🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
135. لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ حَتَّى يَأْتِي أَمْرُ اللَّهِ
میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم اور منصور رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8867
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى ومحمد بن بشّار قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن النُّعمان بن سالم قال: سمعت يعقوبَ بن عاصم بن مسعود قال: سمعت رجلًا قال لعبد الله بن عمرو: إنك تقول: إنَّ الساعة تقومُ إلى كذا وكذا، فقال: لقد هَمَمتُ أن لا أحدِّثَكم بشيءٍ، إنما قلتُ لكم: تَرَونَ بعد قليلٍ أمرًا عظيمًا، فكان تحريقُ البيت - قال شعبة: [هذا أو نحوه] (1) - قال عبد الله بن عمرو: قال رسول الله ﷺ:"يخرجُ الدَّجالُ في أمّتى فيمكُثُ فيهم أربعين" - لا أدري يومًا، أو أربعين عامًا، أو أربعين ليلةً، أو أربعين شهرًا -"فيبعثُ الله عيسى ابن مريمَ ﵇ كأنه عُرُوةُ بن مسعودٍ الثَّقفي، فيطلبه فيُهلِكُه، ثم يَمكُثُ أناسٌ بعدَه سنينَ ليس بين اثنين عداوةٌ، ثم يرسلُ الله ريحًا من قِبَلِ الشام، فلا يبقى أحدٌ في قلبِه مِثقالُ ذَرَّةٍ من إيمان إلَّا قَبَضَته، حتى لو كان أحدُكم في كَبِدِ جبلٍ لدَخَلَت عليه - قال عبد الله: سمعتُها من رسول الله ﷺ فيبقى شِرارُ الناسِ في خِفَّةِ الطير وأحلامِ السِّباع، لا يَعرِفون معروفًا ولا يُنكِرون مُنكرًا، فيتمثَّلُ لهم الشيطانُ فيقول: ألا تستجيبون؟! ويأمرُهم بالأوثان فيَعبُدونها، وهم في ذلك دارَّةٌ أرزاقُهم، حسنٌ عيَشُهم، ويُنفَخُ في الصُّور فلا يسمعُه أحدٌ إِلَّا أَصغى، وأولُ من يسمعُه رجلٌ يَلُوطُ حوضه فيَصعَقُ، ثم لا يبقى أحدٌ إِلَّا صَعِقَ، ثم يُرسِلُ الله - أو يُنزل الله - مطرًا كأنه الطَّلُّ - أو الظِّلُ، النعمانُ الشاكُّ - فتَنبُت أجسادُهم، ثم يُنفَخُ فيه أخرى فإذا هم قيامٌ يَنظُرون، ثم قال: هَلُمُّوا إلى ربكم وقِفُوهم إنهم مسؤولون، ثم يقال: أَخرِجوا بَعْثَ النارِ، فيقال: كم؟ فيقال: من كلٍّ ألفٍ تسعَ مئةٍ وتسعةَ وتسعين، فيومئذٍ يُبعَثُ الولدان شيبًا، ويومئذٍ يُكشَفُ عن ساقٍ" (1) . قال محمد بن جعفر: حدَّثَني بهذا الحديث شعبةُ مرّاتٍ وعَرَضتُه عليه مراتٍ.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے کہا: آپ تو کہتے ہیں کہ قیامت فلاں فلاں وقت تک آ جائے گی، تو انہوں نے فرمایا: میں نے تو یہ ارادہ کر لیا تھا کہ تمہیں کچھ بھی نہ بتاؤں، میں نے تو تم سے صرف یہ کہا تھا کہ تم عنقریب ایک بہت بڑا واقعہ دیکھو گے، اور وہ بیت اللہ کا نذرِ آتش ہونا تھا (شعبہ کہتے ہیں: یہی الفاظ تھے یا اس جیسے)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال میری امت میں نکلے گا اور ان میں چالیس تک رہے گا — مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن، یا چالیس سال، یا چالیس راتیں، یا چالیس مہینے — پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا جو (شکل و صورت میں) عروہ بن مسعود ثقفی کے مشابہ ہوں گے، وہ اسے تلاش کریں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے، پھر ان کے بعد لوگ کئی سالوں تک اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی دشمنی نہیں ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک (ٹھنڈی) ہوا بھیجے گا، جو روئے زمین پر کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو مگر اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کے اندرونی حصے میں بھی چھپا ہوا ہو گا تو وہ ہوا وہاں بھی داخل ہو جائے گی — سیدنا عبداللہ نے فرمایا: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے — پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی تیزی پرندوں جیسی اور عقلیں درندوں جیسی ہوں گی، وہ نہ کسی نیکی کو پہچانیں گے اور نہ کسی برائی سے روکیں گے، پھر شیطان ان کے سامنے (انسانی شکل میں) آئے گا اور کہے گا: کیا تم میری بات نہیں مانو گے؟! پھر وہ انہیں بتوں کی پوجا کا حکم دے گا اور وہ ان کی پرستش کرنے لگیں گے، اور اس حال میں بھی ان کا رزق فراواں ہو گا اور ان کی زندگی خوشحال ہو گی، پھر صور پھونکا جائے گا جسے جو بھی سنے گا (دہشت سے) اپنی گردن ایک طرف جھکا دے گا، سب سے پہلے وہ شخص اسے سنے گا جو اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا، وہ بے ہوش ہو کر گر جائے گا اور پھر کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو بے ہوش نہ ہو جائے، پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا یا نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی — یا سائے کی طرح، نعمان کو اس میں شک ہے — جس سے لوگوں کے اجسام (دوبارہ) اگ آئیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے، پھر کہا جائے گا: اپنے رب کی طرف آؤ، ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ انہیں ٹھہراؤ، یقیناً ان سے سوال کیا جانا ہے [سورة الصافات: 24] پھر کہا جائے گا: جہنم کا لشکر نکالو، پوچھا جائے گا: کتنا؟ جواب ملے گا: ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے، اس دن (کی ہولناکی سے) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور اس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ محمد بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھ سے شعبہ نے یہ حدیث کئی بار بیان کی اور میں نے بھی کئی مرتبہ ان کے سامنے اسے پڑھا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8867]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8867] [ترقيم الشركة 8759]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8867 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، واستدركناه من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ (قوسین) میں موجود عبارت قلمی نسخوں سے ساقط ہو گئی تھی، جسے ہم نے تخریج کے مصادر سے حاصل کر کے مکمل کیا ہے۔
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه مسلم (2940) (117)، والنسائي (11565)، وابن حبان (7353) من طريق محمد بن بشار وحده، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم [(2940) (117)]، نسائی (11565) اور ابن حبان (7353) نے تنہا محمد بن بشار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک (یعنی بخاری و مسلم سے چھوٹی ہوئی) قرار دینا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6555) عن محمد بن جعفر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [11/ (6555)] نے محمد بن جعفر کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (2940) (116) من طريق معاذ بن معاذ العنبري، عن شعبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم [(2940) (116)] نے معاذ بن معاذ عنبری عن شعبہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد سلف برقم (8846) من طريق عثمان بن جبلة المروزي عن شعبة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (8846) پر عثمان بن جبلہ مروزی عن شعبہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8867 in Urdu