🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : ما جاء في غسل النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1467
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خِذَامٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" لَمَّا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَلْتَمِسُ مِنْهُ مَا يَلْتَمِسُ مِنَ الْمَيِّتِ، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَقَالَ بِأَبِي الطَّيِّبُ: طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا، تو آپ کے جسم مبارک سے وہ ڈھونڈنے لگے جو میت کے جسم میں ڈھونڈتے ہیں ۱؎ لیکن کچھ نہ پایا، تو کہا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، آپ پاک صاف ہیں، آپ زندگی میں بھی پاک تھے، مرنے کے بعد بھی پاک رہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10115، ومصباح الزجاجة: 522) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں یحییٰ بن خذام مجہول ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے سند صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی نجاست وغیرہ۔ ۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج میں اللہ تعالیٰ نے نہایت نفاست، لطافت اور طہارت رکھی تھی، آپ خوشبو کا بہت استعمال کرتے تھے اور بدبو سے نہایت نفرت کرتے، آپ کے کپڑے اور بدن ہمیشہ معطر رہتے، یہاں تک کہ آپ جس کوچہ اور گلی سے چلے جاتے تو وہ معطر ہو جاتا، اور لوگ پہچان لیتے کہ آپ ادھر سے تشریف لے گئے ہیں، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کا استعمال کیا، تو بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر (گوند) کی بو آتی ہے، آپ نے شہد کا استعمال اپنے اوپر حرام کر لیا، غرض آپ اس سے بہت بچتے تھے کہ آپ کے کپڑے یا بدن میں کسی قسم کی بو ہو جو دوسرے کو بری معلوم ہو، اور اسی وجہ سے آپ کچی پیاز یا لہسن نہیں کھاتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول سے ملنے گئے، جو بڑا دنیا دار اور مال دار تھا، تو وہ کہنے لگا کہ آپ اپنے گدھے کو مجھ سے ذرا دور رکھئیے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تیرے بدن کی بو سے اچھی ہے، غرض سر سے پاؤں تک آپ لطافت و طہارت اور خوشبو ہی میں ڈوبے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے وفات کے بعد بھی آپ کو پاک و صاف رکھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري عنعن في المتصل وصرح بالسماع في المرسل فالسند معلل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥صفوان بن عيسى القرشي، أبو محمد
Newصفوان بن عيسى القرشي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة
👤←👥يحيى بن خذام الغبيري، أبو زكريا
Newيحيى بن خذام الغبيري ← صفوان بن عيسى القرشي
مقبول
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1467
غسل النبي ذهب يلتمس منه ما يلتمس من الميت فلم يجده فقال بأبي الطيب طبت حيا وطبت ميتا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1467 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1467
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (تخریج المختارۃ، رقم: 452، وسنن ابن ماجہ للدکتور بشار عواد، حدیث: 1467)

(2)
غسل دینے سے قبل میت کا پیٹ آہستہ سے ملنا چاہیے۔
اگر کوئی نجاست ظاہر ہو تو اسے دھو دیا جائے۔

(3)
اس حدیث میں اسطرف اشارہ ہے کہ عام طور اس پرمیت سے ایسی چیز نظر آ جاتی ہے۔
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی چیز ظاہر نہیں ہوئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے والے حضرات یہ تھے۔
حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عباس کے دو صاحبزادے فضل اور قثم رضوان اللہ عليہم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت شقران رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت اوس بن خولی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت فضل اورحضرت قثم رضوان للہ عليہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کروٹ بدل رہ تھے۔
حضرت اسامہ اورشقران رضی اللہ تعالیٰ عنہم پانی بہا رہے تھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ غسل دے رہے تھے۔
اور حضرت اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو اپنے سینے سے ٹیک دے رکھی تھی (الرحیق المختوم، ص: 633)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1467]