🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. ذكر أهل السماوات السبع
ساتوں آسمانوں کے رہنے والوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8912
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان ومحمد بن كَثير: قالا حدثنا مَهْديُّ بن ميمون حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، عن بِشْر بن شَغَافٍ، عن عبد الله بن سَلَام؛ قال (1) : وكنَّا جلوسًا في المسجد يومَ الجُمُعة، فقال: إنَّ أعظمَ أيام الدنيا يومُ الجمعة، فيه خُلِقَ آدم، وفيه تقومُ الساعة، وإِنَّ أكرمَ خَليقة الله على الله أبو القاسم ﷺ، قال: قلت: رَحِمَك الله، فأين الملائكةُ؟ قال: فنظر إليَّ وضحك وقال: يا ابنَ أخي هل تدري ما الملائكةَ؟ إنما الملائكةُ خلقٌ كخَلْق السماء وخلق الأرض وخلق الرياح وخلق السَّحاب وخلق الجبال، وسائر الخلق، التي لا تعصى الله شيئًا، وإنَّ أكرمَ خليقةٍ على الله أبو القاسم ﷺ، وإنَّ الجنة في السماء، وإنَّ النار في الأرض، فإذا كان يومُ القيامة بَعَثَ الله الخليقة أُمَّةً أُمّةً، ونبيًا نبيًا، حتى يكونَ أحمد وأمَّتُه آخرَ الأُمم مركزًا، قال: ثم يُوضَعُ جسرٌ على جنَّهم، ثم ينادي منادٍ: أين أحمدُ وأمّتُه؟ قال: فيقوم فتَتبعُه أمّتُه بَرُّها وفاجرها، قال: فيأخذون الجسرَ، فيَطمِسُ الله أبصارَ أعدائه، فيتهافتون فيها من شمال ويمينٍ، ويَنجُو النبيُّ ﷺ والصالحون معه، فتَلَقَّاهم الملائكةُ ربَّنا نُبُوِّئُهم منازلَهم من الجنة على يمينِك وعلى يسارِك، حتى ينتهي إلى ربِّه ﷿، فيُلقَى له كرسيٌّ عن يمين الله ﷿، ثم ينادي منادٍ: أين عيسى وأمّتُه؟ فيقوم فتَتبعُه أمّتُه بَرُّها وفاجرُها، فيأخذون الجسرَ، فيَطمِسُ اللهُ أبصارَ أعدائه، فيتهافتون فيها من شِمالٍ، ويمينٍ، ويَنجُو النبيُّ ﷺ والصالحون معه، فتَلَقَّاهم الملائكةُ؛ ربَّنا نُبُوِّئُهم منازلَهم في الجنة على يمينِك وعلى يسارك، حتى ينتهيَ إلى ربِّه، فيُلقَى له كرسيٌّ من الجانب الآخر، قال: ثم يَتبعُهم الأنبياءُ والأُمم حتى يكونَ آخرُهم نوحًا، رَحِمَ الله نوحًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وليس بموقوفٍ، فإنَّ الله عبد بن سَلَام على تقدُّمه في معرفة قديمةٍ من جُملة الصحابة، وقد أسنَدَه بذِكْر رسول الله ﷺ في غير موضعٍ، والله أعلم (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8698 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں، ہم جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا دن جمعہ ہے، اس دن میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہو گی، اور زمین پر اللہ تعالیٰ کے سب سے کریم خلیفہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ بن سلام کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت فرمائے، فرشتے کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ کر مسکرا دیئے، اور فرمایا: اے میرے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کیا ہوتے ہیں؟ جیسے آسمان، زمین، ہوا، بادل اور دوسری مخلوقات جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتی، ان کی طرح فرشتے بھی ایک مخلوق ہیں، اور جنت آسمانوں میں ہے اور دوزخ زمین میں ہے، جب قیامت کا دن ہو گا، اللہ تعالیٰ ایک ایک امت کے ساتھ ایک ایک نبی کو اٹھائے گا، حتی کہ احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت سب سے آخر میں اٹھیں گے، پھر نبی اٹھیں گے اور ان کے ہمراہ ان کی نیک و بد ساری امتیں بھی اٹھیں گی، پھر جہنم پر پل بچھایا جائے گا، وہ پل کو پکڑ لیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کی آنکھیں سلب کر لے گا، وہ دائیں بائیں ہاتھ ماریں گے اور آگ میں گریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے طفیل تمام نیک لوگوں کو نجات ملے گی، پھر فرشتے ان سے ملاقات کریں گے، فرشتے ان کی جنت کی منازل ان کے دائیں بائیں دکھائیں گے حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچیں گے، آپ کو اللہ تعالیٰ کی کرسی کے دائیں جانب بٹھایا جائے گا، پھر ایک منادی ندا دے گا: عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کہاں ہیں؟ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اٹھیں گے اور ان کی امت کے تمام نیک اور برے لوگ بھی ان کے ہمراہ اٹھیں گے، یہ بھی پل پر سے گزریں گے، اللہ تعالیٰ ان کے دشمنوں کی آنکھیں بھی سلب کر لے گا، یہ بھی وہاں پر دائیں بائیں ہاتھ مارتے پھریں گے، ان کے نبی اور ان کے نیک امتیوں کو نجات ملے گی، پھر فرشتے ان سے ملاقات کریں گے، اور ان کی جنت کی منازل ان کے دائیں بائیں چھپائیں گے حتی کہ وہ نبی علیہ السلام اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچ جائیں گے ان کے لئے دوسری جانب کرسی رکھی جائے گی، پھر اس کے بعد دیگر انبیاء کرام اور ان کی امتیں آتی رہیں گی، اور سب سے آخر میں سیدنا نوح علیہ السلام آئیں گے، اللہ تعالیٰ نوح علیہ السلام پر رحم فرمائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث موقوف نہیں ہے، کیونکہ عبداللہ بن سلام کا شمار صحابہ کرام میں ہوتا ہے اور کئی مقامات پر ان کی روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح ذکر کے ساتھ بھی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8912]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8912 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) القائل هو بشر بن شغاف. وفي نسختي (ك) و (م): وكنا عنده جلوسًا.
📝 نوٹ / توضیح: (یہ بات) کہنے والے "بشر بن شغاف" ہیں۔ نسخہ (ک) اور (م) میں "وکنا عندہ جلوساً" (ہم ان کے پاس بیٹھے تھے) کے الفاظ ہیں۔
(2) إسناده صحيح موقوف محمد بن غالب: هو الحافظ المعروف بتمتام، وعفان: هو ابن مسلم الصفّار، ومحمد بن كثير: هو العبدي البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح موقوف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راویوں کی تعیین: "محمد بن غالب" سے مراد مشہور حافظ ہیں جن کا لقب "تمتام" ہے، "عفان" سے مراد ابن مسلم الصفار ہیں، اور "محمد بن کثیر" سے مراد العبدی البصری ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (148) و (360)، وفي "دلائل النبوة" 5/ 485 - 486 من طريق عبد الله بن محمد بن أسماء، عن مهدي بن ميمون بهذا الإسناد. ولم يسقه بتمامه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (148، 360) اور "دلائل النبوۃ" (5/ 485-486) میں عبداللہ بن محمد بن اسماء عن مہدی بن میمون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن اسے مکمل بیان نہیں کیا۔
وأخرج النصف الأول منه الحارث بن أبي أسامة في مسنده (935 - بغية الباحث) ومن طريقه أبو نعيم في "صفة الجنة" (131) - عن عبد العزيز بن أبان الكوفي، عن مهدي بن ميمون به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا پہلا نصف حصہ حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (935 - بغیۃ الباحث) میں، اور ان کے طریق سے ابونعیم نے "صفۃ الجنۃ" (131) میں عبدالعزیز بن ابان الکوفی عن مہدی بن میمون کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وعبد العزيز متروك، لكنه لم ينفرد به كما ترى.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ "عبدالعزیز" متروک راوی ہے، لیکن وہ اس روایت میں منفرد نہیں ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں (کہ دوسرے ثقہ راوی بھی موجود ہیں)۔
وأخرج قصة الجنة في السماء والنار في الأرض: ابن أبي الدنيا في صفة النار" (179) عن خالد بن خِداش عن مهدي به وخالد صدوق لا بأس به.
