المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
135. لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ حَتَّى يَأْتِي أَمْرُ اللَّهِ
میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم اور منصور رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے
حدیث نمبر: 8866
أخبرني أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، أخبرنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حدثنا عُبيد الله (2) بن عمر بن مَيسَرة، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن أبي الأسود الدِّيلِيّ، قال: انطلقتُ أنا وزُرْعةُ بن ضَمْرة [مع] (3) الأشعريِّ إلى عمر بن الخطَّاب فلَقِينا عبدَ الله بنَ عمرو، فقال: يوشكُ أن لا يبقى في أرض العَجَم من العرب إلَّا قتيلٌ أو أسيرٌ يُحكَمُ في دمه، فقال زرعةُ: أيظهرُ المشركون على الإسلام؟ فقال: ممَّن أنت؟ قال: من بني عامر بن صَعصَعة، فقال: لا تقومُ الساعةُ حتى تَدَافِعَ نساءُ بني عامر على ذي الخَلَصةِ؛ وَثَنٌ كان يُسمَّى في الجاهلية. قال: فذكرنا ذلك لعمر بن الخطَّاب؛ قولَ عبد الله بن عمرو، فقال عمرُ ثلاثَ مِرار: عبدُ الله بن عمرو أعلمُ بما يقول. فخَطَبَ عمرُ بن الخطّاب يومَ الجمعة فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"لا تزالُ طائفةٌ من أمَّتي على الحقِّ منصورين (4) حتى يأتيَ أمرُ الله". قال: فذكرْنا قولَ عمر لعبد الله بن عمرو، فقال: صَدَقَ نبيُّ الله ﷺ، إذا كان ذلك، كان الذي (1) قلتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8653 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8653 - على شرط البخاري ومسلم
ابو الاسود دیلی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور زرعہ بن ضمرہ، سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف چلے تو ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہوئی، انہوں نے فرمایا: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ عجم کی زمین پر کوئی عرب باقی نہیں رہے گا سوائے اس کے کہ وہ مقتول ہوگا یا ایسا قیدی جس کے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جا رہا ہوگا۔“ زرعہ نے پوچھا: کیا مشرکین اسلام پر غالب آ جائیں گے؟ انہوں نے پوچھا: تم کس قبیلے سے ہو؟ انہوں نے کہا: بنو عامر بن صعصعہ سے، تو انہوں نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بنو عامر کی عورتیں ذوالخلصہ (کے بت) پر ایک دوسرے کو دھکے نہ دیں؛“ (ذوالخلصہ) ایک بت تھا جس کی جاہلیت میں پوجا ہوتی تھی۔ ہم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اس بات کا تذکرہ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا: عبداللہ بن عمرو جو کہتے ہیں اسے خوب جانتے ہیں۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم اور کامیاب رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔“ ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو بتایا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، جب وہ (گروہ رخصت ہوگا) تو پھر وہی کچھ ہوگا جو میں نے کہا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8866]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8866]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8866] [ترقيم الشركة 8758] [ترقيم العلميه 8653]
حدیث نمبر: 8867
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى ومحمد بن بشّار قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن النُّعمان بن سالم قال: سمعت يعقوبَ بن عاصم بن مسعود قال: سمعت رجلًا قال لعبد الله بن عمرو: إنك تقول: إنَّ الساعة تقومُ إلى كذا وكذا، فقال: لقد هَمَمتُ أن لا أحدِّثَكم بشيءٍ، إنما قلتُ لكم: تَرَونَ بعد قليلٍ أمرًا عظيمًا، فكان تحريقُ البيت - قال شعبة: [هذا أو نحوه] (1) - قال عبد الله بن عمرو: قال رسول الله ﷺ:"يخرجُ الدَّجالُ في أمّتى فيمكُثُ فيهم أربعين" - لا أدري يومًا، أو أربعين عامًا، أو أربعين ليلةً، أو أربعين شهرًا -"فيبعثُ الله عيسى ابن مريمَ ﵇ كأنه عُرُوةُ بن مسعودٍ الثَّقفي، فيطلبه فيُهلِكُه، ثم يَمكُثُ أناسٌ بعدَه سنينَ ليس بين اثنين عداوةٌ، ثم يرسلُ الله ريحًا من قِبَلِ الشام، فلا يبقى أحدٌ في قلبِه مِثقالُ ذَرَّةٍ من إيمان إلَّا قَبَضَته، حتى لو كان أحدُكم في كَبِدِ جبلٍ لدَخَلَت عليه - قال عبد الله: سمعتُها من