سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
139. . باب : ما جاء في صلاة المريض
باب: بیمار کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1223
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ بِيَ النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ناسور ۱؎ کی بیماری تھی، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 179 (952)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (372)، (تحفة الأشراف: 10832)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 19 (1117) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے، باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1117
| صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب |
سنن أبي داود |
952
| صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب |
سنن ابن ماجه |
1223
| صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب |
بلوغ المرام |
260
| صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب وإلا فأوم |
بلوغ المرام |
351
| صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1223 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1223
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اسلام دین فطرت ہے۔
اس میں بندوں کی فطری کمزوریوں کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔
(2)
بلاعذر بیٹھ کرنماز پڑھنا مناسب نہیں۔
فرض ہو یا نفل کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ (صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ)
(صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جواز النافلة قائماً وقاعداً۔
۔
۔
، حدیث: 735)
”آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا آدھی نماز کے برابر ہوتاہے۔“
(3)
شدید مرض کی صورت میں جب آسانی سے بیٹھنا ممکن نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔
(4)
اس سے نماز کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
کہ شدید مرض کی حالت میں بھی نماز معاف نہیں صرف اس کے احکام ومسائل میں نرمی کردی گئی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اسلام دین فطرت ہے۔
اس میں بندوں کی فطری کمزوریوں کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔
(2)
بلاعذر بیٹھ کرنماز پڑھنا مناسب نہیں۔
فرض ہو یا نفل کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ (صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلَى نِصْفِ الصَّلَاةِ)
(صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جواز النافلة قائماً وقاعداً۔
۔
۔
، حدیث: 735)
”آدمی کا بیٹھ کر نماز پڑھنا آدھی نماز کے برابر ہوتاہے۔“
(3)
شدید مرض کی صورت میں جب آسانی سے بیٹھنا ممکن نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔
(4)
اس سے نماز کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
کہ شدید مرض کی حالت میں بھی نماز معاف نہیں صرف اس کے احکام ومسائل میں نرمی کردی گئی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1223]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 260
نماز کی صفت کا بیان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نماز کھڑے ہو کر پڑھو، اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر بھی پڑھنے کی استطاعت نہیں تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو (ان میں سے کسی پر بھی عمل نہ ہو سکے) تو اشارے سے ہی پڑھ لو۔“ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 260»
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نماز کھڑے ہو کر پڑھو، اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر بھی پڑھنے کی استطاعت نہیں تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو (ان میں سے کسی پر بھی عمل نہ ہو سکے) تو اشارے سے ہی پڑھ لو۔“ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 260»
تخریج:
«أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب إذا لم يطق قاعدًا صلي علي جنب، حديث:1117.» تشریح:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کسی صورت بھی معاف نہیں بجز مدہوشی کی حالت کے‘ نیز ثابت ہوا کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھنی چاہیے۔
بامر مجبوری یا بیماری کی صورت میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا مشکل ہو تو بیٹھ کر پڑھ لے۔
اگر ایسا کرنا بھی دشوار ہو تو لیٹ کر پڑھ لے۔
اگر ان حالتوں میں سے کسی پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اشاروں سے ادا کرے۔
گویا نماز کسی صورت بھی ترک نہ کرے۔
«أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب إذا لم يطق قاعدًا صلي علي جنب، حديث:1117.»
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کسی صورت بھی معاف نہیں بجز مدہوشی کی حالت کے‘ نیز ثابت ہوا کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھنی چاہیے۔
بامر مجبوری یا بیماری کی صورت میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا مشکل ہو تو بیٹھ کر پڑھ لے۔
اگر ایسا کرنا بھی دشوار ہو تو لیٹ کر پڑھ لے۔
اگر ان حالتوں میں سے کسی پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اشاروں سے ادا کرے۔
گویا نماز کسی صورت بھی ترک نہ کرے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 260]
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 351
مسافر اور مریض کی نماز کا بیان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا۔ اس صورت میں میں نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کھڑے ہو کر پڑھو اگر کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھو اور اس کی بھی طاقت و استطاعت نہ ہو تو پھر پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔“ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 351»
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا۔ اس صورت میں میں نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کھڑے ہو کر پڑھو اگر کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھو اور اس کی بھی طاقت و استطاعت نہ ہو تو پھر پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔“ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 351»
تخریج:
«أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب إذا لم يطق قاعدًا صلي علي جنب، حديث:1117.» تشریح:
بیٹھنے کی صورت بعض کے نزدیک چار زانو ہے اور بعض کے نزدیک تشہد کی سی صورت۔
دراصل بات یہ ہے کہ مریض جس طرح آسانی سے بیٹھ سکتا ہو اسی طرح بیٹھے‘ اسے ہر طرح اجازت ہے۔
چت لیٹ کر پڑھنے کی بھی گنجائش ہے۔
اگر کسی حالت اور کسی پہلو پر بھی ممکن نہ ہو تو پھر جو صورت اختیار کر سکتا ہو کر لے۔
(یہ حدیث باب صفۃ الصلاۃ کے آخر میں نمبر ۲۶۰ کے تحت گزر چکی ہے۔
)
«أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب إذا لم يطق قاعدًا صلي علي جنب، حديث:1117.»
بیٹھنے کی صورت بعض کے نزدیک چار زانو ہے اور بعض کے نزدیک تشہد کی سی صورت۔
دراصل بات یہ ہے کہ مریض جس طرح آسانی سے بیٹھ سکتا ہو اسی طرح بیٹھے‘ اسے ہر طرح اجازت ہے۔
چت لیٹ کر پڑھنے کی بھی گنجائش ہے۔
اگر کسی حالت اور کسی پہلو پر بھی ممکن نہ ہو تو پھر جو صورت اختیار کر سکتا ہو کر لے۔
(یہ حدیث باب صفۃ الصلاۃ کے آخر میں نمبر ۲۶۰ کے تحت گزر چکی ہے۔
)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 351]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1117
1117. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ مجھے بواسیر تھی تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا: ”کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر ادا کرو، اگر اس کی بھی ہمت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز پڑھو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1117]
حدیث حاشیہ:
(1)
عدم استطاعت سے مراد شدید مشقت یا مرض کے بڑھنے کے اندیشہ یا ہلاک ہونے کا خطرہ ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ نمازی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنی چاہیے۔
اگر اسے مشقت ہے تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر بیٹھ کر پڑھنے میں تکلیف ہے تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز ادا کرے۔
(2)
مجاہد کہیں چھپا ہوا ہے تو اسے بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے کیونکہ اگر کھڑا ہو کر نماز پڑھے گا تو دشمن کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اسے عذر نادر قرار دے کر بعد میں نماز قضا کرنے کے متعلق لکھا ہے۔
(فتح الباري: 759/2)
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اسے قضا کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مجاہد کا عذر بیماری کے عذر سے زیادہ قابل اعتبار ہے۔
واللہ أعلم۔
(3)
اس سے نماز کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے کہ جب تک ہوش و حواس قائم ہیں، کسی صورت میں معاف نہیں۔
اگر ایک فرض کی ادائیگی سے قاصر ہے تو دوسرے فرض کی طرف منتقل ہو جائے جیسا کہ کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھے، اسی طرح اگر قبلہ رخ نہ ہو سکے تو جدھر آسانی سے منہ کر سکتا ہے اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھے۔
(1)
عدم استطاعت سے مراد شدید مشقت یا مرض کے بڑھنے کے اندیشہ یا ہلاک ہونے کا خطرہ ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ نمازی کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنی چاہیے۔
اگر اسے مشقت ہے تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر بیٹھ کر پڑھنے میں تکلیف ہے تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز ادا کرے۔
(2)
مجاہد کہیں چھپا ہوا ہے تو اسے بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے کیونکہ اگر کھڑا ہو کر نماز پڑھے گا تو دشمن کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اسے عذر نادر قرار دے کر بعد میں نماز قضا کرنے کے متعلق لکھا ہے۔
(فتح الباري: 759/2)
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اسے قضا کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مجاہد کا عذر بیماری کے عذر سے زیادہ قابل اعتبار ہے۔
واللہ أعلم۔
(3)
اس سے نماز کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے کہ جب تک ہوش و حواس قائم ہیں، کسی صورت میں معاف نہیں۔
اگر ایک فرض کی ادائیگی سے قاصر ہے تو دوسرے فرض کی طرف منتقل ہو جائے جیسا کہ کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھے، اسی طرح اگر قبلہ رخ نہ ہو سکے تو جدھر آسانی سے منہ کر سکتا ہے اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1117]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظہ الله، فوائد و مسائل، صحیح بخاری: 1117
«وَالْمُتَيَمَّمُ وَنَاقِصُ الصَّلَاةِ أَوِ الطَّهَارَةِ يُصَلُّونَ كَغَيْرِهِمْ مِنْ غَيْرِ تَأْخِيْرٍ»
تیمم کرنے والا اور جس کی نماز یا طہارت میں کوئی کمی رہ گئی ہو۔۱؎ دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی بغیر کسی تاخیر کے نماز ادا کریں۔۲؎
۱؎۔ نماز میں کمی مثلاً بیماری کی وجہ سے نماز کے مکمل ارکان ادا نہ کر سکتا ہو اور طہارت میں کمی سے مراد یہ ہے کہ ایسا شخص جس کے اعضائے وضوء میں سے بعض کو زخم یا کسی اور عذر کی وجہ سے دھونا محال ہو۔
