المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. تشريح آية ( يوم تبدل الأرض غير الأرض )
اس آیت کی تشریح کہ "جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی"
حدیث نمبر: 8913
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني العدل ببغداد، حدثنا أحمد بن الوليد الفَحَّام، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران، عن ابن عباس أنه قرأَ: ﴿وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا﴾ [الفرقان: 25] قال: تَشقَّقُ سماء الدنيا وتَنزِلُ الملائكة على كل سماء، وهم أكثرُ ممَّن في الأرض من الجنِّ والإنس فيقول أهلُ الأرض: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهل السماء الثانية، وهم أكثرُ من أهل السماء الدنيا وأهل الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزل أهل السماء الثالثة، وهم أكثرُ من أهل السماء الثانية وسماءِ الدنيا وأهل الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهلُ السماءِ، الرابعة، وهم أكثرُ من أهلِ السماء الثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهلُ السماء الخامسة، وهم أكثرُ من أهل السماء الرابعة والثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهلُ السماء السادسة، وهم أكثرُ من أهل السماء الخامسة والرابعة والثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهل السماء السابعة وهم أكثرُ من أهل السماء السادسة والخامسة والرابعة والثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل الكَرُوبيُّون، وهم أكثرُ من أهل السماوات السبع والأَرَضِين، وحَمَلةُ العَرْش، لهم قرونٌ كُعُوبٌ كُعوبَ (1) القَنَا، ما بين قَدَم أحدهم كذا وكذا، ومن أخَمصِ قدمه إلى كَعْبه مسيرةُ خمس مئة عامٍ، ومن كَعْبه إلى ركبته مسيرةُ خمس مئة عام (2) ، ومن ركبتِه إلى أَرنَبَتِه مسيرةُ خمس مئة عامٍ، ومن تَرقُوَتِه إلى موضع القُرْطِ مسيرةُ خمسِ مئة عام (3) . رُواة هذا الحديثِ عن آخرهم مُحَتجٌّ بهم غيرَ عليِّ بن زيد بن جُدْعان القُرَشي، وهو وإن كان موقوفًا على ابن عبَّاس، فإنه عجيبٌ بمَرَّةٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8699 - إسناده قوي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8699 - إسناده قوي
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا [الفرقان: 25] ” اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادلوں سے اور فرشتے اتارے جائیں گے پوری طرح “ اور فرمایا: دنیا کا آسمان پھٹ جائے گا، اور ہر آسمان سے فرشتے اتریں گے، آسمان دنیا کے فرشتے بھی اتریں گے، ان کی تعداد زمین کے تمام انسانوں اور جنات سے زیادہ ہے، زمین والے، ان سے پوچھیں گے: کیا تمہارے اندر ہمارا رب بھی موجود ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر دوسرے آسمان والے نازل ہوں گے، ان کی تعداد پہلے آسمان والوں اور دنیا کے تمام جنات اور انسانوں سے زیادہ ہو گی، زمین والے ان سے پوچھیں گے: کیا تمہارے اندر ہمارا رب ہے؟ وہ کہیں گے نہیں۔ پھر تیسرے آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے، ان کی تعداد پہلے، دوسرے آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر چوتھے آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے، ان کی تعداد پہلے، دوسرے اور تیسرے آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر پانچویں آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے، ان کی تعداد پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر چھٹے آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے، ان کی تعداد پہلے، دوسرے، تیسرے، چوتھے اور پانچویں آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی، زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے؟ وہ كہیں گے: نہیں۔ پہر ساتویں آسمان والے فرشتے نازل ہوں گے، ان كی تعداد پہلے، دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں اور چھٹے آسمان کے فرشتوں اور زمین کے انسان اور جنات سے زیادہ ہو گی۔ زمین والے ان سے بھی پوچھیں گے کہ کیا تمہارے اندر ہمارا رب موجود ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر کروبیین فرشتے نازل ہوں گے ان کی تعداد ساتوں آسمانوں کے فرشتوں اور زمین کے تمام جنات اور انسانوں سے زیادہ ہو گی۔ اور جو فرشتے عرش كو اٹھائے ہوئے ہیں، ان کے سینگ بھی ہیں اور کھر بھی ہیں جیسا كہ جنگلی گائے کے سینگ اور كھر ہوتے ہیں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دو قدموں کے درمیان كی مسافت بتائی، ان کے قدم کے تلوے سے ٹخنے تک كی مسافت پانچ سو سال كی مسافت ہے، اور ان کے ٹخنے سے گھٹنے تک پانچ سو سال كی مسافت ہے، اور گھٹنے سے ناک تک پانچ سو سال كی مسافت ہے، اور ان كی ہنسلی سے ان کے تھن تک پانچ سو سال كی مسافت ہے۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راوی محتج بہ (ان کی روایات سے استدلال کیا گیا) ہیں، سوائے علی بن زید بن جدعان قرشی کے۔ یہ حدیث اگرچہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تک موقوف ہے لیکن بہت پسندیدہ حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8913]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8913 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (م) و (ب) ككعوب بإثبات كاف التشبيه. والقَنا: جمع القَناة، وهو الرُّمح، وكعبُها: ما بين كل عُقدتين من أنبوبتها. انظر "النهاية" لابن الأثير (كعب).
