المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
136. الحرب لن تضع أوزارها حتى تكون ست
جنگ اپنے ہتھیار اس وقت تک نہیں ڈالے گی جب تک چھ نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں
حدیث نمبر: 8868
أخبرني أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهرانَ، حدثني أَبي، حدثنا أبو الطاهر وأبو الرَّبيع المِصْريّان قالا: حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن شُرَيح، عن رَبيعة بن سيف (2) المَعافِري، عن إسحاق بن عبد الله: أنَّ عوف بن مالك الأشجعيَّ أتى رسولَ الله ﷺ في فتح له فَسَلَّم عليه، ثم قال: هنيئًا لك يا رسولَ الله، قد أعزَّ اللهُ نصرَك، وأظهرَ دينَك، ووَضَعَت الحربُ أوزارَها بجرَانِها، قال: ورسولُ الله ﷺ في قُبَّةٍ من أَدَمٍ، فقال:"ادخُلْ يا عوفُ" فقال: أدخلُ كُلِّي أو بَعْضي؟ فقال:"ادخُلْ كلُّك" فقال:"إنَّ الحرب لن تضعَ أوزارَها حتى تكونَ ستٌّ، أَوّلُهنَّ موتي" فبكى عوفٌ، قال رسول الله ﷺ:"قُلْ: إحدى، والثانيةُ فتحُ بيتِ المَقدِس، والثالثةُ فتنةٌ تكون في الناس كعُقَاصِ (1) الغنم، والرابعةُ فتنةٌ تكون في الناس لا يبقى أهلُ بيتٍ إِلَّا دَخَل عليهم نَصيبُهم منها، والخامسةُ يولدُ في بني الأصفر غلامٌ من أولاد الملوك، يَشِبُّ في اليوم كما يَشِبُّ الصبيُّ في الجمعة، ويَشِبُّ في الجمعة كما يَشِبُّ الصبيُّ في الشهر، ويَشِبُّ في الشهر كما يَشِبُّ الصبيُّ في السنة، فما بلغ اثنتي عشرةَ سنةً ملَّكوه عليهم، فقام بين أظهُرِهم فقال: إلى متى يَغلِبُنا هؤلاءِ القومُ على مكارمِ أرضنا؟! إني رأيت أن أسيرَ إليهم حتى أُخرِجَهم منها، فقام الخطباءُ فحسَّنوا له رأيَه (2) ، فبَعَثَ في الجزائر والبرِّيّة بصَنْعةِ السُّفن، ثم حَمَل فيها المقاتِلةَ حتى ينزلَ بين أنطاكيَةَ والعَريش". قال ابن شُرَيح: فسمعت من يقول: إنهم اثنا عشرَ غَيَايةً (3) ، تحت كل غَيَايَةٍ اثنا عشر ألفًا، فيجتمع المسلمون إلى صاحبِهم ببيت المَقدِس، وأَجمَعوا في رأيهم أن يسيروا إلى مدينة الرسول ﷺ حتى تكون مسالحُهم بالسَّرْح وخيبرَ. قال ابن أبي جعفر (4) : قال رسول الله ﷺ:"يُخرِجوا أمّتي من مَنابتِ الشِّيح". قال: وقال الحارث بن يزيد: إنهم سيُقيمون (5) فيما هنالك، فيَفِرُّ منهم الثُّلثُ، ويُقتَل منهم الثلثُ، فيَهزِمُهم الله ﷿ بالثلث الصابر. وقال خالد بن يزيد: يومئذٍ يَضْرِبُ والله بسيفه، ويَطعُنُ برمحِه، ويَتبَعُه المسلمون حتى يَبلُغوا المَضِيقَ الذي عند القُسطنطِينيَّة، فيجدونه قد يَبسَ ماؤُه فيُجِيزون إلى المدينة حتى يَنزِلوا بها، فيَهِدمُ الله جُدرانَهم بالتكبير ثم يَدخُلونها عليهم، فيَقسِمون أموالَهم بالأترِسَة. وقال أبو قَبِيل المَعافِري: فبينما هم على ذلك، إذْ جاءهم راكبٌ فقال: أنتم هاهنا والدَّجالُ قد خالَفَكم في أهلِيكم؛ وإنما كانت كَذِبةً، فمن سَمِعَ العلماءَ في ذلك أقام على ما أصابه، وأمّا غيرُهم فانفَضُّوا، ويكون المسلمون يَبنُون المساجدَ في القُسطنطِينيّة ويَغزُون وراءَ ذلك حتى يخرجَ الدجالُ، السادسةُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8655 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8655 - فيه انقطاع
اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، سلام عرض کرنے کے بعد فتح کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح و نصرت عطا فرما کر آپ کی عزت افزائی فرمائی ہے اور آپ کے دین کو غالب کیا ہے، اور جنگ مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں: اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے خیمے میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عوف، اندر آ جاؤ، سیدنا عوف نے کہا: پورا اندر آ جاؤں یا تھوڑا سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورے ہی اندر آ جاؤ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک 6 امور وقوع پذیر نہیں ہو جائیں گے، * ان میں سب سے پہلے میری موت ہے۔ یہ سن کر سیدنا عوف رضی اللہ عنہ رو پڑے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: ایک۔ * اور دوسرا واقعہ بیت المقدس کی فتح کا ہے۔ * تیسرا لوگوں میں ایک فتنہ ہو گا۔ جو کہ بھیٹر بکریوں کی وبائی امراض میں موت کی مانند ہو گا۔ * چوتھا، لوگوں میں ایک فتنہ ہو گا جسکا حصہ ہر گھر میں داخل ہو گا۔ * پانچواں، بنی الاصفر میں ایک بچہ پیدا ہو گا جو کہ بادشاہوں کی اولاد ہو گا، وہ ایک دن میں اتنا بڑا ہو گا جتنا عام بچے ایک ہفتے میں بڑھتے ہیں، اور وہ ایک ہفتے میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچے ایک مہینے میں بڑھتے ہیں، اور وہ ایک مہینے میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچے ایک سال میں بڑھتے ہیں، جب وہ 12 سال کا ہو جائے گا تو اس کو اپنا حکمران بنا لیں گے، وہ ان لوگوں کے درمیان کھڑا ہو کر کہے گا۔ یہ لوگ ہماری سرزمین پر کب تک ہم پر غالب رہیں گے؟ میرا خیال ہے کہ ہم ان پر چڑھائی کریں اور ان کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کریں، خطباء کھڑے ہو کر اس کی رائے کی تائید کریں گے، یہ خشکی میں اور جزیروں میں بحری بیڑے بھیجے گا، ان میں جنگ کرے گا، اور انطاکیہ اور عریش کے درمیان ایک ساحل پر وہ رکے گا، ابن شریح کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ان کے 12 جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے 12 ہزار کا لشکر ہو گا، مسلمان اپنے ساتھی کے پاس بیت المقدس میں جمع ہوں گے، اور سب متفقہ فیصلہ کریں گے کہ ہمیں مدینہ منورہ چلے جانا چاہئے، تاکہ ان کی سرحدیں مقام سرح اور خیبر تک پہنچ جائیں، ابن ابی جعفر کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کو شیح (نامی گھاس) کے اگنے کے مقام (یعنی عرب) سے نکالا جائے گا، انہوں نے ہی یا حارث بن زید نے کہا: یہ لوگ وہاں پر قیام کریں گے، وہاں سے ایک تہائی لوگ بھاگ جائیں گے، ایک تہائی لوگ جنگ کریں گے، اللہ تعالیٰ صبر کرنے والے تیسرے حصے کی وجہ سے ان کو شکست دے گا۔ خالد بن یزید کہتے ہیں: اللہ کی قسم! وہ شخص اس دن اپنی تلوار کے ساتھ جنگ کرے گا، اپنے نیزے استعمال کرے گا، مسلمان اس کا تعاقب کریں گے، حتی کہ قسطنطنیہ کے قریب مضیق کے مقام پر پہنچ جائیں گے، وہاں کا پانی خشک ہو چکا ہو گا، یہ لوگ شہر کا رخ کریں گے اور وہاں آ کر ٹھہر جائیں گے، تکبیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی دیواریں گرا دے گا، پھر یہ لوگ اس میں داخل ہو جائیں گے اور اپنا مال ڈھال سے تقسیم کریں گے۔ ابوقبیل معافری کہتے ہیں، اسی اثناء میں ان کے پاس ایک سوار آئے گا اور کہے گا: تم یہاں پر ہو اور ادھر دجال نے تمہارے گھر والوں میں تمہاری مخالفت شروع کر رکھی ہے، یہ سراسر جھوٹ ہو گا۔ جس شخص نے علماء سے اس بارے میں سن رکھا ہو گا وہ ثابت قدم رہے گا، جبکہ دیگر لوگ وہاں سے بھاگ نکلیں گے اور مسلمان قسطنطنیہ میں مساجد تعمیر کریں گے اور وہاں پر جہاد کریں گے، حتی کہ دجال ظاہر ہو گا اور یہ چھٹی نشانی ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8868]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8868 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ إلى: يوسف.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ’یوسف‘ بن گیا ہے۔
(1) تحرَّف في (م) و (ب) إلى: كعقاص، بتقديم العين المهملة. والقعاص: داء يصيب الدوابّ فيسيل من أنوفها شيء فتموت فجأة.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر ’کعقاص‘ (عین کی تقدیم کے ساتھ) بن گیا ہے۔ درست ’القعاص‘ ہے، یہ چوپایوں کو لگنے والی ایک بیماری ہے جس میں ان کی ناک سے رطوبت بہتی ہے اور وہ اچانک مر جاتے ہیں۔
(2) قوله: "له رأيه" تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الدراية، والتصويب من "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: اس قول "لہ رأیہ" میں قلمی نسخوں کے اندر تحریف ہو کر ’الدرایۃ‘ بن گیا تھا، جس کی تصحیح "تلخیص الذہبی" سے کی گئی ہے۔
(3) هكذا في النسخ الخطية بياءين، وقد سلف التعليق على هذا الحرف عند الرواية السالفة برقم (8508).
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ اسی طرح دو ’یا‘ کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ اس لفظ پر تبصرہ سابقہ روایت نمبر (8508) کے تحت گزر چکا ہے۔
(4) ابن أبي جعفر هذا: هو عبيد الله بن أبي جعفر المصري الفقيه، وهو من شيوخ عبد الرحمن بن شريح، وكذا من شيوخه الثلاثةُ المذكورون لاحقًا: الحارث بن يزيد وخالد بن يزيد وأبو قبيل المعافري، وثلاثتهم من ثقات المصريّين، وأبو قبيل: اسمه حيّ بن هانئ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن ابی جعفر سے مراد ’عبید اللہ بن ابی جعفر المصری الفقیہ‘ ہیں، یہ عبد الرحمن بن شریح کے اساتذہ میں سے ہیں۔ اسی طرح بعد میں مذکور تینوں شیوخ (حارث بن یزید، خالد بن یزید اور ابو قبیل المعافری) بھی ان کے اساتذہ ہیں اور یہ تینوں مصر کے ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ ابو قبیل کا نام ’حیی بن ہانی‘ ہے۔
(5) في النسخ الخطية: سيقيموا، بحذف النون، والجادة ما أثبتنا.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ ’سیقیموا‘ (نون کے حذف کے ساتھ) ہے، جبکہ جو ہم نے (متن میں) درج کیا ہے (سیقیمون) وہی معیاری عربی قاعدہ ہے۔
(1) ضعيف بهذا السياق، وأعله الذهبي في "تلخيصه" بالانقطاع، ولعله أراد بين إسحاق بن عبد الله وعوف بن مالك، وإسحاق هذا لم نتبيَّنه، ففي هذه الطبقة بهذا الاسم ممَّن ترجم له المزّي وغيره بضعة رجال، والراوي عنه - وهو ربيعة بن سيف - ضعيف عنده مناكير، ثم إنَّ عبد الرحمن بن شريح قد روى عن شيوخه المشار إليهم في التعليق السابق أحرفًا مقاطيع لم يسندها.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سیاق کے ساتھ یہ روایت ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے منقطع قرار دے کر معلول ٹھہرایا ہے۔ غالباً ان کی مراد اسحاق بن عبد اللہ اور عوف بن مالک کے درمیان انقطاع ہے، کیونکہ اسحاق کی تعیین ہمیں نہیں ہو سکی؛ اس طبقے میں اس نام کے کئی راوی ہیں جن کا ذکر مزی وغیرہ نے کیا ہے۔ نیز ان سے روایت کرنے والے ربیعہ بن سیف ضعیف ہیں اور ان کے پاس منکر روایات ہیں۔ مزید برآں عبد الرحمن بن شریح نے اپنے ان شیوخ (جن کا ذکر پچھلی تعلیق میں گزرا) سے یہ روایات ٹکڑوں کی صورت میں (احرفاً مقاطیع) روایت کی ہیں اور پوری سند بیان نہیں کی۔
وهذا الحديث بهذا السياق انفرد به المصنف، ويغني عنه ما سلف من غير وجه عن عوف بن مالك برقم (6460) و (8500) و (8508)، وهو صحيح.
📌 اہم نکتہ: اس سیاق کے ساتھ اس حدیث کو روایت کرنے میں مصنف (حاکم) منفرد ہیں۔ تاہم عوف بن مالک سے مروی دیگر طرق جو پہلے نمبر (6460)، (8500) اور (8508) پر گزر چکے ہیں، وہ اس سے کفایت کرتے ہیں اور وہ صحیح ہیں۔