یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : فضل عمار بن ياسر
باب: عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 147
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَمَّارٌ عَلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ".
ہانی بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «طیب و مطیب» ”پاک و پاکیزہ“ کو خوش آمدید، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عمار ایمان سے بھرے ہوئے ہیں، ایمان ان کے جوڑوں تک پہنچ گیا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 147]
ہانی بن ہانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: ”پاک کیے ہوئے پاک باز کو خوش آمدید! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار رضی اللہ عنہ سرتاپا ایمان سے معمور ہے۔“” [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10303، ومصباح الزجاجة: 56) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «مشاش» : ہڈیوں کے جوڑ کو کہتے ہیں، جیسے کہنی یا گھٹنے یا کندھے کا جوڑ، مراد یہ ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کے دل میں ایمان گھر کر گیا ہے، اور وہاں سے ان کے سارے جسم میں ایمان کے انوار و برکات پھیل گئے ہیں، اور رگوں اور ہڈیوں میں سما گئے ہیں، یہاں تک کہ جوڑوں میں بھی اس کا اثر پہنچ گیا ہے، اور اس میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے کمال ایمان کی شہادت ہے جو عظیم فضیلت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي و الأعمش مدلسان وعنعنا
وللحديث شواھد ضعيفة عند النسائي (5010) والحاكم (392/3،393) وغيرهما۔
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي و الأعمش مدلسان وعنعنا
وللحديث شواھد ضعيفة عند النسائي (5010) والحاكم (392/3،393) وغيرهما۔
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
147
| ملئ عمار إيمانا إلى مشاشه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 147 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث147
اردو حاشہ:
(1)
اس میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے خالص مومن ہونے کی شہادت ہے۔
(2)
جس شخص کے بارے میں فخر و تکبر میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو، اس کے سامنے اس کی تعریف کی جا سکتی ہے۔
(3)
یہ روایت بعض محققین کے نزدیک صحیح ہے۔
(1)
اس میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے خالص مومن ہونے کی شہادت ہے۔
(2)
جس شخص کے بارے میں فخر و تکبر میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو، اس کے سامنے اس کی تعریف کی جا سکتی ہے۔
(3)
یہ روایت بعض محققین کے نزدیک صحیح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 147]
Sunan Ibn Majah Hadith 147 in Urdu
هانئ بن هانئ الهمداني ← علي بن أبي طالب الهاشمي