یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب : ذكر وفاته ودفنه صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
حدیث نمبر: 1634
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِي مُحَمَّدُ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الْمُصَلِّي يُصَلِّي، لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ قَدَمَيْهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ جَبِينِهِ، فَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ عُمَرُ، فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ الْقِبْلَةِ، وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَكَانَتِ الْفِتْنَةُ فَتَلَفَّتَ النَّاسُ يَمِينًا وَشِمَالًا".
ام المؤمنین ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے نماز پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقام سے آگے نہ بڑھتی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1634]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بنت ابی امیہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں لوگوں کی یہ حالت تھی کہ جب آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نظر قدموں سے آگے نہ بڑھتی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو لوگوں کی یہ حالت ہو گئی کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نظر اس کی پیشانی رکھنے کی جگہ (سجدے کی جگہ) سے آگے نہیں بڑھتی تھی، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ (خلیفہ) مقرر ہو گئے تو لوگوں کی یہ حالت ہو گئی کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلے کی طرف سے نہیں ہٹتی تھی، پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (خلیفہ) مقرر ہوئے تو (ان کے دورِ حکومت میں) فتنہ برپا ہوا اور (فتنے کے اس دور میں) لوگ (نماز میں) دائیں بائیں جھانکنے لگے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18213، ومصباح الزجاجة: 594) (ضعیف)» (اس کی سند میں موسیٰ بن عبداللہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن عبد اللّٰه: مجهول (تقريب: 6982)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
إسناده ضعيف
موسي بن عبد اللّٰه: مجهول (تقريب: 6982)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1634
| إذا قام أحدهم يصلي لم يعد بصر أحدهم موضع جبينه |
Sunan Ibn Majah Hadith 1634 in Urdu
مصعب بن عبد الله القرشي ← أم سلمة زوج النبي