یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : ما جاء في غسل النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1466
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَمَّا أَخَذُوا فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ، لَا تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا شروع کیا ۱؎ تو کسی آواز لگانے والے نے اندر سے آواز لگائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ نہ اتارو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1466]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو (گھر کے) اندر سے ایک (نامعلوم) آواز دینے والے نے آواز دی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص نہ اتارو۔“ (چنانچہ قمیص سمیت غسل دیا گیا۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1942، ومصباح الزجاجة: 521) (منکر)» (اس کی سند میں ابو بردہ عمر و بن یزید التیمی ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے نکالنے کے سلسلے میں متردد ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1466
| لما أخذوا في غسل النبي ناداهم مناد من الداخل لا تنزعوا عن رسول الله قميصه |
Sunan Ibn Majah Hadith 1466 in Urdu
سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي