🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. يَفْتَرِقُ النَّاسُ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ ثَلَاثَ فِرَقٍ
دجال کے خروج کے وقت لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8985
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَقعَدُ الكافرِ من النار مسيرةُ ثلاثةِ أيام، وكلُّ ضِرسٍ مثلُ أُحد، وفَخِذه مثلُ وَرِقان، وجلده سوى لحمه وعظامه أربعون ذراعًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8771 - صحيح
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوزخ میں کافر كی سرین تین دن كی مسافت تک پھیلی ہو گی اور اس كی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو چكی ہو گی، اس كی ران، ورقان پہاڑ كی مانند ہو گی، اس کا چمڑہ گوشت اور ہڈیوں کے علاوہ چالیس گز موٹا ہو چكا ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8985]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8986
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أَسِيد ابن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان بن سعيد، حدثنا سَلَمة بن كُهيل، عن أبي الزَّعراءِ قال: ذُكِرَ الدجالُ عند عبد الله فقال: تفترقون أيُّها الناسُ عند خروجه ثلاثَ فِرَق: فرقةٌ تَتْبعُه، وفرقةٌ تَلحَقُ بآبائها بمنابت الشِّيح، وفرقةٌ تأخذُ شطَّ هذا الفُراتِ يقاتلهم ويقاتلونه حتى يُقتلوا بغَرْبيِّ الشام، فيبعثون طليعةً فيهم فرسٌ أشقرُ أو أبلَقُ، فيقتتلون، فلا يَرجِعُ منهم أحدٌ - قال: وأخبرني أبو صادق عن ربيعةَ بن ناجذٍ: أنه فرسٌ أشقر ويَزعُمَ أهلُ الكتاب أنَّ المسيح ﵇ يَنزِل فيقتلُه. ويخرج يأجوجُ ومأجوجُ، وهم من كل حَدَبٍ يَنسِلون، فيَمُوجُون في الأرض فيُفسِدون فيها - ثم قرأ عبد الله: ﴿وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ - فيَبعَثُ اللهُ عليهم دابَّةً مثل النَّغَفِ، فتَلِجُ في أسماعِهم ومَناخِرهم فيموتون منها، فتُنتِنُ الأرضُ منهم، فيُجأَرُ إلى الله ﷿، فيرسل ماءً فيطهِّر الأرض منهم. ويَبعَثُ الله ريحًا فيها زَمهَريرٌ باردة، فلا يَدعُ على الأرض مؤمنًا إِلَّا كُفِتَ بتلك الريح، ثم تقوم الساعةُ على شِرار الناس. ثم يقومُ مَلَكٌ بالصُّور بين السماء والأرض فيَنفُخُ فيه، فلا يبقى خلقٌ الله في السماوات والأرض إلَّا مات إلَّا مَن شاءَ ربُّك، ثم يكون بين النَّفختَين ما شاء الله، فليس من بني آدم أحدٌ إِلَّا في الأرض منه شيء، ثم يرسل اللهُ ماءً من تحت العرش مَنِيًّا كَمَنِيِّ الرّجال، فتَنبُتُ لُحْمَانُهم وجُثمانُهم كما تنبت الأرضُ من الثّرى - ثم قرأ عبد الله: ﴿وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ (1) الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ﴾ حتى بلغ ﴿كَذَلِكَ النُّشُورُ﴾ [فاطر: 9] - ثم يقومُ مَلَكٌ بالصُّور بين السماء والأرض فيَنفُخُ فيه، فتنطلقُ كلُّ روحٍ إلى جسدها فتدخلُ فيه، فيقومون فيَحيَوْنَ تَحيَّةَ رجلٍ واحد قيامًا لرب العالمين. ثم يتمثَّلُ اللهُ تعالى للخَلْق، فيلقَى اليهود فيقول: مَن تَعبُدون؟ فيقولون: نعبدُ عُزيرًا، فيقول: هل يَسُرُّكم الماءُ؟ قالوا: نعم، فيُرِيهِم جَهَنَّمَ وهي كَهَيْئةِ السَّرَاب - ثم قرأ عبد الله: ﴿وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا﴾ [الكهف: 100] - ثم يَلقَى النصارى فيقول: مَن تعبدون؟ فيقولون: نعبدُ المسيحَ، فيقول: هل يَسرُّكم الماءُ؟ فيقولون: نعم، فيُرِيهم جهنَّمَ وهي كهيئةِ السَّراب، ثم كذلك من كان يعبد من دونَ الله شيئًا - ثم قرأ عبد الله: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ [الصافات: 24] - حتى يبقى المسلمون فيقول: مَن تَعبُدون؟ فيقولون: نعبدُ الله لا نشركُ به شيئًا، فيَنْتَهِرُهم مرتين أو ثلاثًا: مَن تَعبُدون؟ فيقولون: نعبدُ اللهَ لا نشرك به شيئًا، فيقول: هل تعرفون ربَّكم؟ فيقولون: سبحانَه إذا اعتَرَفَ لنا عَرَفْناه، فعند ذلك يُكشَفُ عن ساقٍ، فلا يبقى مؤمن إِلَّا خَرَّ لله ساجدًا، ويبقى المنافقون ظهورُهم طَبَقٌ واحدٌ كأنما فيها السَّفافيدُ، فيقولون: ربَّنا، فيقول: قد كنتم تُدعَون إلى السجود وأنتم سالِمون. ثم يأمرُ اللهُ بالصِّراط فيُضرَبُ على جهنَّم، فيمرُّ الناس بقدر أعمالهم زُمَرًا، أوائلهم كلَمْح البَرْق، ثم كمَرِّ الرِّيح، ثم كمَرِّ الطَّير، ثم كمَرِّ البهائم، ثم يمرُّ الرجل سعيًا، ثم يمرُّ الرجل مشيًا، حتى يجئَ آخرهم رجلٌ يَتلبَّطُ على بطنه، فيقول: يا ربِّ، لِمَ بطَّأتَ بي؟! قال: إني لم أُبطِئْ بك، إنما أبطأَ بك عملُك. ثم يَأْذَنُ الله في الشَّفاعة، فيكونُ أولَ شافع رُوحُ القُدُس جبريلُ، ثم إبراهيمُ، ثم موسى، ثم عيسى، ثم يقومُ نبيُّكم ﷺ فلا يَشْفَعُ أحدٌ فيما يَشفَعُ فيه، وهو المَقامُ المحمودُ الذي ذكره الله تعالى ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء:79] ، فليس من نفس إلَّا وهي تنظرُ إلى بيتٍ في الجنة وبيتٍ في النار، قال: وهو يومُ الحَسْرة، فيرى أهلُ النار البيتَ الذي في الجنة - قال سفيان: أَوّاهٍ لو عَلِمْتُم يومَ يرى أهلُ الجنة الذي في النار فيقولون: لولا أنْ مَنَّ اللهُ علينا- ثم تَشفعُ الملائكةُ والنبيُّون والشهداءُ والصالحون، والمؤمنون، فيُشفِّعُهم الله، ثم يقول: أنا أرحمُ الراحمين، فيُخرِجُ من النار أكثرَ مما أَخرج جميعُ الخلق برحمتِهِ، حتى لا يتركَ أحدًا فيه خيرٌ - ثم قرأ عبد الله: يا أيُّها الكفّارُ ﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ﴾ [المدثر:42] ، وقال بيدِه فعَقَده، فقالوا: ﴿لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (45) وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ﴾، هل تَرَونَ في هؤلاء من خيرٍ؟! وما يُترَك فيها أحدٌ فيه خيرٌ - فإذا أراد الله أن لا يُخرِجَ أحدًا غيَّرَ وجوهَهم وألوانَهم، فيجئُ الرجلُ فيَشفعُ فيقول: مَن عَرَفَ أحدًا فليُخرجه، فيجئُ فلا يعرفُ أحدًا، فيناديه رجل فيقول: أنا فلان، فيقول: ما أعرفُك، فعند ذلك قالوا: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ (107) قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: 107 - 108] ، فإذا قال ذلك، انطبَقَت عليهم، فلم يَخْرُجْ منهم بشرٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوالزعراء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا تذکرہ ہوا، آپ نے فرمایا: دجال کے ظہور کے موقع پر لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ اس کا پیروکار ہو جائے گا، ایک فرقہ جزیرہ عرب میں اپنے گھر والوں کے پاس چلا جائے گا، اور ایک فرقہ اس فرات کے کنارے پر آ کر ان سے جہاد کرے گا، حتی کہ جہاد کا یہ سلسلہ غربی شام تک پہنچ جائے گا۔ یہ ایک لشکر بھیجیں گے، ان میں سرخی مائل گھوڑے پر یا چتکبرے گھوڑے پر سوار ہو گا، یہ ان کے ساتھ جہاد کریں گے، لیکن ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آئے گا۔ سیدنا ربیعہ بن ناجد فرماتے ہیں: سرخی مائل گھوڑے پر سوار کے بارے میں، آپ فرماتے ہیں: اہل کتاب یہ سمجھتے ہیں کہ مسیح عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر اس کو قتل کریں گے، اور یاجوج و ماجوج نکلیں گے، وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ جانوروں کے ناک میں پیدا ہونے والے وبائی کیڑے کی مثل کوئی جانور بھیجے گا، وہ ان کے کانوں اور ناکوں میں گھس جائے گا جس کی وجہ سے وہ سب مر جائیں گے، ان کی وجہ سے پوری زمین بدبودار ہو جائے گی، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی جائے گی، اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا، وہ بارش پوری زمین کو دھو کر صاف کر دے گی، پھر اللہ تعالیٰ انتہائی ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، وہ زمین پر کسی مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑے گی، پھر کائنات کے خبیث ترین لوگوں پر قیامت قائم ہو گی، پھر فرشتہ زمین اور آسمان کے درمیان صور لے کر کھڑا ہو گا اور اس کو بجائے گا۔ آسمانوں میں اور زمین میں رہنے والی تمام مخلوقات اس کی وجہ سے مر جائیں گے سوائے ان کے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نہ مارنا چاہے گا، پھر اس کے بعد دوسری مرتبہ صور پھونكنے کے درمیان ایک عرصہ گزرے گا جتنا اللہ چاہے گا، انسان کے جسم کا كچہ حصہ زمین میں باقی بچے گا، پھر اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے پانی بھیجے گا، یہ پانی مردوں كی منی جیسا ہو گا، پھر ان کے گوشت جسم كی طرح اگیں گے، جیسا كہ بارش کی وجہ سے زمین اگتی ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑہی: {اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ} حَتَّى بَلَغَ {كَذَلِكَ النُّشُورُ} [فاطر: 9] اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں تو اس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے یونہی حشر میں اٹھنا ہے (امام احمد رضا) پھر فرشتہ دوبارہ صور لے کر زمین اور آسمان کے درمیان کھڑا ہو گا اور اس میں پھونک مارے گا، ہر روح اپنے اپنے جسم کی طرف دوڑے گی اور آ کر اس میں داخل ہو جائے گی، پھر لوگ کھڑے ہوں گے اور سب ایک آدمی کی مانند اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے، اللہ تعالیٰ مخلوق کے لئے ایک صورت میں ظاہر ہو گا، یہودی، اللہ تعالیٰ سے ملیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تم کسی کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم سیدنا عزیر علیہ السلام کی عبادت کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم کو پانی کی طلب ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، ان کو جہنم دکھائی جائے گی، وہ سراب کی مانند ہو گی، پھر سیدنا عبداللہ نے آیت پڑھی {وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا} [الكهف: 100] پھر عیسائی، اللہ تعالیٰ سے ملیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم مسیح کی عبادت کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تمہیں پانی کی طلب ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں۔ ان کو جہنم دکھائی جائے گی، وہ سراب کی مانند ہو گی، یہی سلوک ان تمام لوگوں کے ساتھ ہو گا جو غیراللہ کی عبادت کیا کرتے تھے، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: 24] اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے (ترجمہ كنزالایمان، امام احمد رضا) صرف مسلمان باقی بچیں گے، اللہ فرمائے گا: تم كس كی عبادت كیا كرتے تھے؟ وہ كہیں گے: ہم اللہ كی عبادت كرتے تھے اور اس کے ساتھ كسی كو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، اللہ تعالیٰ دو تین مرتبہ ان سے یہی سوال كرے گا: وہ آگے سے یہی جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: كیا تم اپنے رب كو پہچانتے ہو؟ وہ كہیں گے، جب اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پہچان كروائے گا تو ہم اس كو پہچان لیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ كشف ساق فرمائے گا، ہر مومن اللہ تعالیٰ كی بارگاہ میں سر بسجود ہو جائے گا، منافقین رہ جائیں گے، ان سے سجدہ نہیں ہو پائے گا، ان كی پشت ایک سیدھی سلیٹ کی مانند ہو گی، گویا کہ ان میں سکہ پگھلا کر ڈال دیا گیا ہے، وہ اپنے رب کو پکاریں گے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہیں اس وقت سجدے کا کہا گیا تھا جب تم سلامت تھے، پھر اللہ تعالیٰ پل صراط بچھانے کا حکم دے گا، دوزخ پر پل صراط بچھا دیا جائے گا، لوگوں کی جماعتیں اپنے اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے گزریں گی، سب سے پہلی جماعت بجلی کی چمک کی مانند گزریں گے، بعد والے ہوا کی طرح، ان کے بعد والے پرندے کی پرواز سے، ان کے بعد والے جانوروں کی مثل، حتی کہ کئی لوگ دوڑ کر گزریں گے، پھر ایک آدمی پیدل چلتا ہوا گزرے گا، اور سب سے آخری شخص پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا گزرے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب، تو نے مجھے کیوں دیر کروا دی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھے لیٹ نہیں کروایا، بلکہ تیرے اعمال نے تجھے لیٹ کروایا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اذن شفاعت عطا فرمائے گا، سب سے پہلے روح القدس سیدنا جبریل امین علیہ السلام شفاعت کریں گے، پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام، پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام، پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام شفاعت فرمائیں گے، پھر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کریں گے۔ جن کی شفاعت ہو چکی ہو گی، ان کی دوبارہ شفاعت نہیں ہو گی۔ یہ ہے وہ مقام محمود جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ کے ہمراہ کیا ہے {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكُ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں (امام احمد رضا) اس وقت ہر شخص جنت میں اپنے گھر کو دیکھ رہے ہوں گے، سیدنا سفیان فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ بھی فرمایا: کاش کہ تم جان لو جب جنتی لوگ دوزخ کے حالات دیکھ کر کہیں گے، اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہم اس دوزخ میں ہوتے پھر فرشتے شفاعت کریں گے، پھر دیگر انبیاء کرام، پھر شہداء، پھر صالحین، پھر دیگر مومنین شفاعت کریں گے، اللہ تعالیٰ ان سب کی شفاعت قبول فرمائے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہوں، پھر تمام ہستیوں کی شفاعت سے جتنے لوگ دوزخ سے باہر آئے ہوں گے، اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے صدقے میں دوزخ سے آزاد کرے گا۔ حتی کہ ایسا کوئی شخص دوزخ میں نہیں رہنے دیا جائے گا جس میں بھلائی ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ نے اپنی مٹھی کو بند کر کے یہ آیت پڑھی {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ} [المدثر: 42] تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی کیا تم ان میں کوئی بھلائی دیکھتے ہو؟ حالانکہ دوزخ میں ایسا کوئی شخص رہنے ہی نہیں دیا جائے گا جس میں کچھ بھی بھلائی ہو، پھر جب اللہ تعالیٰ یہ ارادہ فرمائے گا کہ اب مزید کسی کو دوزخ میں سے نہ نکالا جائے تو اللہ تعالیٰ ان کے رنگ اور شکلیں تبدیل فرما دے گا، پھر جب کوئی شخص ان کی شفاعت کرنے آئے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ تو دوزخ میں سے جس کو پہچانتا ہے اس کو وہاں سے نکال کر لے آ۔ وہ دوزخ میں آئے گا تو اس میں کسی کو بھی نہیں پہچانے گا، بندہ اس کو آوازیں دے دے کر اپنا تعارف کروائے گا کہ میں فلاں ہوں، وہ شفاعت کرنے والا کہے گا: میں تجھے نہیں پہچانتا (تم لوگ کس بنا پر دوزخ میں گئے ہو؟) وہ لوگ کہیں گے: {قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ} [المدثر: 44] وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اور بے ہودہ فكر والوں کے ساتھ بے ہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے تھے جب وہ یہ بات کہیں گے، تو دوزخ بند کر دی جائے گی، پھر ان میں سے کوئی شخص باہر نہیں نکل سکے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس كو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8986]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8987
