المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. يفترق الناس عند خروج الدجال ثلاث فرق
دجال کے خروج کے وقت لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے
حدیث نمبر: 8988
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد قال: قُرِئَ على يحيى ابن جعفر بن الزِّبرقان، وأنا أسمعُ حدثنا علي بن عاصم، حدثنا بَهزُ بن حَكيم، عن أبيه، عن جدِّه قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلت: يا نبيَّ الله، ما أتيتُك حتى حلفتُ [أكثرَ] من [عَدَد] (2) هؤلاء - يعني الكفَّين جميعًا - لا آتيك ولا آتي دينَك، وقد كنتُ امرَأً لا أَعقِلُ شيئًا إِلَّا ما علَّمني اللهُ ورسولُه، فإني أسألك بوَجْه الله: بِمَ بَعَثَكَ رَبُّنا؟ قال:"بالإسلام" قال: قلت: يا نبيَّ الله، وما آيةُ الإسلام؟ قال:"أن تقول: أسلمتُ وجهيَ لله وتخلَّيتُ، وتقيمَ الصلاةَ، وتؤتيَ الزكاةَ، كلُّ مسلمٍ عن مسلمٍ محرَّمٌ، أَخَوانِ نَصيرانِ، لا يَقبَلُ الله من مسلم أشركَ بعدما أسلمَ عملًا حتى يفارقَ المشركين إلى المسلمين. ما لي آخُذُ بحُجَزِكم عن النار، ألَا إِنَّ رَبِّي داعيَّ، ألَا وإنه سائلي: هل بلَّغتَ (3) عبادي؟ وإني قائل: ربِّ قد بلَّغْتُهم، فليُبلِّغ شاهدُكم غائبَكم، ثم إنكم تُدعَوْنَ مُقدَّمةً أفواهُكم بالفِدام، ثم أولُ ما يُبين عن أحدكم لَفَخِذُه وكفُّه" قال: قلت: يا رسول الله، هذا دينُنا؟ قال:"هذا دِينكُم (1) ، وأَيْنَما تُحسِنْ يَكفِكَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8774 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8774 - صحيح
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اور عرض کی: اے اللہ کے نبی میں آپ کے پاس اس سے بھی زیادہ چھوڑ کر آیا ہوں (دونوں ہاتھ جمع کر کے کہا) نہ میں آپ کے دین کے لئے آیا ہوں اور نہ آپ کے پاس آیا ہوں، میں ایسا آدمی تھا جو اللہ اور اس کے رسول کے سكھائے ہوئے کے علاوہ كچھ بھی نہیں جانتا تھا، میں آپ كو اللہ کا واسطہ دے كر سوال كرتا ہوں، ہمارے رب نے آپ كو كیا چیز دے كر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے كہا: اے اللہ کے نبی! اسلام كی نشانی كیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ كہ تم كہو: میں نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھكایا اور تم نماز قائم كرو، زكوۃ ادا كرو، ہر مسلمان کے لئے، دوسرا مسلمان حرمت والا ہے دونوں بھائی بھائی ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس مسلمان كی عبادت قبول نہیں كرتا جو اسلام لانے کے بعد جان بوجھ كر شرک كرے، حتی كہ وہ مشركوں كو چھوڑ كر دوبارہ مسلمانوں میں آ جائے، مجھے كیا ہے، تمہیں پیٹھ سے پكڑ پكڑ كر دوزخ سے بچاتا ہوں، سن لو خبردار! میرا رب داعی ہے، خبردار! وہ مجھ سے پوچھے گا كہ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا؟ اور میں كہوں گا: اے میرے رب! میں نے پہنچا دیا ہے۔ اس لئے جو لوگ اس وقت موجود ہیں، یہ ان تمام تک میرا پیغام پہنچا دیں جو اس وقت غیر حاضر ہیں، پھر تمہیں بلایا جائے گا، تمہارے منہ پر چھینكا لگا دیا جائے گا، تمہارے اعضاء میں سب سے پہلے جو گواہی دے گا وہ تمہارے ران اور ہتھیلیاں ہوں گی۔ میں نے كہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہمارا دین ہے، اور اس حسن عمل كی تو بات ہی كیا ہے جو آپ کے مبارک ہاتھوں نے كئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8988]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8988 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين المعقوفين من "تلخيص الذهبي" وليس في النسخ الخطية.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) جو عبارت بریکٹ کے درمیان ہے وہ ذہبی کی "تلخیص" سے لی گئی ہے، یہ قلمی نسخوں میں موجود نہیں ہے۔
(3) في (ز) و (ك) و"التلخيص": بلَّغته؛ بهاءِ، تعود على الإسلام، والمثبت من (م) و (ب).
