🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ یعنی آپ آڈیو ، ویڈیو بھیجیں ہم ان شاء اللہ ٹیکسٹ/ پی ڈی ایف میں بنا دیں گے۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : ما جاء في صيام يوم السبت
باب: سنیچر کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1727
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي الْعَشْرَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ:" وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العیدین 11 (969)، سنن ابی داود/الصوم 61 (2438)، سنن الترمذی/الصوم 52 (757)، (تحفة الأشراف: 5614)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/224، 338، 346)، سنن الدارمی/الصوم 52 (1814) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥مسلم بن أبي عبد الله البطين، أبو عبد الله
Newمسلم بن أبي عبد الله البطين ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن أبي عبد الله البطين
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
969
ما العمل في أيام العشر أفضل منها في هذه ولا الجهاد إلا رجل خرج يخاطر بنفسه وماله فلم يرجع بشيء
جامع الترمذي
757
ما من أيام العمل الصالح فيهن أحب إلى الله من هذه الأيام العشر ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء
سنن أبي داود
2438
ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام يعني أيام العشر ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء
سنن ابن ماجه
1727
ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام يعني العشر ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء
المعجم الصغير للطبراني
1191
ما من أيام العمل فيهن أفضل من عشر ذي الحجة ، قالوا : ولا الجهاد فى سبيل الله ؟ ، قال : ولا الجهاد فى سبيل الله إلا من عقر جواده وأهريق دمه
المعجم الصغير للطبراني
1193
ما من عمل أحب إلى الله عز وجل من عمل فى عشر ذي الحجة ، إلا رجل يخرج بماله ونفسه ، ثم لا يرجع
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1727 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1727
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
  رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل ایا م ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں
(2)
نفل روزوں میں ذوالحجہ کے پہلے نو ایا م کے روزے سے زیادہ افضل ہیں ان میں سے ذوالحجہ کا روزہ زیا دہ افضل ہے
(3)
ان افضل ایا م میں انجام دیا جا نے والا ہر عمل دوسرے ایا م سے زیا دہ ثواب کا با عث ہے اس سے ثا بت ہوا کہ ان ایا م کا روزہ بھی دوسر ے ایا م کے روزوں سے افضل ہے البتہ دس ذوالحجہ کا روزہ رکھنا جا ئز نہیں اس لئے پہلے عشرہ کے روزوں سے مرا د پہلے نو دن کے روزے ہیں
(4)
ان ایام میں کیا ہوا جہاد دوسرے ایا م کے جہاد سے افضل ہے صحا بہ کرام کے سوال (وَلَا الْجِھَادَ فِی سَبِیْلِ اللہِ)
سے پتہ چلا کہ جہاد دوسری نیکیوں سے افضل عبادت ہے اسی طرح اس حدیث کے عموم سے یہ با ت بھی ثا بت ہو تی ہے کہ ان مبارک ایام میں کیا ہوا کوئی بھی عمل دیگر ایام میں کیے ہو ئے عمل یا جہاد سے افضل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1727]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2438
عشرہ ذی الحجہ کے روزہ کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد بھی (اسے نہیں پا سکتا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2438]
فوائد ومسائل:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ ذوالحجہ کے پہلے نو دنوں میں روزے رکھنے اور دیگر اعمال صالحہ کی انتہائی فضیلت ہے۔
رمضان کے آخری عشرہ اور عشرہ ذی الحجہ میں تقابلی طور پر علماء اس طرح بیان کرتے ہیں عشرہ رمضان کی راتیں افضل ہیں کیونکہ ان میں لیلة القدر آتی ہے اور عشرہ ذی الحجہ کے دن افضل ہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2438]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 969
969. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’‘جو عمل ان (دس) دنوں میں کیا جائے، اس کے مقابلے میں دوسرے دنوں کا کوئی عمل افضل نہیں ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: کیا جہاد بھی ان کے برابر نہیں؟ آپ نے فرمایا: جہاد بھی ان کے برابر نہیں سوائے اس شخص کے جس نے اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالا اور کوئی چیز واپس لے کر نہ لوٹا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:969]
حدیث حاشیہ:
اور ایک حنفی فتوی!ذی الحجہ کے پہلے عشرہ میں عبادت سال کے تمام دنوں کی عبادت سے بہتر ہے۔
کہا گیا ہے کہ ذی الحجہ کے دن تمام دنوں میں سب سے زیادہ افضل ہیں اور رمضان کی راتوں میں سے سب سے افضل ہیں۔
ذی الحجہ کے ان دس دنوں کی خاص عبادت جس پر سلف کا عمل تھا تکبیر کہنا اور روزے رکھنا ہے۔
اس عنوان کی تشریحات میں ہے کہ ابو ہریرہ ؓ اور ابن عمر ؓ جب تکبیر کہتے تو عام لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہتے تھے اور تکبیر میں مطلوب بھی یہی ہے کہ جب کسی کہتے ہوئے کو سنیں تو ارد گرد بھی آدمی ہو ں سب بلند آواز سے تکبیر کہیں (تفہیم البخاری)
عام طور پر برادران احناف نویں تاریخ سے تکبیر شروع کرتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ خود ان کے علماءکی تحقیق کے مطابق ان کا یہ طرز عمل سلف کے عمل کے خلاف ہے۔
جیسا کہ یہاں صاحب تفہیم البخاری دیوبندی حنفی نے صاف لکھا ہے کہ ذی الحجہ کے ان دس دنوں میں تکبیر کہنا سلف کا عمل تھا (اللہ نیک توفیق دے)
آمین۔
بلکہ تکبیروں کا سلسلہ ایام تشریق میں بھی جاری ہی رہنا چاہیے جو گیارہ سے تیرہ تاریخ تک کے دن ہیں۔
تکبیر کے الفاظ یہ ہیں:
اللہ أکبر اللہ أکبر لا إله إلا اللہ واللہ أکبر اللہ أکبر وللہ الحمد اور یوں بھی مروی ہیں:
اللہ أکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبحان اللہ بکرة وأصیلا.
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 969]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:969
969. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’‘جو عمل ان (دس) دنوں میں کیا جائے، اس کے مقابلے میں دوسرے دنوں کا کوئی عمل افضل نہیں ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: کیا جہاد بھی ان کے برابر نہیں؟ آپ نے فرمایا: جہاد بھی ان کے برابر نہیں سوائے اس شخص کے جس نے اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالا اور کوئی چیز واپس لے کر نہ لوٹا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:969]
حدیث حاشیہ:
(1)
اہل لغت اور اہل فقہ کے نزدیک قربانی کے دن، یعنی دسویں ذوالحجہ کے بعد ایام تشریق شروع ہوتے ہیں، لیکن تشریق کی وجہ تسمیہ کا تقاضا ہے کہ دسویں ذوالحجہ کو ایام تشریق میں شامل کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ تسمیہ کے متعلق تین اقوال ہیں:
٭ گوشت کاٹ کر دھوپ میں ڈالا جاتا تھا تاکہ وہ خشک ہو جائے۔
٭ نماز عید دن چڑھے پڑھتے تھے، اس لیے اس تشریق کہا جاتا ہے۔
٭ دور جاہلیت میں مشرکین کہتے تھے کہ اے سورج! جلدی طلوع ہو تاکہ ہم قربانی کریں۔
ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل یوم تشریق تو عید کا دن ہے اور باقی دنوں کو اس کی ماتحتی میں ایام تشریق میں شامل کیا گیا ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کے نزدیک اس روایت میں ایام سے مراد ایام تشریق ہیں اور ان دنوں کے عمل سے مراد اللہ أکبر کہنا اور ذکر الٰہی کرنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ نے تکبیرات کہنے کے متعلق مختلف آثار کا حوالہ دیا ہے۔
لیکن دیگر صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایام سے مراد ایام عشر ہیں، تو بھی مطابقت اس طرح ہے کہ امام بخاری ؒ کے نزدیک دسویں تاریخ ایام تشریق سے ہے، اس لیے ایک دن کے اعتبار سے عنوان ثابت ہوتا ہے۔
(3)
حافظ ابن حجرؒ نے عنوان سے مطابقت کے لیے ایک دوسرا پہلو اختیار کیا ہے کہ ذوالحجہ کے دس دنوں کی فضیلت اس اعتبار سے ہے کہ ان میں افعال حج ادا ہوتے ہیں اور کچھ افعال حج ایام تشریق میں ادا کیے جاتے ہیں، اس لیے اصل فضیلت میں ایام تشریق، ایام عشر کے ساتھ اشتراک رکھتے ہیں، پھر ایام عشر کا خاتمہ ایام تشریق کا افتتاحیہ ہے، اس بنا پر ان ایام کی فضیلت ہے اور یہی امام بخاری ؒ کا مقصود ہے۔
(فتح الباري: 592/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 969]

Sunan Ibn Majah Hadith 1727 in Urdu