Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب : ما جاء في حثو التراب في القبر
باب: قبر پر مٹی ڈالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1565
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُلْثُومٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، ثُمَّ أَتَى قَبْرَ الْمَيِّتِ، فَحَثَى عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ثَلَاثًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھی، پھر میت کی قبر کے پاس تشریف لا کر اس پر سرہانے سے تین مٹھی مٹی ڈالی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15402، ومصباح الزجاجة: 560) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن أبي كثير مدلس و عنعن
و جاء تصريح سماعه في رواية موضوعة و للحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥سلمة بن كلثوم الكندي
Newسلمة بن كلثوم الكندي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥يحيى بن صالح الوحاظي، أبو زكريا، أبو صالح
Newيحيى بن صالح الوحاظي ← سلمة بن كلثوم الكندي
ثقة
👤←👥العباس بن الوليد الخلال، أبو الفضل
Newالعباس بن الوليد الخلال ← يحيى بن صالح الوحاظي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1077
كبر على جنازة فرفع يديه في أول تكبيرة ووضع اليمنى على اليسرى
سنن ابن ماجه
1565
صلى على جنازة ثم أتى قبر الميت فحثى عليه من قبل رأسه ثلاثا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1565 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1565
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جنازہ پڑھنے والا اگر دفن تک رکے تو اسے چاہیے کہ قبر پرکم از کم تین لپیں مٹی ڈالے۔

(2)
لپ سے مراد دونوں ہاتھ ملا کر مٹی ڈالنا ہے۔
جسے پنجابی میں بک کہتے ہیں۔
ایک ہاتھ بھر کر کوئی چیز لینے کو اردو میں چلو کہتے ہیں حدیث میں یہ مراد نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1565]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1077
نماز جنازہ میں رفع یدین کرنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے میں اللہ اکبر کہا تو پہلی تکبیر پر آپ نے رفع یدین کیا اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1077]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان لوگوں کا استدلال عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صلاۃِ جنازہ پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھ ہرتکبیرمیں اٹھاتے اس کی تخریج دارقطنی نے اپنی علل میں «عن عمربن شبه حدثنا یزیدبن هارون انبأنا یحییٰ بن سعیدعن نافع عن ابن عمروقال هکذا ...رفعه عمربن شبة»  کے طریق سے کی ہے لیکن ایک جماعت نے ان کی مخالفت کی ہے اوریزیدبن ہارون سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے اوریہی صحیح ہے اس باب میں کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں ہے۔

2؎:
ان لوگوں کا استدلال باب کی اس حدیث سے ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے جیساکہ تخریج سے ظاہرہے نیز ان کی دوسری دلیل ابن عباس کی روایت ہے اس کی تخریج دارقطنی نے کی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ میں اپنے دونوں ہاتھ پہلی تکبیرمیں اٹھاتے تھے پھرایسانہیں کرتے تھے لیکن اس میں ایک راوی فضل بن سکن ہے جسے علماء نے ضعیف کہا ہے۔

نوٹ:
(سند میں ابوفردہ یزید بن سناز ضعیف راوی ہیں،
لیکن متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث حسن ہے،
) (دیکھئے احکام الجنائز: 115، 116)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1077]