المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
112. مكالمة أسماء مع الحجاج بعد ابن الزبير
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی حجاج سے گفتگو
حدیث نمبر: 8815
فحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا عَوف، حدثنا أبو الصِّدِّيق قال: لما ظَفِرَ الحجّاجُ على ابن الزُّبير فقتله ومَثَّل به، ثم دخل على أم عبد الله، وهي أسماءُ بنت أبي بكر، فقالت: كيف تستأذنُ علي وقد قتلتَ ابني؟! فقال: إِنَّ ابنك أَلحَدَ في حَرَم الله، فقتلتُه مُلحِدًا عاصيًا، حتى أذاقه الله عذابًا أليمًا، وفَعَلَ به وفَعَل، فقالت: كذبت يا عدوَّ الله وعدوَّ المسلمين، والله لقد قتلته صوّامًا قوامًا بَرًّا بوالديه، حافظًا لهذا الدِّين، ولئِن أفسدتَ عليه دُنْياه، لقد أفسد عليك آخرتكَ، ولقد حدَّثَنا رسول الله ﷺ: أنه يخرج من ثَقيفٍ كذَّابانِ، الآخِرُ منهما أشرُّ من الأول، وهو المُبِير، وما هو إلَّا أنت يا حجَّاجُ (1) .
ابوالصدیق بیان کرتے ہیں کہ جب حجاج نے ابن زبیر پر چڑھائی کر لی اور ان کو شہید کر کے ان کا مثلہ کر دیا، پھر وہ ام عبداللہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: تو میرے بیٹے کو قتل کر کے، میرے پاس کیوں آیا ہے؟ اس نے کہا: تیرے بیٹے نے اللہ تعالیٰ کے حرم میں بددینی کی ہے، میں نے اس کو بددین اور گنہگار (ہونے کی وجہ سے) قتل کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسے دردناک عذاب دیا ہے، اور اس کا بہت برا حشر کیا ہے۔ سیدہ اسماء نے فرمایا: اے اللہ کے اور مسلمانوں کے دشمن، تو جھوٹ بول رہا ہے، اللہ کی قسم! تو نے اس کو قتل کیا، وہ روزہ دار، شب زندہ دار، اور ماں باپ کا فرمانبردار تھا، اس دین کا محافظ تھا، تو نے اس کی صرف دنیا تباہ کی ہے، لیکن تو نے اپنی آخرت برباد کر لی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا کہ قبیلہ ثقیف سے دو کذاب ظاہر ہوں گے، ان میں سے دوسرا پہلے سے زیادہ برا ہو گا، اور وہ ” مبیر “ (یعنی ہلاک کرنے والا) ہو گا۔ اے حجاج، وہ تو ہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8815]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8815 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح عوف هو: ابن أبي جميلة، وأبو الصديق هو الناجي بكر بن عمرو، ويقال: ابن قيس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عوف سے مراد "ابن ابی جمیلہ" ہیں، اور ابو الصدیق سے مراد "الناجی بکر بن عمرو" ہیں، جنہیں ابن قیس بھی کہا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (26967) عن إسحاق بن يوسف الأزرق، عن عوف، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (44/ 26967) میں اسحاق بن یوسف الازرق عن عوف کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسلف برقم (6479) من حديث أبي نوفل بن أبي عقرب بالقصة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث نمبر (6479) میں ابو نوفل بن ابی عقرب کی حدیث سے مکمل قصے کے ساتھ گزر چکی ہے۔
ألحد: أي ظلم وعَدَا، وأصل الإلحاد: الميل والعدول عن الشيء.
📝 نوٹ / توضیح: "ألحد": یعنی اس نے ظلم اور زیادتی کی۔ الحاد کا اصل معنی کسی چیز سے مائل ہونا اور ہٹ جانا ہے۔
والمبير: المهلك الذي يسرف في إهلاك الناس.
📝 نوٹ / توضیح: "المبیر": وہ ہلاک کرنے والا جو لوگوں کو ہلاک کرنے میں حد سے بڑھ جائے۔