یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب : ذكر وفاته ودفنه صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
حدیث نمبر: 1635
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا"، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالَا لَهَا:" مَا يُبْكِيكِ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ؟"، قَالَتْ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، قَالَ: فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ، فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلئے، ہم ام ایمن (برکہ) رضی اللہ عنہا سے ملنے چلیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے جایا کرتے تھے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، انہوں نے کہا: میں جانتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہو گیا، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1635]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحلت فرما جانے کے بعد (ایک بار) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”چلیے ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ہاں چلیں اور ان سے ملاقات کر آئیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملاقات کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب ہم لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر کے) اشک بار ہو گئیں۔“ دونوں حضرات نے فرمایا: ”آپ کیوں رو رہی ہیں؟ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (دنیا کی متاع اور آسائشوں سے کہیں) بہتر ہے۔“ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”یہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہتر ہے لیکن میں تو اس لیے روتی ہوں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے) آسمان سے وحی آنا بند ہو گئی ہے۔“ ان کی اس بات سے شیخین رضی اللہ عنہما کو بھی رونا آ گیا اور وہ بھی رونے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18302، ومصباح الزجاجة: 595) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے ذرہ برابر بھی انحراف کرنا گوارا نہ کیا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں سے ملنے جاتے ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان سے ملنے گئے، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت گویا زمانہ نبوت کی تصویر تھی اور یہی وجہ تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک اور بنو نضیر وغیرہ سے حاصل مال کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طلب پر ان کے حوالہ نہیں کیا بلکہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان اموال کو خرچ کرتے تھے اسی طرح خرچ کرتے رہے، اور ذرہ برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقِ کار کو بدلنا گوارا نہ کیا، اصل بات یہ ہے، نہ وہ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے «معاذ اللہ» طمع ولالچ سے ایسا کیا، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف پہنچائی، یہ سب لغو اور بیہودہ الزام ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ دنیا کی ایک بڑی حکومت کے سربراہ تھے، خود انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا سارا مال نچھاور کر دیا، اور آپ کی محبت میں جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا، کیا ایسے شخص کے بارے میں یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ کھجور کے چند درختوں کو ناحق لے لے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ناراض کرے گا؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1635 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1635
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت ام ایمن کا تعلق حبشہ سے تھا۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد محترم کی خدمت گار تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش اور نگہداشت میں ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھی بڑا حصہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کرکے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا نکاح کردیا تھا۔
دیکھئے: (ریاض الصالحین کے فوائد ازحافظ صلاح الدین یوسف حدیث: 361)
۔
(2)
نیک لوگوں کی ملاقات کےلئے جانامستحب ہے۔
(3)
جن حضرات سے بزرگوں کے خوش گوار تعلقات رہے ہوں۔
اولاد اور دوسرے متعلقین کو بھی یہ تعلقات قائم رکھنے چاہیں۔
(4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیاروں سے محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میں شامل ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی اس کی وجہ سے ان کے دل میں آپ کے متعلقین کی بھی محبت پائی جاتی تھی۔
(5)
عرصہ دراز کے بعد بھی فوت شدہ کی یاد آنے پر رونا آ جائے تو یہ صبر کے منافی نہیں۔
(6)
غم زدہ کو تسلی دینا مسنون ہے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وحضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تسلی دینے کےلئے فرمایا کہ جنت کی نعمتیں دنیا سے بہتر ہیں۔
(7)
وحی اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہے۔
جس کی وجہ سے انسانوں کو ہدایت نصیب ہوئی اور وہ جہنم کے عذابوں سے بچ کر جنت کی گوناگوں نعمتوں اور بلند درجات سے سرفراز ہوئے۔
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت ام ایمن کا تعلق حبشہ سے تھا۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد محترم کی خدمت گار تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش اور نگہداشت میں ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھی بڑا حصہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کرکے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا نکاح کردیا تھا۔
دیکھئے: (ریاض الصالحین کے فوائد ازحافظ صلاح الدین یوسف حدیث: 361)
۔
(2)
نیک لوگوں کی ملاقات کےلئے جانامستحب ہے۔
(3)
جن حضرات سے بزرگوں کے خوش گوار تعلقات رہے ہوں۔
اولاد اور دوسرے متعلقین کو بھی یہ تعلقات قائم رکھنے چاہیں۔
(4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیاروں سے محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میں شامل ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی اس کی وجہ سے ان کے دل میں آپ کے متعلقین کی بھی محبت پائی جاتی تھی۔
(5)
عرصہ دراز کے بعد بھی فوت شدہ کی یاد آنے پر رونا آ جائے تو یہ صبر کے منافی نہیں۔
(6)
غم زدہ کو تسلی دینا مسنون ہے۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وحضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تسلی دینے کےلئے فرمایا کہ جنت کی نعمتیں دنیا سے بہتر ہیں۔
(7)
وحی اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہے۔
جس کی وجہ سے انسانوں کو ہدایت نصیب ہوئی اور وہ جہنم کے عذابوں سے بچ کر جنت کی گوناگوں نعمتوں اور بلند درجات سے سرفراز ہوئے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1635]
Sunan Ibn Majah Hadith 1635 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← أبو بكر الصديق