📖 حوالہ / مصدر: جنت کے آسمان میں اور جہنم کے زمین میں ہونے کا قصہ ابن ابی الدنیا نے "صفۃ النار" (179) میں خالد بن خداش عن مہدی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: راوی "خالد بن خداش" صدوق ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں۔
وأخرجها أيضًا الدولابي في "الكنى والأسماء" (14)، وأبو نعيم في "صفة الجنة" (454) من طريق الخضر بن محمد بن شجاع، عن إسماعيل ابن عليَّة عن مهدي بن ميمون به مر مرفوعًا إلى النبي ﷺ. والخضر صدوق إلَّا أنَّ روايته هذه شاذة، وقد خالفه إسماعيل بن عمرو البجلي عند الطبراني في "الكبير" (14984)، فروى عن ابن علية أوّله في قصة أكرم الخليقة على الله أبو القاسم ﷺ، فوقفه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دولابی نے "الکنی والاسماء" (14) اور ابونعیم نے "صفۃ الجنۃ" (454) میں خضر بن محمد بن شجاع عن اسماعیل بن علیہ عن مہدی بن میمون کے طریق سے نبی ﷺ تک "مرفوعاً" روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: خضر "صدوق" ہیں مگر ان کی یہ (مرفوع) روایت "شاذ" ہے، کیونکہ اسماعیل بن عمرو البجلی نے طبرانی "الکبیر" (14984) میں ان کی مخالفت کی ہے اور ابن علیہ سے اس کا ابتدائی حصہ (اکرم الخلیقہ والا) روایت کرتے ہوئے اسے "موقوف" بیان کیا ہے۔
وأخرج قصة الجنة والنار أيضًا ابن أبي الدنيا (178) من طريق شعبة، وقصة أكرم الخليقة الطبرانيُّ (14983) من طريق واصل مولى أبي عيينة، كلاهما عن محمد بن أبي يعقوب، به موقوفًا.
📖 حوالہ / مصدر: جنت اور جہنم والا قصہ ابن ابی الدنیا (178) نے شعبہ کے طریق سے، اور مخلوق میں سب سے معزز ہونے والا قصہ طبرانی (14983) نے واصل (مولا ابی عیینہ) کے طریق سے نکالا ہے، یہ دونوں محمد بن ابی یعقوب سے اسے "موقوفاً" روایت کرتے ہیں۔
وأخرجهما أبو نعيم (131) من طريق عمرو بن عثمان الكلابي الرقي، عن موسى بن أعين عن معمر، عن محمد بن أبي يعقوب به مرفوعًا. وعمرو بن عثمان هذا تركه النسائي.
📖 حوالہ / مصدر: ان دونوں قصوں کو ابونعیم (131) نے عمرو بن عثمان الکلابی الرقی عن موسیٰ بن اعین عن معمر عن محمد بن ابی یعقوب کے واسطے سے "مرفوعاً" روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ راوی "عمرو بن عثمان" وہ ہے جسے امام نسائی نے متروک کر دیا تھا (ترکہ النسائی)۔
والحديث بتمامه عند عبد الله بن المبارك في "الزهد" برواية نعيم بن حماد عنه برقم (398) عن معمر، عمن سمع محمد بن أبي يعقوب به موقوفًا. وهو المحفوظ.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث مکمل طور پر عبداللہ بن مبارک کے ہاں "الزہد" میں نعیم بن حماد کی روایت سے نمبر (398) پر موجود ہے، جو معمر سے اور وہ اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے محمد بن ابی یعقوب سے سنا، اور اسے "موقوفاً" روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اور یہی "محفوظ" ہے۔
(1) سبق أنَّ المرفوع غير محفوظ، ولا يصح عن عبد الله بن سلام إلَّا موقوفًا.
⚖️ درجۂ حدیث: پہلے گزر چکا ہے کہ اس کا "مرفوع" ہونا محفوظ نہیں ہے، اور یہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے صرف "موقوفاً" ہی صحیح ثابت ہے۔