🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
121. . باب : ما جاء في الوتر آخر الليل
باب: رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1187
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ لِيَرْقُدْ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو رات کی ابتداء ہی میں وتر پڑھ لے اور سو جائے، اور جس کو امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو جائے گا تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی قراءت میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 21 (755)، سنن الترمذی/الصلاة 217 (455)، (تحفة الأشراف: 2297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 315، 389) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥طلحة بن نافع القرشي، أبو سفيان
Newطلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← طلحة بن نافع القرشي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الملك بن حميد الخزاعي
Newعبد الملك بن حميد الخزاعي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← عبد الملك بن حميد الخزاعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1767
أيكم خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر ثم ليرقد ومن وثق بقيام من الليل فليوتر من آخره فإن قراءة آخر الليل محضورة وذلك أفضل
صحيح مسلم
1766
من خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر أوله ومن طمع أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل فإن صلاة آخر الليل مشهودة وذلك أفضل
جامع الترمذي
455
من خشي منكم أن لا يستيقظ من آخر الليل فليوتر من أوله ومن طمع منكم أن يقوم من آخر الليل فليوتر من آخر الليل فإن قراءة القرآن في آخر الليل محضورة وهي أفضل
سنن ابن ماجه
1187
من خاف منكم أن لا يستيقظ من آخر الليل فليوتر من أول الليل ثم ليرقد ومن طمع منكم أن يستيقظ من آخر الليل فليوتر من آخر الليل فإن قراءة آخر الليل محضورة وذلك أفضل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1187 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1187
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنا افضل ہے۔

(2)
اس وقت وتر سے پہلے بھی کچھ نوافل پڑھ لینا افضل ہے۔

(3)
فرشتے تلاوت قرآن مجید سے بہت محبت رکھتے ہیں۔
اس لئے مومن کی تلاوت سننے کے لئے خاص طور پر جمع ہوجاتے ہیں۔

(4)
فرشتوں کا یہ اجتماع رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1187]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1767
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: جسے تم میں سے خدشہ ہو کہ وہ رات کے آخر میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ وتر پڑھ لے، پھر سو جائے اور جسے رات کو اٹھنے وثوق و اعتماد ہو، وہ اس کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے میں قراءت کے وقت رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں یا دل حاضر ہوتا ہے اور یہ بہتر ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1767]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رات کو اٹھنے والے کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ وتر رات کی نماز کے آخر میں پڑھے۔
لیکن جس کا یہ معمول نہیں ہے کہ وہ رات کو اٹھے اسے وتر سونے سے پہلے پڑھ لینا چاہئے اگر اسے کسی دن جاگ آ جائے تو وہ رات کی نماز پڑھ سکتا ہے دوبارہ وتر پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1767]