🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : ما جاء في صيام يوم السبت
باب: سنیچر کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1727
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي الْعَشْرَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ:" وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1727]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی دن ایسے نہیں جن میں کیا ہوا عمل اللہ کو ان دنوں (میں کیے ہوئے اسی عمل) سے زیادہ محبوب ہو۔ یعنی ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں! مگر جو شخص اپنی جان اور اپنا مال لے کر (جہاد میں) نکلا، پھر کچھ بھی لے کر واپس نہ آیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العیدین 11 (969)، سنن ابی داود/الصوم 61 (2438)، سنن الترمذی/الصوم 52 (757)، (تحفة الأشراف: 5614)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/224، 338، 346)، سنن الدارمی/الصوم 52 (1814) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥مسلم بن أبي عبد الله البطين، أبو عبد الله
Newمسلم بن أبي عبد الله البطين ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن أبي عبد الله البطين
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
969
ما العمل في أيام العشر أفضل منها في هذه ولا الجهاد إلا رجل خرج يخاطر بنفسه وماله فلم يرجع بشيء
جامع الترمذي
757
ما من أيام العمل الصالح فيهن أحب إلى الله من هذه الأيام العشر ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء
سنن أبي داود
2438
ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام يعني أيام العشر ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء
سنن ابن ماجه
1727
ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام يعني العشر ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء
المعجم الصغير للطبراني
1191
ما من أيام العمل فيهن أفضل من عشر ذي الحجة ، قالوا : ولا الجهاد فى سبيل الله ؟ ، قال : ولا الجهاد فى سبيل الله إلا من عقر جواده وأهريق دمه
المعجم الصغير للطبراني
1193
ما من عمل أحب إلى الله عز وجل من عمل فى عشر ذي الحجة ، إلا رجل يخرج بماله ونفسه ، ثم لا يرجع
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1727 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1727
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
  رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل ایا م ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں
(2)
نفل روزوں میں ذوالحجہ کے پہلے نو ایا م کے روزے سے زیادہ افضل ہیں ان میں سے ذوالحجہ کا روزہ زیا دہ افضل ہے
(3)
ان افضل ایا م میں انجام دیا جا نے والا ہر عمل دوسرے ایا م سے زیا دہ ثواب کا با عث ہے اس سے ثا بت ہوا کہ ان ایا م کا روزہ بھی دوسر ے ایا م کے روزوں سے افضل ہے البتہ دس ذوالحجہ کا روزہ رکھنا جا ئز نہیں اس لئے پہلے عشرہ کے روزوں سے مرا د پہلے نو دن کے روزے ہیں
(4)
ان ایام میں کیا ہوا جہاد دوسرے ایا م کے جہاد سے افضل ہے صحا بہ کرام کے سوال (وَلَا الْجِھَادَ فِی سَبِیْلِ اللہِ)
سے پتہ چلا کہ جہاد دوسری نیکیوں سے افضل عبادت ہے اسی طرح اس حدیث کے عموم سے یہ با ت بھی ثا بت ہو تی ہے کہ ان مبارک ایام میں کیا ہوا کوئی بھی عمل دیگر ایام میں کیے ہو ئے عمل یا جہاد سے افضل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1727]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2438
عشرہ ذی الحجہ کے روزہ کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد بھی (اسے نہیں پا سکتا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2438]
فوائد ومسائل:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ ذوالحجہ کے پہلے نو دنوں میں روزے رکھنے اور دیگر اعمال صالحہ کی انتہائی فضیلت ہے۔
رمضان کے آخری عشرہ اور عشرہ ذی الحجہ میں تقابلی طور پر علماء اس طرح بیان کرتے ہیں عشرہ رمضان کی راتیں افضل ہیں کیونکہ ان میں لیلة القدر آتی ہے اور عشرہ ذی الحجہ کے دن افضل ہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2438]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 969
969. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’‘جو عمل ان (دس) دنوں میں کیا جائے، اس کے مقابلے میں دوسرے دنوں کا کوئی عمل افضل نہیں ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: کیا جہاد بھی ان کے برابر نہیں؟ آپ نے فرمایا: جہاد بھی ان کے برابر نہیں سوائے اس شخص کے جس نے اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالا اور کوئی چیز واپس لے کر نہ لوٹا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:969]
حدیث حاشیہ:
اور ایک حنفی فتوی!ذی الحجہ کے پہلے عشرہ میں عبادت سال کے تمام دنوں کی عبادت سے بہتر ہے۔
کہا گیا ہے کہ ذی الحجہ کے دن تمام دنوں میں سب سے زیادہ افضل ہیں اور رمضان کی راتوں میں سے سب سے افضل ہیں۔
ذی الحجہ کے ان دس دنوں کی خاص عبادت جس پر سلف کا عمل تھا تکبیر کہنا اور روزے رکھنا ہے۔
اس عنوان کی تشریحات میں ہے کہ ابو ہریرہ ؓ اور ابن عمر ؓ جب تکبیر کہتے تو عام لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہتے تھے اور تکبیر میں مطلوب بھی یہی ہے کہ جب کسی کہتے ہوئے کو سنیں تو ارد گرد بھی آدمی ہو ں سب بلند آواز سے تکبیر کہیں (تفہیم البخاری)
عام طور پر برادران احناف نویں تاریخ سے تکبیر شروع کرتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ خود ان کے علماءکی تحقیق کے مطابق ان کا یہ طرز عمل سلف کے عمل کے خلاف ہے۔
جیسا کہ یہاں صاحب تفہیم البخاری دیوبندی حنفی نے صاف لکھا ہے کہ ذی الحجہ کے ان دس دنوں میں تکبیر کہنا سلف کا عمل تھا (اللہ نیک توفیق دے)
آمین۔
بلکہ تکبیروں کا سلسلہ ایام تشریق میں بھی جاری ہی رہنا چاہیے جو گیارہ سے تیرہ تاریخ تک کے دن ہیں۔
تکبیر کے الفاظ یہ ہیں:
اللہ أکبر اللہ أکبر لا إله إلا اللہ واللہ أکبر اللہ أکبر وللہ الحمد اور یوں بھی مروی ہیں:
اللہ أکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبحان اللہ بکرة وأصیلا.
