🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب : عدة أم الولد
باب: ام ولد کی عدت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2083
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ:" لَا تُفْسِدُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم پر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو نہ بگاڑو، ام ولد کی عدت چار ماہ دس دن ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2083]
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت خلط ملط نہ کرو، ام ولد کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطلاق 48 (2308)، (تحفة الأشراف: 10743)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 203) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ام ولد وہ لونڈی جو اپنے مالک کا بچہ جنے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب ام ولد کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے، گویا یہ عدت میں مثل آزاد کے ہے، اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن العاص القرشي، أبو محمد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥قبيصة بن ذؤيب الخزاعي، أبو إسحاق، أبو سعيد
Newقبيصة بن ذؤيب الخزاعي ← عمرو بن العاص القرشي
والراجح أنه تابعي ثقة، مختلف في صحبته
👤←👥رجاء بن حيوة الكندي، أبو نصر، أبو بكر، أبو المقدام
Newرجاء بن حيوة الكندي ← قبيصة بن ذؤيب الخزاعي
ثقة
👤←👥مطر بن طهمان الوراق، أبو رجاء
Newمطر بن طهمان الوراق ← رجاء بن حيوة الكندي
وحديثه عن عطاء ضعيف، صدوق كثير الخطأ
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← مطر بن طهمان الوراق
ثقة حافظ
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2083
عدة أم الولد أربعة أشهر وعشرا
بلوغ المرام
954
0
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2083 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2083
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ام ولد سے مراد وہ لونڈی ہے جس سے اس کے مالک کی اولاد پیدا ہو۔

(2)
ام ولد کے بارے میں حضرت عمر کا فرمان ہے:
جو لونڈی اپنے آقا سے اولاد حنے تو وہ اسے نہ بیچے‘ نہ ہبہ کرے‘ نہ اسے وراثت میں کسی کے حوالے کرے‘ (زندگی میں)
اس سے فائدہ اٹھاتا رہے‘ جب مر جائے تو وہ عورت آزاد ہے۔ (موطأ إمام مالک، العتق والولاء، باب عتق أمھات الأولاد......،: 2/ 291)

(3)
چونکہ ام ولد اپنے مالک کی وفات کی وجہ سے آزاد ہو جاتی ہے، اس لیے اس کی عدت آزاد عورت والی ہے۔
ام ولد عدت کی بابت اختلاف ہے، دیکھیے: (المغني لابن قدامة: 11/ 262، 264)

(4)
  یہ روایت بعض کے نزدیک صحیح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2083]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 954
عدت، سوگ اور استبراء رحم کا بیان
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہم پر خلط ملط نہ کرو کہ جب ام ولد کا سردار وفات پا جائے تو اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔ اس روایت کو احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور دارقطنی نے اسے انقطاع سے معلول کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 954»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الطلاق، باب في عدة أم الولد، حديث:2308، وابن ماجه، الطلاق، حديث:2083، وأحمد:4 /203، والحاكم:2 /209 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي، والدارقطني:3 /309 وقال: "هو مرسل لأن قبيصة لم يسمع من عمرو" وتبعه البيهقي:7 /448.»
تشریح:
1. اس روایت میں ام ولد کی عدت کا بیان ہے مگر یہ روایت منقطع ہے کیونکہ اسے قَبِیصہ بن ذُؤَیب‘ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور ان کا سماع حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔
2. امام اوزاعی اور اہل ظاہر ام ولد کی عدت چار ماہ دس دن کہتے ہیں‘ مگر امام شافعی‘ امام احمد اور مالک رحمہم اللہ کے نزدیک اس کی عدت ایک حیض ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک عدت تین حیض ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہم کہتے ہیں کہ اس کی عدت صرف ایک حیض اس لیے ہے کہ نہ تو وہ زوجہ ہے اور نہ مطلقہ۔
اسے تو صرف استبرائے رحم کی ضرورت ہے اور وہ ایک ہی حیض سے ہو جاتا ہے۔
3.اس حدیث کو بعض محققین نے صحیح بھی قرار دیا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 954]

Sunan Ibn Majah Hadith 2083 in Urdu