🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
128. ذكر نفخ الصور وإنبات الأجساد
صور پھونکے جانے اور جسموں کے دوبارہ اگنے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8847
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن مُورِّق، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"إني أَرى ما لا تَرَون، وأسمعُ ما لا تَسمعون، إنَّ السماء أَطَّتْ، وحُقَّ لها أن تَئِطَّ، ما فيها - أو ما منها - موضعُ أربعِ أصابعَ إلَّا ومَلَكٌ واضعٌ جبهتَه ساجدًا (1) لله، والله لو تعلمون ما أعلمُ لَضحِكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا، وما تلذَّذتُم بالنساء على الفُرُشات (2) ، ولخرجتُم إلى الصُّعُدات تجأَرُون إلى الله"، والله لوَدِدتُ أن كنت شجرةً تُعضَدُ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8633 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان (فرشتوں کے بوجھ سے) چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانا ہی چاہیے، کیونکہ اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ اللہ کے حضور سجدہ ریز نہ ہو، اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لذت حاصل نہ کرتے بلکہ تم بلندیوں اور میدانوں کی طرف نکل جاتے اور اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے، (یہ سن کر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا) اللہ کی قسم! میں تو یہ تمنا کرتا ہوں کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8847]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وقد سلف برقم (3927) من طريق أحمد بن حازم الغفاري عن عبيد الله بن موسى» [ترقيم الرساله 8847] [ترقيم الشركة 8737] [ترقيم العلميه 8633]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8847 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): ساجد، على صورة الرفع والمثبت من (ك) و (م)، وهو الجادَّة.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں ’ساجد‘ (حالتِ رفع کی صورت میں) ہے، جبکہ متن میں جو لفظ (ساجداً) لکھا گیا ہے وہ نسخہ (ک) اور (م) سے لیا گیا ہے اور وہی درست طریقہ ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى فرحات.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر ’فرحات‘ بن گیا ہے۔
(3) حسن لغيره، وقد سلف برقم (3927) من طريق أحمد بن حازم الغفاري عن عبيد الله بن موسى. وسيأتي مكررًا بالإسناد الذي هنا برقم (8941).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ’حسن لغیرہ‘ ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (3927) پر احمد بن حازم الغفاری عن عبید اللہ بن موسیٰ کے طریق سے گزر چکی ہے۔ اور یہاں والی سند کے ساتھ دوبارہ نمبر (8941) پر آئے گی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8847 in Urdu