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 969]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:969
969. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’‘جو عمل ان (دس) دنوں میں کیا جائے، اس کے مقابلے میں دوسرے دنوں کا کوئی عمل افضل نہیں ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: کیا جہاد بھی ان کے برابر نہیں؟ آپ نے فرمایا: جہاد بھی ان کے برابر نہیں سوائے اس شخص کے جس نے اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالا اور کوئی چیز واپس لے کر نہ لوٹا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:969]
حدیث حاشیہ:
(1)
اہل لغت اور اہل فقہ کے نزدیک قربانی کے دن، یعنی دسویں ذوالحجہ کے بعد ایام تشریق شروع ہوتے ہیں، لیکن تشریق کی وجہ تسمیہ کا تقاضا ہے کہ دسویں ذوالحجہ کو ایام تشریق میں شامل کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ تسمیہ کے متعلق تین اقوال ہیں:
٭ گوشت کاٹ کر دھوپ میں ڈالا جاتا تھا تاکہ وہ خشک ہو جائے۔
٭ نماز عید دن چڑھے پڑھتے تھے، اس لیے اس تشریق کہا جاتا ہے۔
٭ دور جاہلیت میں مشرکین کہتے تھے کہ اے سورج! جلدی طلوع ہو تاکہ ہم قربانی کریں۔
ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل یوم تشریق تو عید کا دن ہے اور باقی دنوں کو اس کی ماتحتی میں ایام تشریق میں شامل کیا گیا ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کے نزدیک اس روایت میں ایام سے مراد ایام تشریق ہیں اور ان دنوں کے عمل سے مراد اللہ أکبر کہنا اور ذکر الٰہی کرنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ نے تکبیرات کہنے کے متعلق مختلف آثار کا حوالہ دیا ہے۔
لیکن دیگر صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایام سے مراد ایام عشر ہیں، تو بھی مطابقت اس طرح ہے کہ امام بخاری ؒ کے نزدیک دسویں تاریخ ایام تشریق سے ہے، اس لیے ایک دن کے اعتبار سے عنوان ثابت ہوتا ہے۔
(3)
حافظ ابن حجرؒ نے عنوان سے مطابقت کے لیے ایک دوسرا پہلو اختیار کیا ہے کہ ذوالحجہ کے دس دنوں کی فضیلت اس اعتبار سے ہے کہ ان میں افعال حج ادا ہوتے ہیں اور کچھ افعال حج ایام تشریق میں ادا کیے جاتے ہیں، اس لیے اصل فضیلت میں ایام تشریق، ایام عشر کے ساتھ اشتراک رکھتے ہیں، پھر ایام عشر کا خاتمہ ایام تشریق کا افتتاحیہ ہے، اس بنا پر ان ایام کی فضیلت ہے اور یہی امام بخاری ؒ کا مقصود ہے۔
(فتح الباري: 592/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 969]

الشيخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ، صحیح بخاری 969
سوال: کیا ایام تشریق میں فرض نمازوں کے بعد تکبیرات کہی جائیں گی؟
جواب: ایام تشریق میں فرائض کے بعد تکبیرات بآواز بلند پڑھنا مشروع ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ﴾ [سورۃ الحج: 37]
تا کہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو، کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے۔
﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾ [سورۃ البقرة: 203]
ایام معدودات میں اللہ کا ذکر کرو۔
❀ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«هِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ.» [معرفة السنن والآثار للبیہقی: 4/255، وسندہ صحیح]
یہاں ایام تشریق مراد ہیں۔
◈ اس کی سند کو حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ [البدر المنير: 6/430] اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ [التلخيص الحبير: 2/108] نے صحیح کہا ہے۔
تکبیرات کا آغاز یوم عرفہ (نو ذوالحجہ) کی نماز فجر سے ہوتا ہے اور اختتام تیرہ ذوالحجہ کی عصر کے بعد ہوتا ہے۔
◈ اس پر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اجماع نقل کیا ہے۔ [العُدّة في أصول الفقه لابن الفراء: 4/1061]
یکم ذوالحجہ سے ان تکبیرات کا آغاز کرنے پر کوئی دلیل نہیں۔
❀ ابو وائل شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نو ذوالحجہ کو نماز فجر سے لے کر آخری یوم تشریق (تیرہ ذوالحجہ) کو نماز عصر کے بعد تک تکبیرات پڑھتے تھے۔ [مصنف ابن أبی شیبہ: 2/165، وسندہ صحیح]
یہ تکبیرات بآواز بلند فرض نمازوں کے بعد بھی کہنی چاہئیں اور عام اوقات میں بھی۔
◈ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) فرماتے ہیں:
اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ ان دنوں (نو ذوالحجہ سے لے کر تیرہ ذوالحجہ کی عصر تک) میں فرض نمازوں کے بعد تکبیرات کہنا مشروع ہے۔ اس باب میں کوئی مرفوع صحیح حدیث نہیں، البتہ آثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ اور مسلمانوں کا عمل منقول ہے۔ [فتح الباري لابن رجب: 9/22]
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
آپ رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمے میں (بآواز بلند) تکبیرات کہتے تھے کہ حاضرین مسجد آپ رضی اللہ عنہ کی تکبیر کو سن لیتے، وہ بھی تکبیرات کہنے لگتے، تو بازار والے سن لیتے، وہ بھی تکبیرات کہنے لگتے، یوں منیٰ ایک ساتھ تکبیر سے گونج اٹھتا۔ [السنن الكبرى للبیہقی: 6267، وسندہ صحیح]
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
آپ رضی اللہ عنہ ان دنوں (ایام تشریق) میں منیٰ کے اندر فرض نمازوں کے بعد، بستر پر، خیمے میں اور چلتے پھرتے تکبیرات کہتے تھے۔ [الأوسط لابن المنذر: 4/299، وسندہ حسن]
◈ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان نو ذوالحجہ کو فرض نماز کے بعد قبلہ کی طرف منہ کر کے یہ تکبیرات پڑھتے تھے:
«اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.»
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، تعریف و ثناء بھی اسی کی ہے۔ [مصنف ابن أبی شیبہ: 2/167، وسندہ صحیح]
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نو ذوالحجہ کی نماز فجر سے لے کر تیرہویں ذوالحجہ کی شام تک یہ تکبیرات پڑھتے تھے:
«اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.»
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، وہ انتہائی عظمت والا ہے، وہ سب سے بڑا ہے، تعریف بھی اسی کی ہے۔ [مصنف ابن أبی شیبہ: 2/168، وسندہ صحیح]
[فتاوی امن پوری، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

ڈاکٹر ابو جابر عبد اللہ دامانوی حفظہ اللہ،صحیح بخاری 969
ایامِ تشریق میں نمازوں کے بعد تکبیرات
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ ان تکبیرات کو عرفہ کے دن فجر کی نماز کے بعد سے تیرہ تاریخ کی عصر کی نمازکے بعد تک پڑھنے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
اس سلسلہ کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
«حدثنا أبوبکر قال حدثنا حسین بن علي عن زائدة عن عاصم عن شقیق وعن علي بن عبد الأعلیٰ عن أبي عبد الرحمن عن علي أنه کان یکبر بعد صلاة الفجر یوم عرفة إلی صلاة العصر من آخر أیام التشریق ویکبر بعد العصر.» [مصنف ابن أبي شیبة: 72/2 واللفظ له، المستدرک: 299/1، السنن الکبریٰ للبیهقي: 314/3]
جناب شقیق رحمۃ اللہ علیہ اور ابوعبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جناب علی رضی اللہ عنہ عرفہ کے دن فجر کی نماز کے بعد تکبیر کہتے، ایامِ تشریق کے آخر تک نماز عصر تک اور عصر کے بعد تکبیر کہتے۔
یہ ابوعبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کے الفاظ ہیں اور جناب شقیق رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
«کان علي یکبر بعد صلوٰة الفجر غداة عرفة ثم لا یقطع حتی یصلي الإمام من آخر أیام التشریق ثم یکبر بعد العصر.» [المستدرک: 299/1]
حضرت علی رضی اللہ عنہ عرفہ کی صبح، فجر کی نماز کے بعد تکبیر کہتے، پھر وہ برابر کہتے رہتے تھے یہاں تک کہ امام ایام تشریق کے آخری دن عصر کی نماز پڑھاتا، پھر وہ عصر کے بعد تکبیر پکارتے۔
یہ روایت اپنے مفہوم پر بالکل واضح ہے اور اس میں «یکبّر بعد صلوٰة الفجر» یعنی وہ نمازِ فجر کے بعد تکبیر پکارتے تھے۔ اور یہ سلسلہ جاری رہتا یہاں تک کہ وہ عصر کی نماز کے بعد تک تکبیرات پکارتے تھے (ایامِ تشریق کے اختتام تک)۔
اس روایت میں کوئی ابہام نہیں ہے اور اِسے بغور پڑھا جائے تو اُمید ہے کہ مسئلہ کی تہہ تک پہنچنے میں طالبِ حق کو دشواری پیش نہ آئے گی۔
ان شاء اللہ تعالیٰ
«فحدثني أبوبکر محمد بن أحمد بن بالویہ ثنا عبد اﷲ بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا یحیی بن سعید ثنا الحکم بن فروخ عن ابن عباس أنه کان یکبر عن غداة عرفة إلی صلوة العصر من آخر أیام التشریق.» [المستدرک: 299/1]
جناب حکم بن فروخ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما عرفہ کی صبح سے ایام تشریق کے آخر تک، عصر کی نماز تک تکبیر پکارتے تھے۔
«فحدثنا أبوالعباس محمد بن یعقوب أنبأ العباس بن الولید بن مزید ثنا أبي قال سمعت الأوزاعي وسئل عن التکبیر یوم عرفة فقال: یکبر من غداة عرفة إلیٰ آخر أیام التشریق کما کبر علي وعبداﷲ.» [المستدرک: 300/1]
