المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
113. يخرج الدجال من أرض خراسان
دجال خراسان کی سرزمین سے نکلے گا
حدیث نمبر: 8821
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن سعيد الجَمَّال، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن أبي التَّيّاح، عن المغيرة بن سُبَيع (3) ، عن عمرو بن حُريث، عن أبي بكر الصِّدّيق: حدَّثَنا رسول الله ﷺ:"أَنَّ الدَّجالَ يخرج من أرضٍ بالمَشرِق يقال لها: خُراسانُ، يَتبَعُه أقوامٌ كأَنَّهم (4) المَجَانُّ المُطرَقة" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه عبد الله بن شَوذَب عن أبي التَّياح مثلَ رواية سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8608 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه عبد الله بن شَوذَب عن أبي التَّياح مثلَ رواية سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8608 - صحيح
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال مشرقی علاقے خراسان سے نکلے گا، کچھ لوگ اس کی پیروی کریں گے، ان کے چہرے ڈھال کی طرح ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو عبداللہ بن شوذب نے ابوالتیاح کے واسطے سے مغیرہ بن سبیع سے، انہوں نے عمرو بن حریث سے یوں روایت کی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے، جب کچھ افاقہ ہوا تو آپ نے نماز پڑھائی، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دجال مشرقی علاقے کی سرزمین خراسان سے نکلے گا، کچھ لوگ اس کی پیروی کریں گے، ان کے چہرے ڈھال کی طرح ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8821]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8821 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في النسخ الخطية: سبع: سبع، والصواب ما أثبتنا.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "سبع: سبع" ہے، درست وہی ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے۔
(4) هكذا في النسخ الخطية، وفي "تلخيص الذهبي": كأنَّ وجوههم، وهو الموافق لمصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں ایسا ہی ہے، جبکہ "تلخیص الذہبی" میں "کأن وجوھھم" (گویا کہ ان کے چہرے) ہے، اور یہی تخریج کے مصادر کے موافق ہے۔
(5) إسناده حسن من أجل المغيرة بن سبيع، فقد روى عنه ثلاثة وذكره ابن حبان في "الثقات"، وذكر البرقاني عن الدارقطني أنه قال فيه: يحتج به. وبالغ الحافظ ابن حجر في "التقريب" فأطلق القول بتوثيقه. أبو التباح هو يزيد بن حميد الضُّبعي وعمرو بن حريث: هو عمرو بن حريث بن عمرو القرشي المخزومي، وهو صحابي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند مغیرہ بن سبیع کی وجہ سے "حسن" ہے، کیونکہ ان سے تین راویوں نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا، اور برقانی نے دارقطنی سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا: "اس سے حجت پکڑی جا سکتی ہے"۔ حافظ ابن حجر نے "التقریب" میں مبالغہ کرتے ہوئے ان کی مطلق توثیق کا قول اختیار کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (رجال): ابو التباح سے مراد "یزید بن حمید الضبعی" ہیں، اور عمرو بن حریث سے مراد "عمرو بن حریث بن عمرو القرشی المخزومی" ہیں جو کہ صحابی ہیں۔
وأخرجه أحمد (1/ (12) و (33) عن روح بن عبادة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (1/ 12 اور 33) میں روح بن عبادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (4072)، والترمذي (2237) من طرق عن روح به. وقال الترمذي: حديث حسن غريب. وانظر ما بعده. والمجانّ المطرقة: هي التُّروس التي تُطرق، يعني أنها عريضة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4072) اور ترمذی (2237) نے روح سے متعدد طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن غریب" ہے۔ اس کے بعد والی حدیث بھی دیکھیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: "المجان المطرقة" سے مراد وہ ڈھالیں ہیں جنہیں کوٹ کر بنایا گیا ہو (تہہ در تہہ)، یعنی وہ چوڑی اور پھیلی ہوئی ہیں۔