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) اور (ب) میں یہ لفظ تشبیہ کی "کاف" کے ساتھ "ککعوب" (پوروں کی طرح) ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "القَنا" سے مراد "القناۃ" کی جمع ہے یعنی نیزے، اور "کعب" سے مراد نیزے کے پائپ/ڈنڈے کی دو گرہوں کے درمیان والا حصہ ہے۔ ابن اثیر کی "النھایۃ" (مادہ: کعب) دیکھیں۔
(2) لفظ "عام" هنا من (ك) وحدها.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں لفظ "عام" صرف نسخہ (ک) میں ہے۔
(3) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جدعان - وتساهل الذهبي في "تلخيصه" فقوَّى الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند علی بن زید (ابن جدعان) کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں تساہل سے کام لیا ہے اور اس سند کو قوی قرار دیا ہے (حالانکہ یہ ضعیف ہے)۔
(3) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جدعان - وتساهل الذهبي في "تلخيصه" فقوَّى الإسناد. وأخرجه آدم بن أبي إياس في "تفسيره" 2/ 450 - 451 حماد بن سلمة، وأخرجه أيضًا أسدُ بن موسى في "الزهد" (53)، والدارمي في "الرد على الجهمية" (142)، وفي "نقضه على بشر المريسي" 1/ 476 - 477، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 8/ 2682 من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد. وهو عند بعضهم مختصر.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند علی بن زید (ابن جدعان) کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، اور حافظ ذہبی نے "تلخیص" میں تساہل برتتے ہوئے اسے قوی کہا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے آدم بن ابی ایاس نے اپنی "تفسیر" (2/ 450-451) میں حماد بن سلمہ سے، نیز اسد بن موسیٰ نے "الزہد" (53) میں، دارمی نے "الرد علی الجہمیہ" (142) اور "نقضہ علی بشر المریسی" (1/ 476-477) میں، اور ابن ابی حاتم نے "تفسیر" (8/ 2682) میں حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ان میں سے بعض کے ہاں یہ مختصر ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "التفسير" 19/ 6 - 7 من طريق مبارك بن فضالة، عن علي بن زيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسی جیسی روایت طبری نے "تفسیر" (19/ 6-7) میں مبارک بن فضالہ عن علی بن زید کے طریق سے نکالی ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن المبارك في الزهد برواية نعيم بن حماد (353)، وابن أبي الدنيا في "الأهوال" (173)، والحارث بن أبي أسامة في "مسنده" (1122 - بغية الباحث)، وأبو نعيم في "الحلية" 6/ 62 من طريق عوف الأعرابي، عن أبي المنهال سيّار بن سلامة الرِّياحي، عن شهر بن حوشب عن ابن عباس. وشهر فيه ضعف.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسی طرح ابن مبارک نے "الزہد" میں نعیم بن حماد کی روایت سے (353)، ابن ابی الدنیا نے "الأہوال" (173)، حارث بن ابی اسامہ نے "مسند" (1122 - بغیۃ الباحث) اور ابونعیم نے "الحلیہ" (6/ 62) میں عوف الاعرابی عن ابی المنہال سیار بن سلامہ الریاحی عن شہر بن حوشب عن ابن عباس کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راوی) شہر بن حوشب میں کمزوری (ضعف) ہے۔
ورواه غسان بن بُرْزِين عند أسد بن موسى في "الزهد" (52) عن سيار بن سلامة، عن أبي العالية الرياحي، عن ابن عباس. ورجال هذه الرواية، ثقات، إلَّا أنها شاذة، فقد خالف غسان من هو أوثق وأثبت منه، وهو عوف الأعرابي في الرواية السابقة، فذكر فيه شهرًا مكان أبي العالية.
📖 حوالہ / مصدر: اسے غسان بن برزین نے اسد بن موسیٰ کی "الزہد" (52) میں سیار بن سلامہ عن ابی العالیہ الریاحی عن ابن عباس کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس روایت کے راوی ثقہ ہیں، مگر یہ روایت "شاذ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ غسان نے اپنے سے زیادہ ثقہ اور ثبت راوی (عوف الاعرابی) کی مخالفت کی ہے (جن کی روایت اوپر گزری)، چنانچہ عوف نے اس میں (ابی العالیہ کے بجائے) "شہر بن حوشب" کا ذکر کیا ہے۔
وقد ورد قريب من خبر ابن عباس هذا في حديث الصور الطويل من حديث أبي هريرة مرفوعًا إلى النبي ﷺ، فيما أخرجه إسحاق بن راهويه في "مسنده" (10)، وابن أبي الدنيا في "الأهوال" (155)، والطبري في "التفسير" 2/ 330 - 331، وغيرهم وفيه إسماعيل بن رافع قاص أهل المدينة، وهو ضعيف بمرَّة.
🧩 متابعات و شواہد: ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اس خبر کے قریب قریب مضمون حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے "حدیثِ صور" (بگل والی طویل حدیث) میں "مرفوعاً" نبی ﷺ سے مروی ہے، جسے اسحاق بن راہویہ نے "مسند" (10)، ابن ابی الدنیا نے "الأہوال" (155)، طبری نے "تفسیر" (2/ 330-331) اور دیگر نے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں "اسماعیل بن رافع" (مدینہ کا قصہ گو) ہے، اور وہ بالکل ضعیف (ضعیف بمرّہ) ہے۔