جناب ولید بن مزید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ سے یومِ عرفہ کی تکبیر کے متعلق سوال کیا گیا تو میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (عرفہ کی) صبح سے ایامِ تشریق کے آخر تک تکبیرات پکاری جائیں گی، جیسا کہ علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تکبیر کہا کرتے تھے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل پیچھے مفصل گزر چکا ہے کہ وہ عرفہ کے روز صبح کی نماز کے بعد سے لے کر تیرہ تاریخ کی عصر کی نماز کے بعد تک تکبیرات پکارتے تھے۔
اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں:
«فأخبرناہ أبویحیٰی أحمد بن محمّد السمرقندي ثنا مُحمّد بن نصر ثنا یحیٰی بن یحیٰی أنبأ هیثم عن أبي جناب عن عُمیر بن سعید قال: قدم علینا ابن مسعود فکان یکبر من صلوٰة الصبح یوم عرفة إلیٰ صلوٰة العصر من آخر أیام التـشریق.» [المُستدرَک: 299/1، 300]
جناب عمیر بن سعید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ابن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف لائے، پس وہ یومِ عرفہ کے دن صبح کی نماز سے ایامِ تشریق کے آخر، نمازِ عصر تک تکبیرات پکارتے تھے۔
«فأخبرني أبوبکر محمد بن أحمد بن بالویہ ثنا عبداﷲ بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة بن الحجاج قال سمعت عطاء یحدث عن عبید بن عمیر قال: کان عمر بن الخطاب یکبر بعد صلوٰة الفجر من یوم عرفة إلی صلوٰة الظھر من آخر أیام التشریق.» [المستدرک: 299/1، ابن أبي شیبة: 72/2]
جناب عبید بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عرفہ کے دن نمازِ فجر کے بعد سے تکبیر کہتے، یہاں تک کہ وہ ایام تشریق کے آخر تک، ظہر کی نماز تک تکبیر کہتے تھے۔
◈ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے تکبیرات کے سلسلہ میں مرفوع روایت کو تو موضوع قرار دیا اور آگے فرماتے ہیں:
«فأما مِن فعل عمر وعلي وابن مسعود فصَحیح عنھم التکبیر.» [تلخیص المستدرک: 299/1]
پس جو عمر رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فعل ہے تو ان سے صحیح سند کے ساتھ تکبیر کہنا ثابت ہے۔
ان سب آثار میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ صحابہ عرفے کی صبح سے تکبیرات کا آغاز فرماتے اور 13 ذوالحجہ کی عصر تک جاری رکھتے۔
ان میں کسی میں بھی فرض نمازوں کے بعد خصوصی طور پر تکبیرات بہ آواز بلند پڑھنے کا ذکر نہیں ہے۔
جہاں تک عرفے کے دن سے بلکہ ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے آخر ایامِ تشریق تک تکبیرات پڑھنے کا مسئلہ ہے، یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے عموم سے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے ثابت ہے۔ اس میں تو سرے سے اختلاف ہی نہیں ہے، لیکن اس میں نماز کے بعد کی تخصیص نہیں ہے، بلکہ عموم ہے کہ یہ تکبیرات ہر وقت پڑھی جائیں، نہ کہ صرف فرض نمازوں کے بعد۔
محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی بات اس حد تک تو درست معلوم ہوتی ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد تکبیرات پڑھنے کے صریح الفاظ کسی صحیح روایت میں موجود نہیں ہیں، لیکن آثار میں مذکور «یکبر بعد صلاة الفجر» اور «یکبر بعد العصر/ إلیٰ صلاة العصر» کے الفاظ وغیرہ میں البتہ اس امر کا اشارہ ضرور پایا جاتا ہے۔
اور اس اشارہ کو اس بات سے بھی مزید تقویت حاصل ہوجاتی ہے کہ یوم تشریق تو مغرب کے وقت ختم ہوتا ہے لیکن آخری یوم تشریق کی عصر کی نماز کے بعد تک تکبیرات کو محدود کرنا نمازوں سے ان تکبیرات کے تعلق کا بھی ایک اہم قرینہ ہے۔ واللہ اعلم (حافظ حسن مدنی)
اصل مصمون دیکھیں ماہنامہ محدث، جنوری 2006ء، عبداللہ دامانوی
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

الشيخ مفتی کفایت اللہ السنابلی حفظہ اللہ، صحیح بخاری 969
تکبیرات ذی الحجہ کے مسائل
تکبیرات کے ایام۔
ذی الحجہ کی 1 تاریخ سے لے کر ذی الحجہ کی 13 تاریخ کی شام تک تکبیر کہنا مشروع ہے۔
دلائل ملاحظہ ہوں:
عشرہ ذی الحجہ میں تکبیرات:
«عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ما من أيام العمل الصالح فيهن أحب إلى الله من هذه الأيام العشر، فقالوا: يا رسول الله، ولا الجهاد فى سبيل الله؟ فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ولا الجهاد فى سبيل الله، إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء.»
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذی الحجہ کے دس دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہوں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا۔ [سنن الترمذي: رقم 757 وإسناده صحيح صرح الأعمش بالسماع عند الطيالسي]
مسند احمد میں ابن عمر سے مروی اسی حدیث کے اخیر میں یہ اضافہ بھی ہے:
«فأكثروا فيهن من التهليل، والتكبير، والتحميد.» [مسند أحمد ط الميمنية: 2/ 75]
لیکن اس کی سند یزید بن ابی زیاد کے سبب ضعیف ہے، اور اس اضافہ والی کوئی بھی روایت سنداً صحیح نہیں ہے۔
البتہ اصل صحیح حدیث میں «العمل الصالح» کا جو عموم ہے اس میں تکبیرات کہنا بھی شامل ہے بلکہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے عملاً ان دنوں میں تکبیرات کہنا ثابت ہے، چنانچہ:
◈ أبو عبد الله محمد بن إسحاق الفاكهي (المتوفى: 272ھ) نے کہا:
«حدثني إبراهيم بن يعقوب، عن عفان بن مسلم، قال: ثنا سلام بن سليمان أبو المنذر القارئ، قال: ثنا حميد الأعرج، عن مجاهد، قال: كان أبو هريرة وابن عمر رضي الله عنهما يخرجان أيام العشر إلى السوق، فيكبران، فيكبر الناس معهما، لا يأتيان السوق إلا لذلك.»
مجاہد فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما عشرہ ذی الحجہ میں بازار جاتے اور تکبیر پڑھتے تھے ان کے ساتھ لوگ بھی تکبیر پڑھتے، یہ دونوں صحابہ اسی مقصد کے لیے بازار آتے تھے۔ [أخبار مكة للفاكهي: 2/ 372، رقم 1704 وإسناده حسن وعلقه البخاري في صحيحه]
نوٹ: واضح رہے کہ اس سے اجتماعی تکبیر کی یہ شکل ثابت نہیں ہوتی ہے کہ ایک شخص ایک صیغہ سے تکبیر کہے پھر سارے لوگ اس کے ساتھ اسی صیغے سے اجتماعی تکبیر کہیں، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے دیگر آثار میں جو صیغے مروی ہیں وہ الگ الگ ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے وہ بازار وغیرہ میں جب ایک ساتھ پڑھتے تھے تو صرف وقت ایک ہوتا تھا لیکن صیغہ اور انداز سب کا الگ الگ ہوتا تھا۔
ایام تشریق میں تکبیرات:
ایام تشریق یعنی 11، 12 اور 13 ذی الحجہ کو بھی تکبیرات کہنا مشروع ہے، دلائل ملاحظہ ہوں:
«عن نبيشة الهذلي، قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر لله.»
نبیشہ ھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تشریق کے دن کھانے، پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔ [صحيح مسلم: 3/ 800، رقم 1141]
اس حدیث میں وارد ذکر کے اندر تکبیر شامل ہے، نیز متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایام تشریق میں تکبیرات کہنے کا ثبوت ملتا ہے، چنانچہ:
◈ امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى 235ھ) نے کہا:
«حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن أبى بكار، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنه كان يكبر من صلاة الفجر يوم عرفة إلى آخر أيام التشريق، لا يكبر فى المغرب.»
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن نماز فجر کی صبح سے تشریق کے آخری دن تک تکبیر کہتے تھے، اور مغرب میں نہیں کہتے تھے۔ [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 4/ 212، رقم 5764 وإسناده صحيح]
◈ امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى 235ھ) نے کہا:
«حدثنا حسين بن علي، عن زائدة، عن عاصم، عن شقيق، عن على أنه كان يكبر بعد صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق، ويكبر بعد العصر.»
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن نماز فجر کے بعد سے لے کر تشریق کے آخری دن عصر تک تکبیر کہتے تھے اور عصر کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے۔ [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 4/ 209 وإسناده حسن]
تنبیہ: ان آثار کا بعض نے یہ مطلب سمجھا لیا کہ یوم عرفہ سے لے کر تشریق کے آخری دن تک ہی تکبیر کہنا ہے، یعنی یکم ذی الحجہ سے لے کر یوم عرفہ تک تکبیرات کہنا درست نہیں، بلکہ بعض نے تو اسے بدعت تک کہا ہے، چنانچہ:
◈ امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى 235ھ) نے کہا:
«حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن شعبة، قال: سألت الحكم وحمادا عن التكبير أيام العشر? فقالا: محدث.»
