المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. رجوع الناس للشفاعة إلى الأنبياء عليهم السلام
لوگوں کا سفارش (شفاعت) کے لیے انبیاء علیہم السلام کی طرف رجوع کرنا
حدیث نمبر: 8963
حدثنا أبو العباس محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكَّة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيَينة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: كان عبدُ الله بن رَوَاحةً واضعًا رأسَه في حَجْرِ امرأتِه، فبكى فبَكَت امرأتُه فقال: ما يُبكيكِ؟ قالت: رأيتُك تبكي فبكيتُ، قال: إني ذكرتُ قول الله ﷿: ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ فلا أدري أنَنجُو منها أم لا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8748 - فيه إرسال
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8748 - فيه إرسال
سیدنا قیس بن ابی حازم بیان كرتے ہیں كہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ كی گود میں سر رکھے رو رہے تھے، ان كو دیكھ كر ان كی زوجہ بھی رونے لگ گئی، انہوں نے زوجہ سے رونے كی وجہ پوچھی تو انہوں نے كہا: میں نے آپ كو روتے دیكھا تو میں بھی رونے لگ گئی، آپ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد آ گیا: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] ” اور تم میں كوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو “ (ترجمہ: كنزالایمان،) مجھے یہ نہیں پتا كہ میں اس سے نجات پاؤں گا یا نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8963]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8963 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات. وهو في "تفسير عبد الرزاق" 2/ 10 - 11.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ "تفسیر عبد الرزاق" (2/ 10-11) میں موجود ہے۔