🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
102. . باب : ما جاء فيما يقرأ في الركعتين قبل الفجر
باب: فجر کی سنتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1149
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ ، الْوَاسِطِيَّانِ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فَكَانَ" يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مہینہ تک غور سے دیکھا ہے کہ آپ فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد»  پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1149]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ایک ماہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی نماز) کا مشاہدہ کیا تو آپ فجر کی سنتوں میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 192 (417)، سنن النسائی/الافتتاح 68 (993)، (تحفة الأشراف: 7388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/94، 95، 99) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (417) نسائي (993)
أبو إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة مكثر
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد
Newمحمد بن عبد الله الزبيرى ← سفيان الثوري
ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري
👤←👥محمد بن عبادة الأسدي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن عبادة الأسدي ← محمد بن عبد الله الزبيرى
ثقة
👤←👥أحمد بن سنان القطان، أبو جعفر
Newأحمد بن سنان القطان ← محمد بن عبادة الأسدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
993
يقرأ في الركعتين بعد المغرب وفي الركعتين قبل الفجر قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد
جامع الترمذي
417
رمقت النبي شهرا فكان يقرأ في الركعتين قبل الفجر ب قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد
سنن ابن ماجه
1149
يقرأ في الركعتين قبل الفجر قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد
سنن ابن ماجه
833
يقرأ في المغرب قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1149 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1149
اردو حاشہ:
فائده:
سری نماز میں قدرے بلند آواز میں تلاوت کرنا یا چند الفاظ بلند آواز سے پڑھ دینا جس سے قریب کھڑے آدمی کو معلوم ہوجائے جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1149]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 993
مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں قرأت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیس مرتبہ مغرب کے بعد کی اور فجر کے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد‏» پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 993]
993 ۔ اردو حاشیہ:
➊ مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس حدیث کے بعض حصے کے شواہد صحیح مسلم وغیرہ میں ہیں جبکہ جامع الترمذی اور سنن ابن ماجہ کی تحقیق میں اسی روایت کو حسن قرار دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں محقق کتاب کو سہو ہو گیا ہے، واللہ آعلم۔ علاوہ ازیں دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ محقق عصر شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے۔ بنابریں دلائل کی رو سے مذکور ہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [الموسوعة الحدثیة، مسند الأمام احمد: 382، 381/2، و صحیح سنن النسائي اللألبانی، رقم: 991، و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 289-286/21]
➋ مغرب اور فجر کی سنتوں میں مذکورہ دونوں سورتیں پڑھنا مستحب ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 993]

Sunan Ibn Majah Hadith 1149 in Urdu