رسول الله ﷺ فيبقى شِرارُ الناسِ في خِفَّةِ الطير وأحلامِ السِّباع، لا يَعرِفون معروفًا ولا يُنكِرون مُنكرًا، فيتمثَّلُ لهم الشيطانُ فيقول: ألا تستجيبون؟! ويأمرُهم بالأوثان فيَعبُدونها، وهم في ذلك دارَّةٌ أرزاقُهم، حسنٌ عيَشُهم، ويُنفَخُ في الصُّور فلا يسمعُه أحدٌ إِلَّا أَصغى، وأولُ من يسمعُه رجلٌ يَلُوطُ حوضه فيَصعَقُ، ثم لا يبقى أحدٌ إِلَّا صَعِقَ، ثم يُرسِلُ الله - أو يُنزل الله - مطرًا كأنه الطَّلُّ - أو الظِّلُ، النعمانُ الشاكُّ - فتَنبُت أجسادُهم، ثم يُنفَخُ فيه أخرى فإذا هم قيامٌ يَنظُرون، ثم قال: هَلُمُّوا إلى ربكم وقِفُوهم إنهم مسؤولون، ثم يقال: أَخرِجوا بَعْثَ النارِ، فيقال: كم؟ فيقال: من كلٍّ ألفٍ تسعَ مئةٍ وتسعةَ وتسعين، فيومئذٍ يُبعَثُ الولدان شيبًا، ويومئذٍ يُكشَفُ عن ساقٍ" (1) . قال محمد بن جعفر: حدَّثَني بهذا الحديث شعبةُ مرّاتٍ وعَرَضتُه عليه مراتٍ.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے کہا: آپ تو کہتے ہیں کہ قیامت فلاں فلاں وقت تک آ جائے گی، تو انہوں نے فرمایا: میں نے تو یہ ارادہ کر لیا تھا کہ تمہیں کچھ بھی نہ بتاؤں، میں نے تو تم سے صرف یہ کہا تھا کہ تم عنقریب ایک بہت بڑا واقعہ دیکھو گے، اور وہ بیت اللہ کا نذرِ آتش ہونا تھا (شعبہ کہتے ہیں: یہی الفاظ تھے یا اس جیسے)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دجال میری امت میں نکلے گا اور ان میں چالیس تک رہے گا“ — مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن، یا چالیس سال، یا چالیس راتیں، یا چالیس مہینے — ”پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا جو (شکل و صورت میں) عروہ بن مسعود ثقفی کے مشابہ ہوں گے، وہ اسے تلاش کریں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے، پھر ان کے بعد لوگ کئی سالوں تک اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی دشمنی نہیں ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک (ٹھنڈی) ہوا بھیجے گا، جو روئے زمین پر کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو مگر اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کے اندرونی حصے میں بھی چھپا ہوا ہو گا تو وہ ہوا وہاں بھی داخل ہو جائے گی“ — سیدنا عبداللہ نے فرمایا: میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے — ”پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی تیزی پرندوں جیسی اور عقلیں درندوں جیسی ہوں گی، وہ نہ کسی نیکی کو پہچانیں گے اور نہ کسی برائی سے روکیں گے، پھر شیطان ان کے سامنے (انسانی شکل میں) آئے گا اور کہے گا: کیا تم میری بات نہیں مانو گے؟! پھر وہ انہیں بتوں کی پوجا کا حکم دے گا اور وہ ان کی پرستش کرنے لگیں گے، اور اس حال میں بھی ان کا رزق فراواں ہو گا اور ان کی زندگی خوشحال ہو گی، پھر صور پھونکا جائے گا جسے جو بھی سنے گا (دہشت سے) اپنی گردن ایک طرف جھکا دے گا، سب سے پہلے وہ شخص اسے سنے گا جو اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا، وہ بے ہوش ہو کر گر جائے گا اور پھر کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو بے ہوش نہ ہو جائے، پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا یا نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی — یا سائے کی طرح، نعمان کو اس میں شک ہے — جس سے لوگوں کے اجسام (دوبارہ) اگ آئیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے، پھر کہا جائے گا: اپنے رب کی طرف آؤ، ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ ”انہیں ٹھہراؤ، یقیناً ان سے سوال کیا جانا ہے“ [سورة الصافات: 24] پھر کہا جائے گا: جہنم کا لشکر نکالو، پوچھا جائے گا: کتنا؟ جواب ملے گا: ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے، اس دن (کی ہولناکی سے) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور اس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔“ محمد بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھ سے شعبہ نے یہ حدیث کئی بار بیان کی اور میں نے بھی کئی مرتبہ ان کے سامنے اسے پڑھا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8867]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8867]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8867] [ترقيم الشركة 8759]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح