پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب : ما جاء في صيام يوم السبت
باب: سنیچر کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1726
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودَ عِنَبٍ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمُصَّهُ".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنیچر کے دن روزہ نہ رکھو، سوائے فرض روزہ کے، اگر تم میں سے کسی کو انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال کے علاوہ کوئی اور چیز کھانے کو نہ ملے تو اسی کو چوس لے“ (لیکن روزہ نہ رکھے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1726]
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو، سوائے اس روزے کے جو تم پر فرض ہو، اگر کسی کو محض انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال ہی ملے تو اسی کو چوس لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5191، ومصباح الزجاجة: 620)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 51 (2421)، سنن الترمذی/الصوم 43 (744)، مسند احمد (6/368)، سنن الدارمی/الصوم 40 (1790) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے آدمی سنیچر کو روزے کے لیے مخصوص کر دے کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، رہی وہ روایتیں جن میں سنیچر کے دن صوم رکھنے کا ذکر ہے تو ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ممانعت اس صورت میں ہے جب اسے روزے کے لیے خاص کر لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن بسر النصري، أبو صفوان، أبو بسر | صحابي | |
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله خالد بن معدان الكلاعي ← عبد الله بن بسر النصري | ثقة | |
👤←👥ثور بن يزيد الرحبي، أبو خالد ثور بن يزيد الرحبي ← خالد بن معدان الكلاعي | ثقة ثبت إلا أنه يرى القدر | |
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو عيسى بن يونس السبيعي ← ثور بن يزيد الرحبي | ثقة مأمون | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عيسى بن يونس السبيعي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1726
| لا تصوموا يوم السبت إلا فيما افترض عليكم فإن لم يجد أحدكم إلا عود عنب أو لحاء شجرة فليمصه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1726 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1726
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے بھی اکیلے ہفتے کے دن کے روزہ ے کی مما نعت ثابت ہوئی۔
فرض روزے رکھتے ہو ئے یہ دن بھی آ تا ہے لکین وہ اکیلا ہفتے کے دن کا روزہ نہیں ہوتا اسی طرح قضا روزے رکھتے ہوئے یہ اہتما م کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہفتے کے دن نہ رکھا جائے اسی طرح اگر اتفا قا اگر ہفتے کے دن کا روزہ آ پڑے مثلاً کسی کا ایک روزہ رہ گیا تھا اس کی قضا میں اس نے روزہ رکھا اتفاقا ہفتے کا دن تھا روزہ رکھنے والے کا ارادہ ہفتے کو اہمیت دینے کا نہیں تھا یا داؤد ؑ والا روزہ رکھتے ہوئے جمعرات کو روزہ رکھا تو اب ہفتے کو پھر سوموار کو روزہ رکھنا ہو گا تو ایسی صورتوں میں منع نہیں ہو گا۔
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے بھی اکیلے ہفتے کے دن کے روزہ ے کی مما نعت ثابت ہوئی۔
فرض روزے رکھتے ہو ئے یہ دن بھی آ تا ہے لکین وہ اکیلا ہفتے کے دن کا روزہ نہیں ہوتا اسی طرح قضا روزے رکھتے ہوئے یہ اہتما م کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہفتے کے دن نہ رکھا جائے اسی طرح اگر اتفا قا اگر ہفتے کے دن کا روزہ آ پڑے مثلاً کسی کا ایک روزہ رہ گیا تھا اس کی قضا میں اس نے روزہ رکھا اتفاقا ہفتے کا دن تھا روزہ رکھنے والے کا ارادہ ہفتے کو اہمیت دینے کا نہیں تھا یا داؤد ؑ والا روزہ رکھتے ہوئے جمعرات کو روزہ رکھا تو اب ہفتے کو پھر سوموار کو روزہ رکھنا ہو گا تو ایسی صورتوں میں منع نہیں ہو گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1726]
حدیث نمبر: 1726M
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أُخْتِهِ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن بسر کی بہن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر اسی جیسی روایت بیان کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1726M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan Ibn Majah Hadith 1726 in Urdu
خالد بن معدان الكلاعي ← عبد الله بن بسر النصري