سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
122. . باب : من نام عن وتر أو نسيه
باب: سو جانے یا بھولنے کی وجہ سے وتر فوت ہو جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1189
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: فِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَوَاهٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح صادق سے پہلے وتر پڑھ لو“۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن زید کی حدیث ضعیف ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین20 (754)، سنن الترمذی/الصلاة 226 (468)، سنن النسائی/قیام اللیل 29 (1684)، (تحفة الأشراف: 4384)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 343 (1422)، مسند احمد (3/13، 35، 37، 71)، سنن الدارمی/الصلاة 211 (1629) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1684
| أوتروا قبل الصبح |
سنن النسائى الصغرى |
1685
| أوتروا قبل الفجر |
صحيح مسلم |
1765
| أوتروا قبل الصبح |
صحيح مسلم |
1764
| أوتروا قبل أن تصبحوا |
جامع الترمذي |
468
| أوتروا قبل أن تصبحوا |
سنن ابن ماجه |
1189
| أوتروا قبل أن تصبحوا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1189 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1189
اردو حاشہ:
فائدہ:
جناب محمد بن یحیٰ نے اس حدیث کو غالباً اس لئے ضعیف قرار دیا ہے۔
کہ وہ سابقہ حدیث سے بظاہر متعارض ہے لیکن کہا جاسکتا ہے کہ پہلی حدیث میں عذر (نيند یا بھول)
کی صورت میں حکم مذکور ہے اور دوسری حدیث میں اصل حکم کا ذکر ہے جس پر عمل کرنا چاہیے۔
اس لحاظ سے تعارض نہیں ہوگا۔
فائدہ:
جناب محمد بن یحیٰ نے اس حدیث کو غالباً اس لئے ضعیف قرار دیا ہے۔
کہ وہ سابقہ حدیث سے بظاہر متعارض ہے لیکن کہا جاسکتا ہے کہ پہلی حدیث میں عذر (نيند یا بھول)
کی صورت میں حکم مذکور ہے اور دوسری حدیث میں اصل حکم کا ذکر ہے جس پر عمل کرنا چاہیے۔
اس لحاظ سے تعارض نہیں ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1189]
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري