🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. ذكر أهون أهل النار عذابا يوم القيامة
قیامت کے دن جہنمیوں میں سب سے ہلکے عذاب والے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8944
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتَيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، حدثنا محمد بن عَجْلان قال: سمعت أَبي يحدِّث عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إنَّ أهوَنَ [أهلِ] (1) النار عذابًا يوم القيامة، رجلٌ يُحذَى له نَعلانِ من نارٍ يَغْلي منهما دماغُه يومَ القيامةِ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شواهدُ عن عبد الله بن عباس والنُّعمان بن بَشير وأبي سعيد الخُدْري عن رسول الله ﷺ بألفاظ مختلفة. أما حديث النُّعمان بن بَشير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8729 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن جس کو سب سے ہلکا عذاب دیا جائے گا، اس کو آگ کے جوتے پہنا دیے جائیں گے، جس کی تپش کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی کچھ شواہد احادیث بھی موجود ہیں، جو کہ سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا نعمان بن بشیر اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، ان کے الفاظ میں کچھ فرق ہے۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8944]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8944 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) سقط من نسخنا الخطية، وهو ثابت في "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: یہ (عبارت) ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط ہے، جبکہ ذہبی کی "تلخیص" میں موجود ہے۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد من أجل محمد بن عجلان وأبيه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند محمد بن عجلان اور ان کے والد کی وجہ سے "جید" (عمدہ) ہے۔
وأخرجه أحمد (15 (9576) و (9660) عن يحيى بن سعيد القطان، وابن حبان (7472) من طريق الليث بن سعد، كلاهما عن محمد بن عجلان به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (15/ 9576، 9660) نے یحییٰ بن سعید القطان سے، اور ابن حبان (7472) نے لیث بن سعد کے طریق سے تخریج کیا ہے، اور یہ دونوں محمد بن عجلان سے روایت کرتے ہیں۔
ويشهد له ما بعده من الأحاديث.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید بعد میں آنے والی احادیث سے ہوتی ہے۔
قوله: "يُحذَى له" أي: يُقطَع له.
📝 نوٹ / توضیح: قول "يُحذَى له" کا مطلب ہے: اس کے لیے کاٹ دیا جائے گا (یا جوتا بنا دیا جائے گا)۔