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث عن دَرَّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لو أنَّ مِقمَعًا من حديدٍ وُضِعَ في الأرض فاجتمع له الثَّقَلانِ، ما أقلُّوه من الأرض" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8773 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر (دوزخ کا) لوہے کا ایک درہ زمین پر رکھ دیا جائے، تمام جنات اور تمام انسان مل کر بھی اس کو زمین سے نہیں اٹھا سکتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس كو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8987]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8988
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد قال: قُرِئَ على يحيى ابن جعفر بن الزِّبرقان، وأنا أسمعُ حدثنا علي بن عاصم، حدثنا بَهزُ بن حَكيم، عن أبيه، عن جدِّه قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلت: يا نبيَّ الله، ما أتيتُك حتى حلفتُ [أكثرَ] من [عَدَد] (2) هؤلاء - يعني الكفَّين جميعًا - لا آتيك ولا آتي دينَك، وقد كنتُ امرَأً لا أَعقِلُ شيئًا إِلَّا ما علَّمني اللهُ ورسولُه، فإني أسألك بوَجْه الله: بِمَ بَعَثَكَ رَبُّنا؟ قال:"بالإسلام" قال: قلت: يا نبيَّ الله، وما آيةُ الإسلام؟ قال:"أن تقول: أسلمتُ وجهيَ لله وتخلَّيتُ، وتقيمَ الصلاةَ، وتؤتيَ الزكاةَ، كلُّ مسلمٍ عن مسلمٍ محرَّمٌ، أَخَوانِ نَصيرانِ، لا يَقبَلُ الله من مسلم أشركَ بعدما أسلمَ عملًا حتى يفارقَ المشركين إلى المسلمين. ما لي آخُذُ بحُجَزِكم عن النار، ألَا إِنَّ رَبِّي داعيَّ، ألَا وإنه سائلي: هل بلَّغتَ (3) عبادي؟ وإني قائل: ربِّ قد بلَّغْتُهم، فليُبلِّغ شاهدُكم غائبَكم، ثم إنكم تُدعَوْنَ مُقدَّمةً أفواهُكم بالفِدام، ثم أولُ ما يُبين عن أحدكم لَفَخِذُه وكفُّه" قال: قلت: يا رسول الله، هذا دينُنا؟ قال:"هذا دِينكُم (1) ، وأَيْنَما تُحسِنْ يَكفِكَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8774 - صحيح
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اور عرض کی: اے اللہ کے نبی میں آپ کے پاس اس سے بھی زیادہ چھوڑ کر آیا ہوں (دونوں ہاتھ جمع کر کے کہا) نہ میں آپ کے دین کے لئے آیا ہوں اور نہ آپ کے پاس آیا ہوں، میں ایسا آدمی تھا جو اللہ اور اس کے رسول کے سكھائے ہوئے کے علاوہ كچھ بھی نہیں جانتا تھا، میں آپ كو اللہ کا واسطہ دے كر سوال كرتا ہوں، ہمارے رب نے آپ كو كیا چیز دے كر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے كہا: اے اللہ کے نبی! اسلام كی نشانی كیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ كہ تم كہو: میں نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھكایا اور تم نماز قائم كرو، زكوۃ ادا كرو، ہر مسلمان کے لئے، دوسرا مسلمان حرمت والا ہے دونوں بھائی بھائی ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس مسلمان كی عبادت قبول نہیں كرتا جو اسلام لانے کے بعد جان بوجھ كر شرک كرے، حتی كہ وہ مشركوں كو چھوڑ كر دوبارہ مسلمانوں میں آ جائے، مجھے كیا ہے، تمہیں پیٹھ سے پكڑ پكڑ كر دوزخ سے بچاتا ہوں، سن لو خبردار! میرا رب داعی ہے، خبردار! وہ مجھ سے پوچھے گا كہ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دیا؟ اور میں كہوں گا: اے میرے رب! میں نے پہنچا دیا ہے۔ اس لئے جو لوگ اس وقت موجود ہیں، یہ ان تمام تک میرا پیغام پہنچا دیں جو اس وقت غیر حاضر ہیں، پھر تمہیں بلایا جائے گا، تمہارے منہ پر چھینكا لگا دیا جائے گا، تمہارے اعضاء میں سب سے پہلے جو گواہی دے گا وہ تمہارے ران اور ہتھیلیاں ہوں گی۔ میں نے كہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہمارا دین ہے، اور اس حسن عمل كی تو بات ہی كیا ہے جو آپ کے مبارک ہاتھوں نے كئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8988]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں