🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
134. . باب : فيمن سلم من ثنتين أو ثلاث ساهيا
باب: دوسری یا تیسری رکعت میں بھول کر سلام پھیر دے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1213
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَهَا فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَصُرَتْ أَمْ نَسِيتَ؟، قَالَ:" مَا قَصُرَتْ وَمَا نَسِيتُ"، قَالَ: صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ:" أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ"، قَالُوا: نَعَمْ،" فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو ذوالیدین نامی ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: نہ تو نماز کم ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: تب تو آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا حقیقت وہی ہے جو ذوالیدین کہتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ آگے بڑھے اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1213]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا۔ ایک آدمی جسے ذوالیدین کہتے تھے، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: اگر یہ بات ہے تو (عرض یہ ہے کہ) آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جس طرح ذوالیدین کہتا ہے (ویسے ہی ہوا ہے؟) صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 195 (1017)، (تحفة الأشراف: 7838) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن سنان القطان، أبو جعفر
Newأحمد بن سنان القطان ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← أحمد بن سنان القطان
ثقة حافظ
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1213
ما قصرت وما نسيت قال صليت ركعتين قال أكما يقول ذو اليدين قالوا نعم فتقدم فصلى ركعتين ثم سلم ثم سجد سجدتي السهو
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1213 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1213
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
غلطی سے کم رکعتیں پڑھی جایئں تو چھوٹی ہوئی رکعتیں پڑھ کر سجدہ کرنا چاہیے۔

(2)
امام کا نمازیوں سے اس بارے میں بات کرنا کہ نماز پوری پڑھی گئی ہے یا نہیں اور نمازیوں کا امام کو بتانا پہلی پڑھی ہوئی نماز کو کالعدم قرار نہیں دیتا۔
کیونکہ یہ بات چیت جان بوجھ کرنماز کے اندر نہیں کی گئی۔
اس لئے نمازشروع سے نہیں پڑھنی پڑے گی۔

(3)
سجدہ سہو سلام کے بعد بھی درست ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1213]

Sunan Ibn Majah Hadith 1213 in Urdu