🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : ما جاء في الدعاء في الصلاة على الجنازة
باب: نماز جنازہ کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1498
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» اے اللہ! ہمارے زندوں کو، ہمارے مردوں کو، ہمارے حاضر لوگوں کو، ہمارے غائب لوگوں کو، ہمارے چھوٹوں کو، ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو بخش دے، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ، اور جس کو وفات دے، تو ایمان پر وفات دے، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1498]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ کی نماز پڑھاتے تو یوں فرماتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ» اے اللہ! ہمارے زندوں، مُردوں، حاضر، غائب، چھوٹوں، بڑوں، مذکر اور مؤنث (سب) کی مغفرت فرما دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے اسلام پر زندہ رکھنا اور جسے فوت کرے اس کا خاتمہ ایمان پر کرنا۔ اے اللہ! اس (جانے والے) کے اجر سے ہمیں محروم نہ کرنا اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر دینا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14994)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/368) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن إبراهيم القرشي
صدوق مدلس
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد
Newسويد بن سعيد الهروي ← علي بن مسهر القرشي
صدوق يخطئ كثيرا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3201
اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا وشاهدنا وغائبنا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإيمان ومن توفيته منا فتوفه على الإسلام اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده
سنن ابن ماجه
1498
اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده
بلوغ المرام
458
‏‏‏‏اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا ...
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1498 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1498
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز جنازہ کا اصل مقصود تو میت کے لئے دعا کرنا ہے۔
لیکن اس موقع پر ضمناً دوسرے مسلمانوں کے لئے دعا بھی کی جا سکتی ہے۔
حدیث میں مذکور دعا ایک ایسی ہی دعا ہے۔
جو تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔

(2)
اسلام اور ایمان ہم معنی الفاظ کے طور بھی استعمال ہوتے ہیں۔
اورایک دوسرے سے مختلف معنی میں بھی۔
جب یہ دونوں الفاظ اکھٹے استعمال ہوں تو اسلام سے مراد ظاہری اعمال اور ایمان سے مراد باطنی اور قلبی اعمال ہوتے ہیں۔
زندگی میں دل کے ایمان اور یقین کے ساتھ ظاہری اعمال کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔
کیونکہ معاشرے میں ظاہری اعمال کی بنیاد ہی پرمسلم اور غیرمسلم میں امتیاز ہوتا ہے وفات کے وقت دل میں یقین اور ایمان ہونا ضروری ہے۔
کیونکہ آخرت میں نجات کا دارومدار اسی پر ہے۔
اس لئے دعائے جنازہ میں اسلام پر زندگی اور ایمان پر وفات کی درخواست ہے۔

(3)
ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ رکھنا اس سے مراد رشتہ دار عزیز یا دوست کی وفات پر صبر اوردوسرے متعلقہ اعمال سے حاصل ہونے والا ثواب ہے مثلاً نماز جنازہ میں شرکت کفن دفن کا اہتمام اورفوت ہونے والے کے اقارب کو تسلی تشفی اور انکے غم میں تخفیف کی کوشش میت کے اقارب کے لئے کھانا تیار کرنا وغیرہ۔
ان اعمال سے ہونے والے ثواب کو میت کا ثواب کہا گیا ہے۔
یعنی وفات کی وجہ سے زندوں کو حاصل ہونے والا ثواب اس ثواب کی دعا کا یہ مطلب ہے۔
کہ ہمیں یہ اعمال خلوص کے ساتھ محض اللہ کی رضا کے لئے کرنے کی توفیق ملے۔

(4)
اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی وفات کے غم میں نفس امّارہ کے اکسانے سے یا شیطان کے وسوسوں کی وجہ سے ناجائز اعمال کا ارتکاب نہ ہوجائے جو گمراہی ہے۔
بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ مرنے والا اپنی زندگی میں نیکی کی تلقین کرتا تھا۔
بُرائی سے منع کرتا تھا۔
صحیح اور غلط کے امتیاز میں رہنمائی کرتا تھا۔
اس کے دنیا چھوڑ جانے کے بعد اس کی ر ہنمائی باقی نہیں رہی۔
اب ہمیں اللہ کی طرف توجہ کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔
کہ وہ ہرقدم پر ہماری رہنمائی فرمائے۔
اور ہمیں گمراہی سے محفوظ رکھے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1498]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 458
کم عمر اور چھوٹی عمر والوں کے حق میں بلندی درجات کی دعا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا مانگتے «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» اے اللہ! ہمارے زندوں اور مردوں، ہمارے حاضر و غائب، ہمارے چھوٹوں اور بڑوں، ہمارے مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما دے! الٰہی! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے تو موت دے اسے ایمان کی موت سے سرفراز فرما! الٰہی! ہمیں اس کے اجر و ثواب سے محروم نہ رکھ اور نہ ہمیں اس کے بعد گمراہ ہونے دے۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 458]
لغوی تشریح:
«شَاهِدِنَا» جو حاضر ہیں۔
«صَغِيرِناَ» کم عمر اور چھوٹی عمر والوں کے حق میں بلندی درجات کی دعا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں تکلیف و مصیبت کے وقت افعال صالحہ پر ثابت قدم رکھے۔
«فَاْحَيِهِ» «إحْيَاء» سے ماخوذ امر کا صیغہ ہے جو دعا کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
«لَا تَحُرِمَنَا» تا پر فتحہ اور را کے نیچے کسرہ۔ حرمان سے مشتق ہے، نہ محروم رکھنا ہمیں۔
«جُرَهُ» اس کی موت کی وجہ سے ہمیں جو صدمہ پہنچا ہے اس پر صبر کے اجر سے۔
«لَاتَقُتِناّ» دوسری تا کے نیچے کسرہ اور نون جمع پر تشدید ہے۔
باب «‏‏‏‏ضَرَبَ» «يَضْرِبُ» ہے اور فعل کے نون کو نون متکلم میں مدغم کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اس کی موت کے بعد فتنہ و آزمائش میں مبتلا نہ کرنا بلکہ اس کی موت کو ہمارے لیے مقام عبرت بنا دے۔
حدیث کے آخر میں ہے «رَوَاهُ مُسْلِمٌ» اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
جبکہ یہ حدیث مسلم میں نہیں ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہ کسی کاتب سے غلطی ہو گئی ہے، مصنف سے نہیں۔ «والله اعلم»
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 458]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3201
میت کے لیے دعا کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو یوں دعا کی: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا وشاهدنا وغائبنا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإيمان ومن توفيته منا فتوفه على الإسلام اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» اے اللہ! تو بخش دے، ہمارے زندوں اور ہمارے مردوں کو، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کو، ہمارے حاضر اور ہمارے غائب کو، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے ایمان پر زندہ رکھ، اور ہم میں سے جس کو موت دے اسے اسلام پر موت دے، اے اللہ! ہم کو تو اس کے ث۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3201]
فوائد ومسائل:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ دعا سن کر یادکرلینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پڑھا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3201]

Sunan Ibn Majah Hadith 1498 in Urdu