🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
117. عرض ما بين أذني حمار الدجال أربعون ذراعا
دجال کے گدھے کے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8826
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ﵀، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن أبي الطُّفَيل، عن حُذيفة بن أَسِيد؛ قال (1) : كنت بالكوفة فقيل: خرج الدَّجّالُ، قال: فأتَينا على حذيفة بن أَسيد وهو يحدِّث، فقلت: هذا الدجالُ قد خرج، فقال: اجلِسْ، فجلستُ، فأَتى علينا العَريفُ (2) فقال: هذا الدجالُ قد خرج وأهل الكوفة يُطاعِنونَه، قال: اجلِسْ، فجلس، فنودِيَ: إنها كَذْبةُ صَبَّاغ (3) . قال: فقلنا: يا أبا سَريحةَ، ما أجلستَنا إلَّا لأمرٍ، فحدِّثنا، قال: إنَّ الدجال لو خرج في زمانِكم، لرَمَتْه الصِّبيانُ بالخَزَف (4) ، ولكن الدجال يخرج في نقص من الناس وخِفَّة من الدِّين وسوءِ ذاتِ بَينٍ، فيَرِدُ كلَّ مَنْهَلٍ، فتُطَوى له الأرضُ طيَّ فَرْوةِ الكَبْش، حتى يأتيَ المدينة، فيغلبُ على خارجِها ويمنع داخلَها، ثم جبلَ إيلِياءَ (5) فيحاصرُ عِصابةً من المسلمين، فيقول لهم الذين عليهم: ما تنتظرون بهذا الطاغيةِ أن تقاتلوه حتى تَلحَقوا بالله أو يُفتَحَ لكم؟! فيأتمِرون أن يقاتلوه إذا أصبحوا، فيُصبِحون ومعهم عيسى ابن مريمَ، فيَقتُل الدَّجالَ ويَهزِمُ أصحابَه، حتى إنَّ الشجر والحجر والمَدَر يقول: يا مؤمنُ، هذا يهوديٌّ عندي فاقتُلْه، قال: وفيه ثلاثُ علامات: هو أعورُ، وربُّكم ليس بأعورَ، ومكتوبٌ بين عينيه: كافر، يقرؤُه كلُّ مؤمنٍ أُمِّيٍّ وكاتب، ولا تُسخَّرُ له المَطايا إِلَّا الحمارُ، فهو رِجسٌ على رجس. ثم قال: أنا لغيرِ الدجال أخوفُ عليَّ وعليكم، قال: فقلنا: ما هو يا أبا سَرِيحة؟ قال: فتنٌ كأنها قِطَعُ الليل المظلِم، قال: فقلنا: أيُّ الناس فيها شرٌّ؟ قال: كلُّ خطيبٍ مِصقَع، وكلُّ راكبٍ مُوضِع (1) ، قال: فقلنا: أيُّ الناس خيرٌ؟ قال: كلُّ غنيٍّ خفيّ، قال: فقلت: ما أنا بالغنيِّ ولا بالخفيِّ، قال: فكن كابنِ اللَّبُون، لا ظهر فيُركَبَ، ولا ضَرْعَ فيُحلَبَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8612 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوالطفیل فرماتے ہیں: میں کوفہ میں تھا، یہ شور ہوا کہ دجال ظاہر ہو گیا ہے، ہم سیدنا حذیفہ بن اسید کے پاس آئے، اس وقت وہ حدیثیں بیان کر رہے تھے، میں نے کہا: دجال تو ظاہر ہو گیا ہے، انہوں نے کہا: بیٹھ جاؤ، میں بیٹھ گیا، ایک نجومی میرے پاس آیا اور کہنے لگا: دجال ظاہر ہو گیا ہے اور کوفہ والوں نے اس کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے۔ انہوں نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں پھر بیٹھ گیا، پھر ندا دی گئی کہ وہ جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابوسریحہ آپ نے ہمیں جس کام سے بٹھایا ہوا ہے، آپ ہمیں اس بارے میں حدیث سنائیں۔ انہوں نے فرمایا: اگر تمہارے زمانے میں دجال ظاہر ہو جائے تو اس کو بچے ہی مار ڈالیں گے، دجال اس وقت نکلے گا جب لوگوں کا آپس میں بغض ہو گا اور دین کے معاملات بہت ہلکے سمجھے جائیں گے، آپس کے تعلقات درست نہیں ہوں گے، وہ ہر گھاٹ پر آئے گا، اس کے لئے زمین سمیٹ دی جائے گی، جیسا کہ مینڈھے کی کھال (اتار کر) تہہ کر لی جاتی ہے۔ حتی کہ وہ مدینہ میں آئے گا، وہ مدینہ کے باہر کے لوگوں پر غالب آ جائے گا اور اس کے اندر والوں پر غالب نہیں آ سکے گا۔ پھر وہ ایلیاء کی طرف جائے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت کا محاصرہ کر لے گا، یہ لوگ آپس میں مشورہ کریں گے کہ تم لوگ اس سرکش کے ساتھ جہاد کرنے میں کس بات کا انتظار کر رہے ہو؟ تم جہاد کرو، اللہ تعالیٰ سے جا ملو، یا فتح حاصل کر لو، وہ یہ فیصلہ کر لیں گے کہ صبح کے وقت جنگ شروع کر دی جائے گی، لیکن جب صبح ہو گی تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ان کے ہمراہ ہوں گے، وہ دجال کو قتل کریں گے، اس کے ساتھیوں کو شکست دیں گے، حتی کہ درخت، پتھر اور جھاڑیاں پکار پکار کر کہیں گی کہ اے مومن! یہ میرے پاس یہودی ہے، اس کو قتل کر دو، اس میں تین نشانیاں ہوں گی، وہ کانا ہو گا جبکہ تمہارا رب ایسا نہیں ہے، اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہو گا، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ اس کو پڑھے گا، وہ صرف گدھے پر سواری کرے گا۔ وہ پلید در پلید ہو گا، پھر فرمایا: مجھے اپنے اوپر اور تم پر دجال کے علاوہ بھی ایک بہت بڑا ڈر ہے، ہم نے پوچھا: اے ابوسریحہ، وہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا: اندھیری رات کی طرح فتنے آئیں گے۔ ہم نے کہا: ان فتنوں میں سب سے برا شخص کون ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: ہر فصیح و بلیغ خطیب اور تیز اونٹ پر سواری کرنے والا۔ ہم نے کہا: ان فتنوں کے زمانے میں سب سے افضل کون ہو گا؟ فرمایا: ہر پوشیدہ مالدار۔ میں نے کہا: میں تو نہ ہی مالدار ہوں اور نہ ہی پوشیدہ ہوں، فرمایا: تو اونٹ کے چھوٹے بچے کی طرح ہو جا، نہ تو اس کی پشت پر بوجھ لادا جاتا ہے اور نہ ہی اس میں دودھ ہوتا ہے کہ دوہا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8826]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8826 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) القائل هو أبو الطقيل: وهو عامر بن واثلة، صحابي صغير.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (یہ بات) کہنے والے "ابو الطفیل" ہیں: وہ عامر بن واثلہ ہیں، جو صحابی صغیر ہیں۔
(2) يعني عريف القوم، وهو المقدَّم عليهم الذي يتعرف أخبارهم ويفتش عن أحوالهم.
📝 نوٹ / توضیح: (عریف): یعنی قوم کا نقیب/سردار، وہ شخص جسے ان پر مقدم کیا گیا ہو، جو ان کی خبریں رکھتا ہو اور ان کے حالات کی تفتیش کرتا ہو۔
(3) أي: صباغ الثياب، وروي عن أبي هريرة مرفوعًا عند أحمد 14/ (8302) وابن ماجه (2152) بإسناد ضعيف: "إِنَّ أكذب الناس الصباغون والصواغون". قال ابن الأثير في "النهاية": لأنهم يمطلون بالمواعيد.
📝 نوٹ / توضیح: (صباغ): یعنی کپڑے رنگنے والا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسند احمد (14/ 8302) اور ابن ماجہ (2152) میں ضعیف سند کے ساتھ مرفوعاً مروی ہے: "لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹے رنگریز اور سنار ہوتے ہیں"۔ ابن اثیر "النہایہ" میں فرماتے ہیں: (یہ اس لیے کہا گیا) کیونکہ وہ وعدوں میں ٹال مٹول کرتے ہیں۔
(4) الخزف: هو الفخّار المتحجر.
📝 نوٹ / توضیح: "الخزف": پتھرائی ہوئی مٹی (پکی مٹی/ٹھیکری) ہے۔
(5) يعني بيت المقدس.
📝 نوٹ / توضیح: اس سے مراد بیت المقدس ہے۔
(1) المِصقع: البليغ، والمُوضِع: المشتد في سيره، المسرع فيه.
📝 نوٹ / توضیح: "المصقع": بلیغ (فصیح بولنے والا)۔ "الموضع": اپنی چال میں شدت اختیار کرنے والا، تیز چلنے والا۔
(2) حديث صحيح، وهو في حكم المرفوع، فما ذكر فيه لا يقال من قبل الرأي، وهذا إسناد حسن من أجل معاذ بن هشام الدستوائي، وهو متابع
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ "حکماً مرفوع" ہے (یعنی نبی ﷺ کا فرمان سمجھی جائے گی)، کیونکہ جو کچھ اس میں ذکر ہوا ہے وہ رائے یا اجتہاد سے نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی سند معاذ بن ہشام الدستوائی کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في "السنة" (995) من طريق شعبة، عن قتادة قال: سمعت أبا الطفيل قال: مررت على حذيفة بن أَسيد … إلّا أنه لم يسق لفظ الحديث بتمامه، وذكر منه العلامات الثلاثة للدجال.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد نے "السنی" (995) میں شعبہ عن قتادہ کے طریق سے روایت کیا ہے، قتادہ کہتے ہیں میں نے ابو الطفیل کو سنا وہ کہتے ہیں: میں حذیفہ بن اسید کے پاس سے گزرا... البتہ انہوں نے پوری حدیث کے الفاظ ذکر نہیں کیے، صرف دجال کی تین نشانیوں کا ذکر کیا۔
ورواه دون الشطر الثاني منه معمر في "جامعه" (20827) عن قتادة، إلّا أنه أرسله، لم يذكر فيه أبا الطفيل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے معمر نے "جامع" (20827) میں قتادہ سے (حدیث کے) دوسرے حصے کے بغیر روایت کیا ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: مگر انہوں نے اسے "مرسل" بیان کیا ہے، اس میں ابو الطفیل کا ذکر نہیں کیا۔