاطع کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہروں کی سیر ہے، جنگ میں ان کی ایک دوسرے کے ساتھ گردنیں پھنسیں گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8810]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8810 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) في (ز) و (ب): تفتن، والمثبت من (ك) و (م) و "التلخيص"، وهو الموافق لما في "الفتن" لنعيم.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "تفتن" ہے، جبکہ ہم نے متن نسخہ (ک)، (م) اور "التلخیص" سے ثابت کیا ہے، اور یہی نعیم کی کتاب "الفتن" کے موافق ہے۔
(1) إسناده واهٍ من أجل سعيد بن سنان - وهو الشامي - فإنه متروك، واتهمه الدارقطني وغيره بالوضع، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه". أبو الزاهرية: هو حُدير بن كريب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "سعید بن سنان"—جو کہ شامی ہیں—کی وجہ سے "واہی" (انتہائی کمزور) ہے، کیونکہ وہ "متروک" راوی ہیں، دارقطنی وغیرہ نے ان پر حدیث گھڑنے (وضع) کا الزام لگایا ہے، اور اسی بنا پر ذہبی نے "تلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو الزاہریہ سے مراد "حدیر بن کریب" ہیں۔
والحديث في "الفتن" لنعيم بن حماد (35) و (646) عن عثمان بن كثير والحكم بن نافع، عن سعيد بن سنان، وزاد فيه بين كثير بن مرة وحذيفة عبدَ الله بنَ عمر.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث نعیم بن حماد کی "الفتن" (35) اور (646) میں عثمان بن کثیر اور حکم بن نافع عن سعید بن سنان کے واسطے سے ہے، اور اس میں انہوں نے کثیر بن مرہ اور حذیفہ کے درمیان "عبداللہ بن عمر" (کے واسطے) کا اضافہ کیا ہے۔
والقَبيل: الجماعة، وكالقبيلة.
📝 نوٹ / توضیح: "القبیل" کا معنی جماعت ہے، جیسے قبیلہ ہوتا ہے۔