🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. باب : ما جاء في الاستماع للخطبة والإنصات لها
باب: خطبہ جمعہ کو خاموشی کے ساتھ غور سے سننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1111
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: تَبَارَكَ وَهُوَ قَائِمٌ"، فَذَكَّرَنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ أَوْ أَبُو ذَرٍّ يَغْمِزُنِي فَقَالَ: مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا الْآنَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ: سَأَلْتُكَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ فَلَمْ تُخْبِرْنِي، فَقَالَ أُبَيٌّ: لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ الْيَوْمَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَ أُبَيٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ أُبَيٌّ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہو کر سورۃ تبارک (سورۃ الملک) پڑھی، اور ہمیں اللہ عزوجل کی طرف سے گزشتہ قوموں پر پیش آنے والے اہم واقعات سے نصیحت کی، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یا ابوذر رضی اللہ عنہ نے میری جانب نظر سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی؟ میں نے تو یہ ابھی سنی ہے، تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان کو اشارہ کیا کہ خاموش رہو، جب وہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ابی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی تو آپ نے نہیں بتایا، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آج آپ کو آپ کی نماز میں ان لغو باتوں کے سوا کچھ بھی اجر و ثواب نہیں ملے گا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، اور ابی رضی اللہ عنہ نے جو بات کہی تھی وہ بھی بتائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1111]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کے دن کھڑے ہو کر (خطبے کے دوران میں) سورہ تبارک (الملک) تلاوت فرمائی، اور اللہ کے ایام (اور ماضی کے سچے واقعات) کے ذریعے سے ہمیں نصیحت فرمائی۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ یا حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر کے کہا: یہ سورت کب نازل ہوئی؟ میں نے تو اب (پہلی بار) سنی ہے۔ انہوں نے اشارے سے کہا: خاموش! نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا: میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ یہ سورت کب نازل ہوئی، آپ نے بتایا ہی نہیں۔ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کو آج نماز میں سے صرف یہی حصہ ملا ہے کہ آپ نے فضول گوئی کی ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ عرض کیا اور حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی بات بھی بتائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی نے درست کہا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 68، ومصباح الزجاجة: 397)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/143) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 80-81)
وضاحت: ۱؎: مسند احمد اور سنن ابوداود میں علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص امام کے نزدیک بیٹھا لیکن اس نے لغو حرکت کی اور خطبہ نہیں سنا، اور خاموش نہیں رہا، تو اس پر وبال کا ایک حصہ ہو گا، اور جس نے کہا: خاموش رہو تو اس نے لغو کیا اور جس نے لغو کیا، اس کا جمعہ نہ ہوا، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایسا ہی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اس باب کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ پڑھنے کے لئے آنے والے پر ہر طرح کی دینی اور دنیاوی بات چیت خطبہ کے دوران ممنوع ہے۔ جس میں ذکر و اذکار بھی داخل ہے، اسی طریقے سے ایک دوسرے کو نصیحت و تلقین بھی، ہاں! ضرورت وحاجت اور شرعی مصلحت کے پیش نظر امام سامعین سے مخاطب ہو سکتا ہے، جیسا کہ کئی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے۔ خود آگے کی حدیث میں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا، نیز سامعین خطبہ کے دوران امام کی متابعت میں صلاۃ و سلام اور اس کی دعاؤں پر آمین بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ واضح رہے کہ اس سے خطبہ کے سننے میں یا مسجد کے احترام میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيلصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبي بن كعب الأنصاري
ثقة
👤←👥شريك بن عبد الله الليثي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله الليثي ← عطاء بن يسار الهلالي
صدوق يخطئ
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← شريك بن عبد الله الليثي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محرز بن سلمة العدني
Newمحرز بن سلمة العدني ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1111
قرأ يوم الجمعة تبارك وهو قائم فذكرنا بأيام الله وأبو الدرداء أو أبو ذر يغمزني فقال متى أنزلت هذه السورة إني لم أسمعها إلا الآن فأشار إليه أن اسكت فلما انصرفوا قال سألتك متى أنزلت هذه السورة فلم تخبرني فقال أبي ليس لك من صلاتك اليوم إلا ما لغوت فذهب إلى ر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1111 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1111
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
خطبے کےدوران میں اگر کوئی مخاطب کرے تو اسے جواب نہ دیا جائے۔

(2)
اشارے سے خاموش کرانا کلام کرنے میں شامل نہیں۔

(3)
خطبے کے دوران میں کلام کرنے سے جمعے کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1111]

Sunan Ibn Majah Hadith 1111 in Urdu