المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
120. مكالمة ابن عمرو مع أهل العراق فى التحديث
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اہل عراق سے حدیث بیان کرنے کے متعلق گفتگو
حدیث نمبر: 8832
أخبرنا أحمد بن عثمان المقرئ وبكر بن محمد المروَزي قالا: حدثنا أبو قِلابة، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا أَبي، حدثنا حسين بن ذَكْوان، حدثنا عبد الله (2) بن بُرَيدة الأَسلمي، أن سليمان بن رَبِيعة الغبري (3) حدثه: أنه حجَّ مرةً في إمرة معاوية ومعه المنتصرُ بن الحارث الضَّبِّي في عصابةٍ من قُرّاء أهل البصرة، قال: فلما قَضَوْا نُسُكَهم قالوا: والله لا نَرجِعُ إلى البصرة حتى نلقى رجلًا من أصحاب محمدٍ ﷺ مَرْضيًّا، يحدِّثُنا بحديثٍ يُستَطرَفُ نحدِّثُ به أصحابَنا إذا رجعنا إليهم، قال: فلم نَزَل نسألُ حتى حُدِّثنا أنَّ عبد الله بن عمرو بن العاص نازلٌ بأسفل مكة، فعُدْنا إليه، فإذا نحن بثَقَلٍ عظيم (4) يرتحلون ثلاث مئة راحلة، منها مئةُ راحلةٍ ومئتا زاملةٍ، فقلنا: لمن هذا الثَّقَل؟ قالوا: لعبد الله بن عمرو، فقلنا: أكلُّ هذا له، وكنا نُحدَّث أنه من أشدِّ الناس تواضعًا؟ قال: فقالوا: ممَّن أنتم؟ فقلنا: من أهل العراق، قال: فقالوا: العَيبُ منكم حقٌّ يا أهل العراق، أمّا هذه المئةُ راحلةٍ، فلإخوانه يَحمِلُهم عليها، وأما المئتا زاملةٍ، فلمن نَزَلَ عليه من الناس، قال: فقلنا: دُلُّونا عليه، فقالوا: إنه في المسجد الحرام. قال: فانطلَقْنا نطلبُه حتى وَجَدْناه في دُبُر الكعبة جالسًا، فإذا هو قصيرٌ أَرمَصُ (1) أصلعُ بين بُردَين وعمامةٍ ليس عليه قميص، قد علَّق نعليه في شِماله، قال: فقلنا: يا عبد الله، إنك رجلٌ من أصحاب محمد ﷺ، فحدِّثنا حديثًا ينفعنا الله تعالى به بعد اليوم، قال: فقال لنا: ومن أنتم؟ قال: فقلنا له: لا تسألْ من نحن، حدِّثنا غفرَ الله لك، قال: فقال: ما أنا محدِّثَكم شيئًا حتى تُخبروني مَن أنتم، قلنا: وَدِدْنا أنك لم تَنقُدْنا وأعفَيتَنا وحدَّثتنا بعضَ الذي نسألك عنه، قال: فقال: والله لا أحدِّثُكم حتى تُخبروني من أيِّ الأمصار أنتم، قال: فلما رأَيناه حلفَ ولَجَّ، قلنا: فإنا ناسٌ من العراق، قال: فقال: أفٍّ لكم كلِّكم يا أهلَ العراق، إنكم تَكذِبون وتُكذِّبون وتَسخَرون، قال: فلما بلغ السُّخرِيَّ (2) ، وَجَدْنا من ذلك وَجْدًا شديدًا، قال: فقلنا: معاذَ الله أن نسخرَ من مثلِك، أما قولك: الكَذِبُ، فوالله لقد فَشَا في الناس الكذبُ وفينا، وأما التكذيبُ فوالله إنا لَنسمعُ الحديث لم نَسمعْ به من أحد نَثِقُ به، فإذا نكادُ نكذِّب به، وأما قولُك: السُّخريّ، فإنَّ أحدًا لا يسخرُ بمثلِك من المسلمين، فوالله إنك اليومَ لسيدُ المسلمين فيما نعلمُ نحن، إنك من المهاجرين الأوَّلين، ولقد بَلَغَنا أنك قرأتَ القرآن على محمدٍ ﷺ، وأنه لم يكن في الأرض قرشيٌّ أَبرَّ بوالدَيهِ منك، وأنك كنت أحسنَ الناس عينًا فأفسَدَ عينيك البكاءُ، ثم لقد قرأتَ الكتبَ كلَّها بعد رسول الله ﷺ، فما أحدٌ أفضلَ منك علمًا في أنفسِنا، وما نعلمُ بقيَ من العرب رجلٌ كان يرغَبُ عن فقهاءِ أهل مِصْرِه حتى يدخلَ إلى مِصْرٍ آخر يبتغي العلمَ عند رجل من العرب غيرَك، فحدِّثنا غفرَ الله لك، فقال: ما أنا بمحدِّثِكم حتى تُعطُوني مَوثِقًا أَلَّا تُكَذِّبوني ولا تَكذِبون عليَّ ولا تَسخَرون، قال: فقلنا: خذْ علينا ما شئت من مواثيق، فقال: عليكم عهدُ الله ومواثيقُه أن لا تُكذِّبوني ولا تَكذِبون عليَّ ولا تَسخَرون لما أحدِّثُكم، قال: فقلنا له: علينا ذاكَ، قال: فقال: إنَّ الله تعالى به عليكم كَفيلٌ ووَكِيل؟ فقلنا: نعم، فقال: اللهمَّ اشهَدْ عليهم. ثم قال عند ذاكَ: أما وربِّ هذا المسجدِ والبلد الحرام واليوم الحرام والشهرِ الحرام - ولقد استَسمنتُ اليمينَ أليس هكذا؟ قلنا: نعم، قد اجتهدتَ - قال: لَيُوشِكَنَّ بنو قَنطُوراء بن كركرى - قومٌ خُنْس الأنوف صِغارُ الأعيُن، كأنَّ وجوههم المَجَانُّ المُطرَقة - في كتاب الله المُنزَل أن يَسُوقوكم (1) من خُراسانَ وسِجستانَ سِياقًا عنيفًا، قومٌ يُوفُون اللَّمَم (2) ، وينتعلون الشَّعَر، ويَحتجِزون السيوفَ على أوساطهم (3) ، حتى ينزلوا الأُبُلّة، ثم قال: [وكم الأُبلّة] (4) من البصرة؟ قلنا: أربعُ فراسخَ، قال: ثم يَعقِدون بكل نخلة من نخل دِجْلة رأسَ فرسٍ، ثم يُرسِلون إلى أهل البصرة: أن اخرُجوا منها قبلَ أن تَنزِلَ عليكم، فيخرجُ أهلُ البصرة من البصرة، فيَلحَقُ لاحقٌ ببيت المقدِس، ويلحقُ آخرون بالمدينة، ويلحقُ آخرون بمكة، ويلحقُ آخرون بالأعراب (5) ، فلا يبقى أحدٌ من المصلِّين إلَّا قتيلًا وأسيرًا يحكمُون في دمِه ما شاؤوا. قال: فانصرَفْنا عنه وقد ساءَنا الذي حدَّثَنا، فمَشَينا من عنده غيرَ بعيدٍ، ثم انصرف المنتصرُ بنُ الحارث الضَّبِّي فقال: يا عبدَ الله بن عمرو قد حدَّثتنا فَظَعتَنا (1) فإنّا لا ندري من يدركُه منا، فحدِّثنا: هل بين يدَي ذلك علامةٌ؟ فقال عبد الله بن عمرو: لا تَعدَمْ عقلَك، نعم بين يدي ذلك أَمارةٌ، قال المنتصر بن الحارث: وما الأَمارةُ؟ قال: الأمارة: العَلَامة، قال له: وما تلك العلامة؟ قال: هي إِمارة الصِّبيان، فإذا رأيتَ إمارة الصِّبيان قد طَبَّقت الأرضَ، اعلَمْ أنَّ الذي أحدِّثُك قد جاء. قال: فانصرف عنه المنتصرُ فمشى قريبًا من غَلْوةٍ (2) ثم رجع إليه، قال: فقلنا له: عَلامَ تُؤْذِي هذا الشيخَ من أصحاب رسول الله ﷺ؟ فقال: والله لا أَنتهي حتى يبيِّنَ لي، فلما رجع إليه بيَّنه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8618 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8618 - على شرط مسلم
سلیمان بن ربیعہ العنزی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ کی امارت کے زمانے میں حج کیا، ان کے ہمراہ منتصر بن حارث الضبی بھی تھے اور ساتھ بصرہ کے قاریوں کی ایک جماعت تھی، جب یہ لوگ مناسک حج سے فارغ ہو چکے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم اس وقت تک واپس بصرہ نہیں جائیں گے جب تک کسی ایسے صحابی رسول کی زیارت نہ کر لیں جو ہمیں کوئی دلچسپ حدیث سنائے تاکہ جب ہم واپس جائیں تو اپنے ساتھیوں کو اس صحابی کے حوالے سے وہ حدیث سنائیں، ہم پوچھتے رہے، حتی کہ ہمیں پتہ چلا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بھی مکہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم نے ان کے پاس جانے کا ارادہ کر لیا، ہم نے ایک بہت بڑا بوجھ دیکھا جس کو تین سو لوگ اٹھا کر لے جا رہے تھے، ان میں ایک سو سوار تھے اور دو سو ان کے پیچھے چل رہے تھے، ہم نے پوچھا: یہ سامان کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا ہے۔ ہم نے کہا: یہ سارا ہی ان کا ہے؟ ہمیں تو یہ بتایا جاتا تھا کہ وہ بہت ہی عاجزی کرنے والے ہیں۔ لوگوں نے ہم سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ ہم نے بتایا کہ ہم عراق کے رہنے والے ہیں، انہوں نے کہا: اے عراقیو! تمہاری جو برائی بیان کی جاتی ہے وہ درست ہی کی جاتی ہے، یہ ایک سو جو سوار ہیں، یہ اس کے بھائیوں کے ہیں، ان کو وہ سوار کراتے ہے۔ اور جو دو سو ان کے پیچھے چل رہے ہیں یہ ان مہمانوں کے ہیں، ہم نے کہا: ہمیں ان تک پہنچنے کا راستہ بتاؤ، انہوں نے کہا: وہ مسجد الحرام میں ہیں۔ ہم ان کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچ گئے، ہم نے ان کو کعبہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے پایا، وہ چھوٹے قد والے تھے، آنکھیں کیچڑ والی تھیں، ان کے سر کے اگلے حصے کے بال جھڑے ہوئے تھے۔ دو چادریں اوڑھے ہوئے تھے، عمامہ پہنے ہوئے تھے، قمیص نہیں پہنی ہوئی تھی، اور اپنے بائیں جانب اپنے جوتے لٹکائے ہوئے تھے، ہم نے کہا: اے عبداللہ! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنا دیجئے جو ہمہیں آج کے بعد نفع دے۔ آپ نے پوچھا: تم کون ہو؟ ہم نے کہا: آپ یہ مت پوچھیں کہ ہم کون ہیں؟ آپ بس ہمیں حدیث سنا دیجئے، اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، انہوں نے فرمایا: تم جب تک اپنے بارے میں بتاؤ گے نہیں، تب تک میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا۔ ہم نے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری تفصیل نہ پوچھیں، نہیں معاف فرما دیں اور ہم نے جو گزارش کی ہے، آپ ہمیں کوئی حدیث سنا دیجئے، سیدنا عبداللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم جب تک یہ نہیں بتاؤ گے کہ تم کہاں سے آئے ہو، میں تمہیں کوئی حدیث نہیں سناؤں گا۔ ہم نے جب دیکھا کہ انہوں نے تو قسم کھا لی ہے اور ضد پر آ گئے ہیں تو ہم نے کہا: ہم عراق کے رہنے والے ہیں، سیدنا عبداللہ نے فرمایا: اے عراقیو! تم سب پر بہت افسوس ہے، تم جھوٹ بولتے ہو، جھٹلاتے ہو، اور مذاق اڑاتے ہو، جب سیدنا عبداللہ نے مذاق کی بات کی تو ہمیں بہت برا لگا۔ ہم نے کہا: کیا ہم آپ جیسے بزرگ کے ساتھ مذاق کریں گے؟ اور جہاں تک جھوٹ کی بات ہے تو اللہ کی قسم! عام لوگوں میں جھوٹ پھیل چکا ہے اور وہ ہم میں بھی آ گیا، اور جہاں تک جھٹلانے کا تعلق ہے، تو اللہ کی قسم! جب ہم کوئی ایسی حدیث سنتے ہیں جو کسی معتبر محدث سے مروی نہیں ہوتی تو ہم اس کو جھٹلا دیتے ہیں، اور جہاں تک مذاق کا تعلق ہے تو کوئی بھی مسلمان آپ جیسے عظیم المرتبت شخصیت سے مذاق نہیں کر سکتا، اللہ کی قسم! ہمارے علم کے مطابق آپ آج سید المسلمین ہیں، آپ اولین مہاجرین میں سے ہیں، ہمیں پتا چلا ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سیکھا ہے، اور یہ کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا روئے زمین پر آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے، اور یہ کہ آپ کی آنکھیں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں، آپ نے رو رو کر اپنی آنکھوں کو ضائع کر لیا ہے، اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ نے تمام کتابوں کو پڑھا ہے، ہمارے خیال کے مطابق علم میں آپ سے افضل کوئی نہیں ہے، اور آپ کے علاوہ دوسرا کوئی عربی شخص ایسا نہیں ہے جو اپنے شہر کے فقہاء سے بیزار ہو کر دوسرے شہر میں علم حاصل کرنے کے لئے کسی عربی کے پاس گیا ہو، آپ ہمیں حدیث سنا دیجئے، اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ نے فرمایا: میں اس وقت تک تمہیں حدیث نہیں سناؤں گا جب تک تم مجھ سے اس بات کا وعدہ نہ کر لو کہ تم مجھے جھٹلاؤ گے نہیں، میرے بارے میں جھوٹ نہیں بولو گے، اور مذاق نہیں اڑاؤ گے۔ ہم نے کہا: آپ جو چاہتے ہیں، ہم سے وعدہ لے لیں، انہوں نے فرمایا: میں تم سے اللہ کا وعدہ اور میثاق لیتا ہوں کہ تم مجھے جھٹلاؤ گے نہیں، اور نہ میرے بارے میں کوئی جھوٹ بولو گے، اور نہ میری بیان کردہ حدیث کا مذاق بناؤ گے، ہم نے کہا: ہمیں منظور ہے۔ تب انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کفیل اور وکیل ہے، ہم نے کہا: بالکل ٹھیک۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! ان پر گواہ ہو جا، پھر فرمایا: اس مسجد کے رب کی قسم! اس حرمت والے شہر کی قسم! حرمت والے دن کی قسم! حرمت والے مہینے کی قسم! میں نے بہت بڑی قسم دی ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں آپ نے قسم میں بہت محنت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: عنقریب ” بنو قطنوراء بن کرکر “ (یعنی ترکی)، جن کے ناک چپٹے ہوں گے، آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی، ان کے چہرے ڈھال کی مانند ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق ان کا حلیہ یہی ہو گا، وہ تمہیں خراسان اور سجستان سے سختی کے ساتھ ہانکیں گے، وہ ایسی قوم ہے جو اپنی خواہشات کو پورا کرتے ہیں۔ بالوں کے جوتے بنائیں گے، اور اپنی تلواروں کو اپنے پالان میں جمع کر کے رکھیں گے حتی کہ وہ ایلہ میں ٹھہریں گے، پھر فرمایا: بصرہ سے ایلہ تک کتنی مسافت ہے؟ ہم نے کہا: چار فرسخ۔ انہوں نے فرمایا: پھر دریائے دجلہ کے کنارے کھجوروں کے ہر درخت کے ساتھ ایک ایک گھوڑا باندھیں گے، پھر وہ اہل بصرہ کی جانب پیغام بھیجیں گے کہ ہمارے پہنچنے سے پہلے تم لوگ بصرہ سے نکل جاؤ، چنانچہ اہل بصرہ، بصرہ سے نکل جائیں گے، کوئی بیت المقدس کی طرف چلا جائے گا، کوئی مدینہ چلا جائے گا، اور کچھ لوگ مکہ میں چلے جائیں گے، اور باقی لوگ دیہاتوں کی طرف چلے جائیں گے، نمازیں پڑھنے والے یا قتل ہو چکے ہوں گے یا قیدی ہو چکے ہوں گے، وہ ان کے خونوں میں جو چاہیں گے فیصلہ کریں گے۔ ہم وہاں سے واپس لوٹے اور ان کی بیان کردہ حدیث سن کر رنجیدہ ہو چکے تھے، ہم بہت جلد وہاں سے واپس آ گئے، پھر منتصر بن حارث الضبی لوٹ کر آیا اور کہنے لگا: اے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ آپ نے حدیث سنا کر ہمیں پریشان کر دیا ہے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ ہم میں سے کون اس کو پائے گا، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی عقل ختم مت کر، اس سے پہلے امارتیں آ جائیں گی، منتصر بن حارث نے پوچھا: امارۃ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: لڑکوں کی امارت۔ جب تو دیکھے کہ روئے زمین پر لڑکوں کی امارتیں کثیر ہو چکی ہیں، تو جان لینا کہ میں نے جو بیان کیا ہے، اس کا وقت قریب آ گیا ہے، منتصر بن حارث واپس آ گئے، آپ کچھ دور تک گئے، پھر دوبارہ ان کے پاس گئے، ہم نے کہا: یہ بچہ صحابی رسول کو پریشان کر رہا ہے، اس نے کہا: میں ان کے پاس پہنچ کر ان کو تمہاری اس بات کی شکایت کروں گا۔ چنانچہ جب وہ ان کے پاس گئے تو ان لوگوں کی یہ بات ان کو بتائی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8832]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8832 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز) و (ك) و (ب): عبيد الله، مصغرًا، وهو خطأ، والتصويب من (م). ولا يعرف لبريدة ولد اسمه عبيد الله.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ک) اور (ب) میں (تصغیر کے ساتھ) "عبیداللہ" ہے جو کہ غلط ہے، درستگی (م) سے کی گئی ہے۔ بریدہ کا عبیداللہ نامی کوئی بیٹا معروف نہیں ہے۔
(3) هكذا وقع اسمه في النسخ الخطية، والصواب أنه: سليمان بن الربيع العدوي، كما في "التاريخ الكبير" للبخاري 4/ 12، و "الجرح والتعديل" 4/ 117، و "ثقات ابن حبان" 4/ 309.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں نام اسی طرح ہے، جبکہ درست "سلیمان بن ربیع العدوی" ہے، جیسا کہ بخاری کی "التاریخ الکبیر" (4/ 12)، "الجرح والتعدیل" (4/ 117) اور "ثقات ابن حبان" (4/ 309) میں ہے۔
(4) الثَّقَل: متاع المسافر وحشمه.
📝 نوٹ / توضیح: "الثَّقَل": مسافر کا سامان اور اس کے خادم و حشم۔
(1) الرَّمَص: وسخ أبيض يجتمع في زوايا العين.