امام شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم بن عتیبہ اور حماد بن ابی سلیمان سے ایام عشرہ ذی الحجہ میں تکبیرات سے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ نئی ایجاد کردہ چیز ہے۔ [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 8/ 198، رقم 14462 وإسناده صحيح]
عرض ہے کہ مذکورہ آثار میں کثرتِ اہتمام بتلانا مقصود ہے، یعنی یہ صحابہ نسبتاً ان دنوں میں تکبیرات کا زیادہ اہتمام کرتے تھے۔
جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت ہے کہ:
«أن ابن عمر كان يغدو إلى العيد من المسجد، وكان يرفع صوته بالتكبير حتى يأتى المصلى ويكبر حتى يأتى الإمام.»
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مسجد سے عیدگاہ کے لیے نکلتے اور تکبیر کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے یہاں تک عید گاہ پہنچ جاتے، پھر تکبیر کہتے رہتے جب تک کہ امام نہ آ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي، ط الهند: 3/ 279، أحكام العيدين للفريابي: ص 114، الأوسط في السنن: 4/ 250، أحكام العيدين للفريابي: ص 114 وإسناده صحيح]
ظاہر ہے کہ اس روایت کی بنا پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ صرف عید کے دن ہی تکبیر کہتے تھے، اور اس سے قبل پورے عشرہ میں تکبیر نہیں کہتے تھے! بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ عید کے دن تکبیر کا اہتمام زیادہ ہوتا تھا، نیز اوپر ایک صریح روایت گزر چکی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ عشرہ ذی الحجہ میں بھی بازار جا کر تکبیر کہتے تھے۔
تکبیرات مقید کا کوئی ثبوت نہیں۔
بعض لوگ تکبیرات کی دو قسمیں کرتے ہیں:
تکبیرات مطلق
تکبیرات مقید
تکبیرات مطلق کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہے یہ کبھی بھی کہی جائیں گی، لیکن تکبیرات مقید کا ایک مخصوص وقت ہے اور وہ نمازوں کے بعد کے اوقات ہیں، حتیٰ کہ بعض نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ ان تکبیرات کو نمازوں کے بعد کے مسنون اذکار سے بھی پہلے کہیں گے۔
عرض ہے کہ کتاب و سنت اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں تکبیرات کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہے، لہٰذا مذکورہ تقسیم بے بنیاد ہے اور تکبیرات مقید کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، بلکہ یہ تقلیدی برادری کے ہاں رائج غلط امور میں سے ہے، بعض اہل علم نے غالباً تقلیدی برادری کے ساتھ حسنِ ظن کی بنا پر ان کی ہاں میں ہاں ملا دی ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ بالکل بے دلیل بات ہے، بلکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے تو اسے بدعت کہا ہے۔
● ملاحظہ ہو یہ سوال و جواب:
«وسئل: هل يقيد التكبير فى أيام التشريق فيما بعد الصلوات؟ فأجاب: لا، لا يقيد؛ بل تقييدُه مِن البدع؛ إنما التكبير بكل وقتٍ من أيام التشريق،السائل: وأيام العشر؟ الشيخ (الالباني): وأيام العشر كذلك.»
علامہ البانی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ: کیا ایام تشریق میں نمازوں کے بعد تکبیر کو مقید کیا جائے گا؟ تو علامہ البانی رحمہ اللہ نے جواب دیا: نہیں! نمازوں کے بعد اس کی تقیید نہیں کی جائے گی! بلکہ نمازوں کے بعد اسے مقید کرنا بدعات میں سے ہے، اور صحیح یہ ہے کہ تکبیر ایام تشریق میں کسی بھی وقت کہی جائے گی۔ سائل نے مزید پوچھا کہ: کیا عشرہ ذی الحجہ کے ایام میں بھی؟ تو شیخ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا: عشرہ ذی الحجہ کے ایام میں بھی ایسے ہی تکبیر کہی جائے گی۔ [الشريط: 410، الدقيقة: 00:36:12]
نوٹ: واضح رہے کہ کسی عمل کو بدعت کہنے میں اور کسی عامل کو بدعتی کہنے میں بڑا فرق ہے۔
◈ علامہ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وهنا أمر أريد أن أنبه عليه وهو ما اعتاده الناس عقب الصلوات من يوم النحر بعد الفجر إلى آخر أيام التشريق، عقب الصلوات أنهم يكبرون، وهذا ليس بمشروع، بل التكبير مطلق، أعني أنك تبدأ عقب الصلوات بالأذكار المشروعة التى تقال عقب الصلوات ثم تكبر سواء عقب الصلوات أم فى الضحى أم فى نصف النهار، أو آخر النهار، أم فى نصف الليل، لكن ليست له كيفية عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، ولا يخص عقب الصلوات.»