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) نسخہ (ز)، (ک) اور "تلخیص" میں یہ لفظ "بَلَّغْتُهُ" (ھا ضمیر کے ساتھ) ہے، جو اسلام کی طرف لوٹ رہی ہے، جبکہ جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے وہ نسخہ (م) اور (ب) سے لیا گیا ہے۔
(1) قوله: "قال: هذا دينكم" سقط من (ز) و (ب).
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) قول: "قَالَ: هَذَا دِينُكُمْ" نسخہ (ز) اور (ب) سے ساقط ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل بهز بن حكيم وأبيه، وعلي بن عاصم الواسطي يعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد تابعه عليه غير واحد.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند بہز بن حکیم اور ان کے والد کی وجہ سے حسن ہے، اور علی بن عاصم الواسطی کا اعتبار متابعات اور شواہد میں کیا جاتا ہے، اور اس روایت پر ایک سے زائد راویوں نے ان کی متابعت کی ہے۔
فقد أخرجه أحمد 33 / (20037) و (20043)، وابن ماجه (2536)، والنسائي (2227) و (2360) و (11405) من طرق عن بهز بن حكيم بهذا الإسناد. وبعضهم اختصره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (20037/33) اور (20043)، ابن ماجہ (2536)، اور نسائی (2227)، (2360) اور (11405) نے مختلف طرق سے بہز بن حکیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ بعض نے اسے مختصر بیان کیا ہے۔
وأخرج الشطر الأول منه أحمد (20011)، والنسائي (2228)، وابن حبان (160) من طريق أبي قزعة الباهلي، عن حكيم بن معاوية، عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کا پہلا حصہ امام احمد (20011)، نسائی (2228) اور ابن حبان (160) نے ابو قزعہ الباہلی کے طریق سے، حکیم بن معاویہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔
وقصة الفدام سلفت عند المصنف برقم (3686) من طريق سعيد الجريري، و (3687) من طريق أبي قزعة، كلاهما عن حكيم بن معاوية.
📖 حوالہ / مصدر: اور فدام (منہ پر پٹی باندھنے) کا قصہ مصنف کے ہاں پہلے نمبر (3686) پر سعید الجریری کے طریق سے، اور (3687) پر ابو قزعہ کے طریق سے گزر چکا ہے، یہ دونوں حکیم بن معاویہ سے روایت کرتے ہیں۔
قوله: "بحُجَزكم" جمع حُجْزة، وهي مَعقِد الإزار من وسط الإنسان.
📝 نوٹ / توضیح: قول: "بِحُجَزِكُمْ": یہ حُجزہ کی جمع ہے، اور یہ انسانی جسم کے وسط میں تہبند باندھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
وقوله في الإجابة على الإسلام: "أن تقول: أسلمت وجهي الله وتخلَّيتُ" هكذا وقع عند أكثر الرواة عن بهز وخالفهم معمر بن راشد فرواه في "جامعه" (20115) عن بهز بلفظ: "تشهد أن لا إلَّا الله وأنَّ محمدًا رسول الله"، وهكذا وقع في رواية الثقة أبي قزعة الباهلي عن حكيم بن معاوية، وهذا هو الموافق لما صحَّ من الأحاديث والآثار في المطالبة بإسلام المشركين، وأما قوله: "أن تقول: أسلمت … إلخ" فهو مقتضى النطق بالشهادتين، ولعلّ رواة حديث حكيم بن معاوية قد أخلُّوا بالرواية فاختصروها، والله تعالى أعلم.
🧾 تفصیلِ روایت: اور اسلام کے بارے میں جواب دیتے ہوئے آپ ﷺ کا یہ فرمانا: "تم یہ کہو: میں نے اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کیا اور میں (شرک سے) الگ ہو گیا"؛ بہز سے روایت کرنے والے اکثر راویوں کے ہاں الفاظ اسی طرح آئے ہیں۔ لیکن معمر بن راشد نے ان کی مخالفت کی ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے "جامع" (20115) میں اسے بہز سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں"۔ اور اسی طرح ثقہ راوی ابو قزعہ الباہلی کی روایت میں بھی ہے جو وہ حکیم بن معاویہ سے کرتے ہیں۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: اور مشرکین سے اسلام کے مطالبے کے بارے میں جو صحیح احادیث و آثار ثابت ہیں، یہ (شہادتین والے الفاظ) انہی کے موافق ہیں۔ رہی بات اس قول کی کہ: "تم کہو: میں نے اپنا چہرہ سپرد کیا... الخ" تو یہ شہادتین کی ادائیگی کا تقاضا/مفہوم ہے، شاید حکیم بن معاویہ کی حدیث کے راویوں نے روایت میں کچھ خلل پیدا کیا ہے اور اسے مختصر کر دیا ہے (یعنی اصل الفاظ کی جگہ مفہوم ادا کر دیا)، واللہ تعالیٰ اعلم۔