📝 نوٹ / توضیح: "الرَّمَص": وہ سفید میل جو آنکھ کے گوشوں میں جمع ہو جاتا ہے۔
(2) السّحْريّ، بضم السين وكسرها: السُّخرِيَة.
📝 نوٹ / توضیح: "السّحْریّ" (سین کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ): مذاق اڑانا (تسخر)۔
(1) في النسخ الخطية: يسوقونكم، بإثبات النون، والجادّة بإسقاطها.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (نون کے اثبات کے ساتھ) "یسوقونکم" ہے، جبکہ درست (نون کے بغیر) ہے۔
(2) جمع لِمَّةٍ: وهي الشَّعر الذي يجاوز شحمة الأُذن.
📝 نوٹ / توضیح: "لِمَم" جمع ہے "لِمَّہ" کی: وہ بال جو کان کی لو سے بڑھ جائیں۔
(3) أي: يشدُّونها على أوساطهم.
📝 نوٹ / توضیح: یعنی وہ انہیں اپنی کمروں پر باندھتے ہیں۔
(4) زيادة من "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: یہ اضافہ "تلخیص الذہبی" سے ہے۔
(5) هنا زيادة في "تلخيص المستدرك" للذهبي، ما نصه: "قال فينزلون البصرة سنة، ثم يرسلون إلى أهل الكوفة: أن اخرجوا منها قبل أن ننزل عليكم، فيخرج أهل الكوفة منها، فيلحق لاحق ببيت المقدس، ولاحق بالمدينة، وآخرون بمكة، وآخرون بالأعراب"، وليست في شيء من نسخنا الخطية!
📝 نوٹ / توضیح: ذہبی کی "تلخیص المستدرک" میں یہاں یہ اضافہ موجود ہے: "فرمایا: پس وہ بصرہ میں ایک سال اتریں گے، پھر وہ اہل کوفہ کی طرف پیغام بھیجیں گے کہ ہمارے چڑھ آنے سے پہلے نکل جاؤ، تو اہل کوفہ وہاں سے نکل جائیں گے، کچھ بیت المقدس جا ملیں گے، کچھ مدینہ، کچھ مکہ اور کچھ دیہاتوں میں"۔ یہ ہمارے کسی قلمی نسخے میں نہیں ہے!
(1) اختلف إعجام هذه الكلمة في النسخ الخطية، وأنسب شيء لهذا المقام ما أثبتناه، يقال: فَظْعَ الأمرُ فهو فَظيع، أي: شديد شنيع جاوز المقدار.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں اس لفظ کے اعجام (نقطوں) میں اختلاف ہے، یہاں سب سے مناسب وہی ہے جو ہم نے ثابت کیا (فظیع)۔ کہا جاتا ہے: "فظع الامر فھو فظیع"، یعنی معاملہ شدید اور برا ہو گیا اور حد سے بڑھ گیا۔
(2) الغلوة: قدر رمية بسهمٍ.
📝 نوٹ / توضیح: "الغلوۃ": ایک تیر پھینکنے کے فاصلے کی مقدار۔
(3) إسناده محتمل للتحسين من أجل سليمان بن الربيع فقد انفرد ابن بريدة بالرواية عنه، وذكره ابن حبان في "ثقاته". وهذا الخبر سلف مختصرًا برقم (8742) من طريق قتادة عن عبد الله بن بريدة. وأصله عن عبد الله بن عمر و صحيح كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (8627).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سلیمان بن ربیع کی وجہ سے "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے (یعنی حسن ہو سکتی ہے)، کیونکہ ان سے ابن بریدہ روایت کرنے میں منفرد ہیں، اور ابن حبان نے انہیں اپنی "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ خبر پہلے مختصراً نمبر (8742) پر قتادہ عن عبداللہ بن بریدہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔ اور اس کی اصل عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے اور وہ "صحیح" ہے جیسا کہ گزشتہ روایت نمبر (8627) کے تحت بیان ہو چکا۔