یہاں میں ایک چیز پر تنبیہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ یوم النحر کے دن فجر کے بعد سے لے کر تشریق کے آخری دن تک نمازوں کے بعد تکبیر کہنے کا جو لوگوں کا معمول ہے، یہ غیر مشروع ہے، کیونکہ اس کا کوئی خاص وقت نہیں ہے، یعنی نمازوں کے بعد پہلے مشروع اذکار پڑھیں، پھر تکبیر پڑھیں، خواہ نمازوں کے بعد، یا چاشت کے بعد، یا دوپہر کے بعد، یا شام کو یا آدھی رات کو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی کوئی مخصوص کیفیت منقول نہیں اور نہ ہی نمازوں کے بعد اس کا خاص وقت ہے۔ [قمع المعاند: 2/ 365 - 366]
◈ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لم يرد عن النبى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نص صحيح صريح فى باب التكبير المقيد، لكنه آثار واجتهادات من العلماء.»
تکبیراتِ مقید کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی صحیح اور صریح نص ثابت نہیں ہے، یہ بعض آثار اور اہل علم کے اجتہادات ہیں۔ [مجموع فتاوى ورسائل العثيمين: 16/ 261]
تنبیہ بلیغ: واضح رہے کہ بعض صحابہ کے آثار میں جو یہ ملتا ہے کہ وہ عرفہ کے دن فجر بعد لے کر تشریق کے آخری دن عصر تک یا مغرب تک تکبیرات کہتے تھے (جیسا کہ اوپر کچھ ایسے آثار منقول ہیں)، تو اس کا مطلب صرف یہ بتلانا ہے کہ یہ تکبیر کب سے کب تک کہنا ہے، یہاں یہ مطلب اخذ کر لینا کہ یہ صحابہ نمازوں کے بعد کے اوقات کے ساتھ تکبیرات کو مقید جانتے تھے، بالکل درست نہیں ہے۔
البتہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ایک اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دیگر اوقات کے ساتھ نمازوں کے بعد بھی تکبیرات کا اہتمام کرتے تھے، چنانچہ:
◈ امام ابن المنذر رحمہ اللہ (المتوفی 319ھ) نے کہا:
«حدثنا موسى بن هارون، قال: ثنا أبى قال: ثنا محمد بن بكر، قال: أخبرنا ابن جريج، قال: أخبرني نافع، أن ابن عمر: كان يكبر بمني تلك الأيام خلف الصلوات، وعلى فراشه، وفي فسطاطه، وفي ممشائه تلك الأيام جميعا.»
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایامِ منیٰ میں نمازوں کے بعد، اپنے بستر پر، اپنے خیمہ میں، اور اپنے راستے میں ان تمام دنوں میں تکبیرات کہتے تھے۔ [الأوسط لابن المنذر، ط دار الفلاح: 4/ 344 وإسناده صحيح وأخرجه أيضاً أبو داود في مسائل أحمد: ص 169 من طريق يحيى بن سعيد، والفاكهي في أخبار مكة: 4/ 260 من طريق عبد المجيد، كلاهما من طريق ابن جريج به]
لیکن اس اثر سے نماز کے بعد کے وقت کی تقیید ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ اسی اثر میں بستر، خیمہ اور راستے کا بھی ذکر ہے، تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ تکبیرات کا ان اوقات و مقامات کے ساتھ مقید ہونا ثابت ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں!
نیز عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی ثابت ہے کہ جب وہ تنہا نماز پڑھتے تھے تو نمازوں کے بعد تکبیرات نہیں پڑھتے تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باجماعت نمازوں کے بعد ان کے تکبیر کہنے کا مقصد لوگوں کو تعلیم دینا ہوتا تھا، نہ کہ ان کا یہ ماننا تھا کہ ان تکبیرات کے لیے نماز کے بعد کا وقت مخصوص ہے چنانچہ:
◈ امام طبرانی رحمہ اللہ (المتوفی 360ھ) نے کہا:
حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، ثنا محمد بن سلمة، عن أبي عبد الرحيم، عن زيد بن أبي أنيسة، عن عمر بن نافع، عن أبيه: «أن ابن عمر كان إذا صلى وحده في أيام التشريق لم يكبر دبر الصلاة» ۔
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ایامِ تشریق کے دنوں میں جب تنہا نماز پڑھتے تو نمازوں کے بعد تکبیر نہیں کہتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني: 12/ 268، وإسناده صحيح]
اس کی مزید وضاحت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے اس اثر سے بھی ہوتی ہے جو شروع میں پیش کیا گیا ہے جس میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ بازار میں اسی مقصد کے تحت جاتے تھے کہ وہاں اکٹھا لوگوں کو تکبیر کی تعلیم دیں۔
ظاہر ہے کہ یہاں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ تکبیرات کو بازار کے ساتھ مقید جانتے تھے، یہی معاملہ نماز کے بعد کا بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب تنہا نماز پڑھتے تھے تو اس وقت تکبیر کا خصوصی اہتمام نہیں کرتے تھے۔
اس طرح عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اثر بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تکبیراتِ مقید کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، والحمدللہ۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک ضعیف اثر:
◈ امام ابن المنذر رحمہ اللہ (المتوفی 319ھ) نے کہا:
وحدثونا عن إسحاق بن إبراهيم، قال: أخبرنا محمد بن سلمة الجزري، عن زيد بن أبي أنيسة، عن حماد، عن إبراهيم، عن علقمة، عن ابن مسعود قال: «ليس على الواحد والاثنين تكبير أيام التشريق، إنما التكبير على من صلى في جماعة» ۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک یا دو لوگ نماز پڑھیں تو ان کے لیے تکبیر نہیں ہے بلکہ تکبیر ان کے لیے ہے جو باجماعت نماز پڑھیں۔ [الأوسط لابن المنذر، ط دار الفلاح: 4/ 352]
یہ اثر ضعیف ہے کیونکہ:
➊ ابن المنذر رحمہ اللہ نے اپنے اساتذہ کا نام نہیں بتایا ہے۔
➋ نیز حماد بن ابی سلیمان اخیر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔
قالوا: وكان حماد ضعيفا في الحديث فاختلط في آخر أمره۔
محدثین کا کہنا ہے کہ حماد حدیث میں ضعیف تھے اور اخیر میں اختلاط کے شکار ہو گئے تھے۔ [الطبقات الكبرى ط دار صادر: 6/ 333]
اور جن لوگوں نے ان سے اختلاط سے قبل سنا ہے ان میں زید بن ابی انیسہ کا نام نہیں ہے۔
◈ امام ہیثمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ولم يقبل من حديث حماد إلا ما رواه عنه القدماء شعبة وسفيان الثوري والدستوائي،ومن عدا هؤلاء رووا عنه بعد الاختلاط۔
حماد کی صرف وہی احادیث قبول کی گئی ہیں جنہیں ان کے قدیم شاگردوں شعبہ، سفیان ثوری اور ہشام دستوائی نے ان سے روایت کیا ہے، اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کیا ہے۔ [مجمع الزوائد: رقم 1/ 143، وانظر: سؤالات أبي داود لأحمد: ص 290]
لہٰذا یہ اثر ضعیف ہے۔
تنبیہ: ابو حماد کی تحقیق سے مطبوع الأوسط کے نسخہ میں یہ اثر ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے جو کہ غلط ہے۔
بعض لوگ جب تکبیراتِ مقید کو کتاب و سنت سے ثابت نہیں کر پاتے تو نام نہاد اجماع کی دہائی دینا شروع کر دیتے ہیں، سو واضح ہونا چاہیے کہ اول تو بغیر دلیل کے اجماع کا انعقاد ناممکن ہے، دوسرے یہ کہ حجت صرف اجماعِ معلوم ہے، جبکہ تقلیدی برادری دن رات جس اجماع کا رٹ لگاتی ہے وہ اجماعِ مجہول ہوتا ہے، اور ایسے اجماع کا حجت ہونا تو دور کی بات اس کا دعویٰ کرنے والا بقول امام احمد رحمہ اللہ کذاب ہے۔
اور اوپر صحیح سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے آثار پیش کیے گئے کہ آپ صرف نمازوں کے بعد ہی نہیں بلکہ دیگر تمام اوقات میں تکبیر کہتے تھے، نیز آپ جب تنہا نماز پڑھتے تو نماز کے بعد تکبیر نہ کہتے، یہ آثار نام نہاد اور مجہول اجماع کے مردود ہونے پر زبردست دلیل ہیں۔
تکبیرات کے الفاظ:
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ ان دنوں میں تکبیر کا کوئی بھی صیغہ منقول نہیں ہے، اس لیے دیگر مقامات پر ثابت شدہ کسی بھی صیغہ تکبیر کے ساتھ ان دنوں میں تکبیر کہی جا سکتی ہے، مثلاً:
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے الفاظ:
«اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ۔ [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 11/ 295، رقم 20581 وإسناده صحيح]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ:
«الله أكبر كبيرا، الله أكبر كبيرا، الله أكبر وأجل، الله أكبر ولله الحمد» ۔ [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 4/ 214، رقم 5773 وإسناده صحيح]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ:
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ» ۔ [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 4/ 209] اس کی سند ابو اسحاق مدلس کے عنعنہ کے سبب ضعیف ہے، لیکن محاملی کی روایت میں ابراہیم نخعی نے بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بات نقل کر رکھی ہے [صلاة العيدين للمحاملي: ص 229، رقم 167 وإسناده حسن إلى إبراهيم لكنه منقطع]
یہ روایت بھی ابراہیم اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیچ منقطع ہے لیکن یہ ہلکا ضعف ہے کیونکہ ابراہیم نخعی جب بلاواسطہ کوئی بات ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں تو اس بات کو انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے کئی شاگردوں سے سنا ہوتا ہے جیسا کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے خود اس کی صراحت کر دی ہے، دیکھیں: [الطبقات الكبرى ط دار صادر: 6/ 272 وإسناده صحيح]
لہٰذا یہ منقطع روایت ابن ابی شیبہ کی روایت کے ساتھ مل کر کم از کم حسن لغیرہ ہے، ان شاء اللہ۔
(کفایت اللہ سنابلی)
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

Sunan Ibn Majah Hadith 1727 in Urdu