۲؎۔ جن لوگوں نے ایسے معذور حضرات کے لیے نماز کو تاخیر سے پڑھنا لازم قرار دیا ہے ان کی یہ رائے خطا پر مبنی ہے اور ان کا یہ قول نقل و عقل کے خلاف ہے اگر ہم کتاب و سنت کا عمیق مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو ایسے اعزار میں نماز کو اس کے مقررہ وقت سے لیٹ کر کے پڑھتا ہو چہ جائیکہ اسے واجب کہا جائے یا اضطراری وقت تک تاخیر کو لازم قرار دیا جائے بلکہ اگر نماز کا وقت آنے پر پانی موجود نہ ہو تو تیمم کو مشروع کیا گیا ہے اور اسی طرح جو کسی بیماری کی وجہ سے طہارت یا نماز کو مکمل طور پر ادا نہ کرسکتا ہو تو نماز کا وقت آنے پر اس کے لیے جس قدر ممکن ہو سکے نماز پڑھنا جائز ہے اور یہی اس سے مطلوب ہے اور اس پر واجب ہے اور اگر ایسے شخص پر تاخیر واجب ہوتی تو شارع علیہ السلام اسے بیان فرمادیتے (حالانکہ ایسا کچھ منقول نہیں)۔
حاصل کلام یہی ہے کہ ایام نبوت میں ایسی کوئی بات نہیں سنی گئی حالانکہ ان میں بھی لوگ مریض ہوتے تھے اور بعض کو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب» ”کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتے تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی استطاعت نہیں ہے تو پہلو کے بل پڑھ لو۔“
[بخاري 1117، كتاب الجمعة: باب إذا لم يطلق قاعدا صلى على جنب، نسائي 224/3، بيهقي 155/3، أبو داود 952، ترمذي 372، ابن ماجة 1223]
لیکن ایسی کوئی بات معروف نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی ایک کو بھی نماز وقت سے مؤخر کر کے پڑھنے کا حکم دیا ہو اور نہ ہی ایسا کوئی ایک حرف بھی کتاب و سنت میں منقول ہے اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عصر صحابہ، عصر تابعین اور عصر تبع تابعین میں بھی ایسی کوئی بات معروف و مشہور نہیں ہوئی اور نہ ہی ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک نے بھی ایسی کوئی بات کی ہے، اس طرح کے عجیب مسائل و آراء کے ساتھ ہماری اس زمین کے باشندے ہی خاص ہیں۔ [السيل الجرار 191/1-193، وبل الغمام 303/1، الروضة الندية 210/1]
تیمم کرنے والا اور جس کی نماز یا طہارت میں کوئی کمی رہ گئی ہو۔۱؎ دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی بغیر کسی تاخیر کے نماز ادا کریں۔۲؎
۱؎۔ نماز میں کمی مثلاً بیماری کی وجہ سے نماز کے مکمل ارکان ادا نہ کر سکتا ہو اور طہارت میں کمی سے مراد یہ ہے کہ ایسا شخص جس کے اعضائے وضوء میں سے بعض کو زخم یا کسی اور عذر کی وجہ سے دھونا محال ہو۔
۲؎۔ جن لوگوں نے ایسے معذور حضرات کے لیے نماز کو تاخیر سے پڑھنا لازم قرار دیا ہے ان کی یہ رائے خطا پر مبنی ہے اور ان کا یہ قول نقل و عقل کے خلاف ہے اگر ہم کتاب و سنت کا عمیق مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو ایسے اعزار میں نماز کو اس کے مقررہ وقت سے لیٹ کر کے پڑھتا ہو چہ جائیکہ اسے واجب کہا جائے یا اضطراری وقت تک تاخیر کو لازم قرار دیا جائے بلکہ اگر نماز کا وقت آنے پر پانی موجود نہ ہو تو تیمم کو مشروع کیا گیا ہے اور اسی طرح جو کسی بیماری کی وجہ سے طہارت یا نماز کو مکمل طور پر ادا نہ کرسکتا ہو تو نماز کا وقت آنے پر اس کے لیے جس قدر ممکن ہو سکے نماز پڑھنا جائز ہے اور یہی اس سے مطلوب ہے اور اس پر واجب ہے اور اگر ایسے شخص پر تاخیر واجب ہوتی تو شارع علیہ السلام اسے بیان فرمادیتے (حالانکہ ایسا کچھ منقول نہیں)۔
حاصل کلام یہی ہے کہ ایام نبوت میں ایسی کوئی بات نہیں سنی گئی حالانکہ ان میں بھی لوگ مریض ہوتے تھے اور بعض کو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب» ”کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتے تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی استطاعت نہیں ہے تو پہلو کے بل پڑھ لو۔“
[بخاري 1117، كتاب الجمعة: باب إذا لم يطلق قاعدا صلى على جنب، نسائي 224/3، بيهقي 155/3، أبو داود 952، ترمذي 372، ابن ماجة 1223]
لیکن ایسی کوئی بات معروف نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی ایک کو بھی نماز وقت سے مؤخر کر کے پڑھنے کا حکم دیا ہو اور نہ ہی ایسا کوئی ایک حرف بھی کتاب و سنت میں منقول ہے اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عصر صحابہ، عصر تابعین اور عصر تبع تابعین میں بھی ایسی کوئی بات معروف و مشہور نہیں ہوئی اور نہ ہی ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک نے بھی ایسی کوئی بات کی ہے، اس طرح کے عجیب مسائل و آراء کے ساتھ ہماری اس زمین کے باشندے ہی خاص ہیں۔ [السيل الجرار 191/1-193، وبل الغمام 303/1، الروضة الندية 210/1]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 318]
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← عمران بن حصين الأزدي