🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : ما جاء في إدخال الميت القبر
باب: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1550
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ"، وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً: إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ"، وَقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ:" بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب مردے کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «بسم الله وعلى ملة رسول الله» اور ابوخالد نے اپنی روایت میں ایک بار یوں کہا: جب میت کو اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا تو آپ «بسم الله وعلى سنة رسول الله» کہتے، اور ہشام نے اپنی روایت میں «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» کہا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1550]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب میت کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ، وَعَلٰی مِلَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے اور اس کے رسول کی ملت پر۔ راویِ حدیث ابو خالد نے ایک روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: جب میت کو لحد میں رکھا جاتا تو آپ فرماتے: «بِسْمِ اللّٰهِ، وَعَلٰی سُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے اور اس کے رسول کے طریقے کے مطابق۔ اور راویِ حدیث ہشام نے اپنی روایت میں یوں بیان کیا: «بِسْمِ اللّٰهِ، وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَعَلٰی مِلَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے، اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کی ملت پر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث ہشام بن عمار تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8319)، وحدیث عبد اللہ بن سعید أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 54 (1046)، (تحفة الأشراف: 7644)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 69 (3213)، مسند احمد (2/27، 40، 59، 69، 127) (صحیح)» ‏‏‏‏ (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی اسماعیل بن عیاش اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة
Newالحجاج بن أرطاة النخعي ← نافع مولى ابن عمر
صدوق كثير الخطأ والتدليس
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← الحجاج بن أرطاة النخعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عبد الله بن سعيد الكندي
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥الليث بن أبي سليم القرشي، أبو بكر، أبو بكير
Newالليث بن أبي سليم القرشي ← نافع مولى ابن عمر
ضعيف الحديث
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة
Newإسماعيل بن عياش العنسي ← الليث بن أبي سليم القرشي
صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← إسماعيل بن عياش العنسي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1046
بسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله
سنن أبي داود
3213
بسم الله وعلى سنة رسول الله
سنن ابن ماجه
1550
بسم الله وعلى ملة رسول الله
سنن ابن ماجه
1553
بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله لما أخذ في تسوية اللبن على اللحد قال اللهم أجرها من الشيطان ومن عذاب القبر اللهم جاف الأرض عن جنبيها وصعد روحها ولقها منك رضوانا
بلوغ المرام
466
‏‏‏‏إذا وضعتم موتاكم في القبور فقولوا: بسم الله وعلى مله رسول الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1550 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1550
اردو حاشہ:
فائده:
جب میت کو قبر میں اُتارا جائے۔
تو اتارنے والوں کو چاہیے کہ مذکورہ بالا دعا پڑھیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1550]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ ابويحييٰ نورپوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابن ماجه 1553
میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان
«. . . حَضَرْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ . . .»
. . . میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازے میں حاضر ہوا۔ جب انہوں نے میت کو لحد میں رکھا گیا تو فرمایا: اللہ کے نام سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔. . . [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز: 1553]
تخریج الحدیث
[سنن ابن ماجه: 1553] ، [المعجم الكبير للطبراني 4 1309] ، [السنن الكبري للبيهقي: 55/4]
تبصرہ:
یہ سخت ترین ضعیف روایت ہے، کیونکہ:
① اس کا راوی حماد بن عبدالرحمن کلبی ضعیف ہے۔ [تقريب التهذيب: 1502]
◈ حافظ بوصیری (م: 840 ھ) کہتے ہیں:
«هذا إسناد فيه حماد بن عبد الرحمن، هو متفق على تضعيفه .»
اس سند میں حماد بن عبدالرحمن راوی موجود ہے جس کو ضعیف قرار دینے پر تمام محدثین متفق ہیں۔ [مصباح الزجاجة فى زوائد ابن ماجه: 505/1]

② ادریس بن صبیح اودی راوی مجہول ہے۔
◈ امام ابوحاتم الرازی نے اسے مجہول قرار دیا ہے۔ [الجرح و التعديل لابن أبى حاتم: 264/2]

◈ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:
«يغرب ويخطيء على قلته.»
بہت کم روایات بیان کرنے کے باوجود اس کی روایات میں نکارت اور غلطیاں موجود ہیں۔ [الثقات: 78/6]

◈ امام ابن عدی نے اسے ادریس بن یزید اودی قرار دیا ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وقول ابن عدي أصوب.» امام ابن عدی رحمہ اللہ کا قول ہی زیادہ صائب ہے۔ [تهذيب التهذيب: 171/1، وفي نسخة: 195/1]
↰ یہ بات بے دلیل ہونے کی وجہ سے درست نہیں۔
اس ضعیف روایت کا مروجہ بدعتی تلقین سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ معلوم ہوا شواہد کی رٹ لگانے والوں کا دامن بالکل خالی ہے۔

فائدہ نمبر ① حلبی، علامہ سبکی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
«حديث تلقين النبى صلى الله عليه وسلم لابنه، ليس له أصل، أى صحيح أو حسن.»
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے بیٹے کو تلقین کرنے والی روایت کی کوئی صحیح یا حسن سند موجود نہیں۔ [السيرة الحلبية: 437/3]

فائده نمبر ② حافظ ابن القیم رحمہ اللہ (691-751 ھ) لکھتے ہیں:
«فهذا الحديث، وإن لم يثبت، فاتصال العمل به فى سائر الأمصار والأعصار من غير إنكاره كاف فى العمل به.»
یہ حدیث اگرچہ صحیح ثابت نہیں، لیکن تمام علاقوں میں ہر زمانے میں اس پر بغیر انکار کے عمل ہوتا رہا ہے۔ یہی بات اس پر عمل کے جائز ہونے کے لئے کافی ہے۔ [الروح، ص: 16]

◈ کتاب الروح کے متعلق محدث العصر، علامہ، ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«فاني فى شك كبير من صحة نسبة (الروح) إليه، أو لعله ألفه فى أول طلبه للعلم، والله أعلم.»
میں کتاب الروح کی علامہ ابن القیم کی طرف نسبت کے حوالے سے کافی شک و شبہ میں مبتلا ہوں۔ (یا تو یہ ان کی تصنیف ہی نہیں) یا پھر انہوں نے اپنے طلب علم کے اوائل میں اسے تالیف کیا تھا۔ «والله اعلم!» [تحقيق الأيات البينات فى عدم سماع الأموت: 39]
↰ ہو سکتا ہے کہ یہ عبارت الحاقی ہو، یعنی کسی ناسخ کی غلطی سے درج ہو گئی ہو، کیونکہ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ خود سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«ولم يكن يجلس يقرا عند القبر، ولا يلقن الميت، كما يفعله الناس اليوم.»
آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس قرأت کرنے نہیں بیٹھے تھے، نہ ہی (قبر پر) میت کو تلقین کرتے تھے، جیسا کہ موجودہ زمانے میں لوگ کرتے ہیں۔ [زاد المعاد فى هدي خير العباد: 522/1]

↰ اگر کسی ضعیف روایت کے حکم پر بعض لوگ عمل کریں تو وہ صحیح نہیں ہو جاتی ہے۔ لوگوں کے عمل سے سند کا صحیح ہونا محدثین کرام کا مذہب نہیں۔ اگر کسی روایت کے حکم پر یعنی اس سے ماخوذ مسئلہ پر اجماع امت ثابت ہو جائے، تب بھی وہ سند ضعیف ہی رہے گی۔
[ماہنامہ السنہ جہلم ، شمارہ نمبر 46-48، حدیث/صفحہ نمبر: 56]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 466
میت کو قبر میں داخل کرتے ہوئے یہ دعا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب اپنے مرنے والوں کو قبروں میں اتارو تو «بسم الله وعلى مله رسول الله» کہو۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 466]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ میت کو قبر میں داخل کرتے ہوئے یہ دعا پڑھنا مسنون ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ کی طرح امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو گو موقوف ہی قرار دیا ہے مگر یہ صحیح نہیں۔ اس کی تائید مستدرک کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس کی سند حسن ہے۔ [المستدرك للحاكم: 3661]
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 466]

Sunan Ibn Majah Hadith 1550 in Urdu