🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : ما جاء في النهي عن صيام أيام التشريق
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1720
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، فَقَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کا خطبہ دیا تو فرمایا: جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا، اور یہ (ایام تشریق) کھانے اور پینے کے دن ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1720]
حضرت بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایامِ تشریق میں خطبہ ارشاد فرمایا، (اس خطبے کے دوران میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان جان ہی داخل ہو گی اور یہ ایام کھانے پینے کے دن ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1720]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2019، ومصباح الزجاجة: 620)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإیمان وشرائعہ 7 (4997)، مسند احمد (3/415، 4/335)، سنن الدارمی/الصوم 48 (1807) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بشر بن سحيم الغفاريصحابي
👤←👥نافع بن جبير النوفلي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newنافع بن جبير النوفلي ← بشر بن سحيم الغفاري
ثقة فاضل
👤←👥حبيب بن أبي ثابت الأسدي، أبو يحيى
Newحبيب بن أبي ثابت الأسدي ← نافع بن جبير النوفلي
ثقة فقيه جليل
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← حبيب بن أبي ثابت الأسدي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1720
لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة الأيام أيام أكل وشرب
سنن النسائى الصغرى
4997
لا يدخل الجنة إلا مؤمن أيام أكل وشرب
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1720 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1720
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
➊ ایام تشریق عید الاضحیٰ کے بعد کے تین دنوں کو کہتے ہیں، یعنی ذو الحجہ کی گیارہ، بارہ، تیرہ تاریخ۔
➋ عید الاضحیٰ دس ذو الحجہ کی طرح یہ تین دن بھی قربانی کے دن ہیں، اس لیے تیرہ ذو الحجہ کو سورج کے غروب ہونے تک قربانی کرنا جائز ہے۔ تاہم سب سے زیادہ ثواب دس ذو الحجہ کو قربانی کرنے کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹ قربان کیے اور ان سب کی قربانی دس ذو الحجہ کو دی۔
➌ ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے کیونکہ یہ عید کی خوشی کے منافی ہے۔
➍ جو شخص حج تمتع ادا کرے اور اسے قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ ایام تشریق میں روزے رکھ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلْعُمْرَةِ إِلَى ٱلْحَجِّ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَـٰثَةِ أَيَّامٍ فِى ٱلْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ﴾ [البقرہ: 196/2] تو جس نے حج کے احرام تک عمرے کا فائدہ اٹھایا وہ احرام کھول کر جو میسر ہو قربانی سے وہ کرے، پھر جو شخص قربانی نہ پائے تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات اس وقت جب تم گھر لوٹ آؤ، یہ پورے دس روزے ہیں۔
➎ ایام تشریق کو منیٰ کے ایام اس لیے کہا جاتا ہے کہ حاجی یہ دن منیٰ میں گزارتے ہیں۔
➏ قربانی کے متبادل دس روزوں میں سے جو تین روزے حج کے ایام میں رکھنے ضروری ہیں، وہ یوم عرفہ سے پہلے رکھنے چاہییں۔ اگر وہ دن گزر جائیں تو ایام تشریق میں رکھے۔ [صحیح البخاري، الصوم، باب صیام أیام تشریق، حدیث: 1997، 1998]
➐ جنت میں داخل ہونے کے لیے صرف زبان سے اسلام کا اظہار کرنا کافی نہیں بلکہ دل میں اللہ کے احکام کی اطاعت کا جذبہ اور عملی طور پر اس کا اظہار بھی ضروری ہے۔ ایمان میں عملی نقص جنت میں فوری داخلے سے رکاوٹ کا باعث ہے۔ جہنم میں سزا بھگتنے کے بعد یا اللہ کی خصوصی رحمت سے معافی حاصل ہو جانے کے بعد جنت میں داخلہ ممکن ہے، البتہ شرک اکبر کا مرتکب اور غیر مسلم جب تک اس شرک اور کفر سے توبہ کرکے نہ مرا ہو دائمی جہنمی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1720]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4997
«اعراب» (دیہاتیوں) نے کہا ہم ایمان لائے اے رسول! آپ کہہ دیجئیے تم لوگ ایمان نہیں لائے لیکن تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں کی تفسیر۔
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ایام تشریق (۱۰، ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ) میں اعلان کر دیں کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی نہیں داخل ہو گا ۱؎، اور یہ کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4997]
اردو حاشہ:
(1) ایام تشریق ذوالحجہ کی 11،12، 13 تاریخ کو کہتے ہیں۔ گویا یہ اعلان حجۃ الوداع کے موقع پرکیا گیا۔
(2)صرف مومن ہی،، جس کا ایمان زبان سے آگے گز کر دل تک پہنچ گیا۔ وہی جنت کامستحق ہے اور گناہ گار مومن کسی نہ کسی وقت جنت میں ضرور جائے گا، البتہ کافر جنت میں نہیں جاسکے گا۔
(3) کھانے پینے کے دن ہیں لہٰذا ان دنوں میں روزہ رکھا جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4997]

Sunan Ibn Majah Hadith 1720 in Urdu