علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : كراهية الزينة للمتوفى عنها زوجها
باب: بیوہ عورت عدت کے دنوں میں زیب و زینت نہ کرے۔
حدیث نمبر: 2084
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَةَ ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ ، تَذْكُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَةً لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا، فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَكْحَلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہما ذکر کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر مر گیا ہے، اور اس کی بیٹی کی آنکھ دکھ رہی ہے وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے (زمانہ جاہلیت میں) تم سال پورا ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی اور اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2084]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ”اس کی ایک بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئی ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ (آنکھوں کے علاج کے لیے) اس کی آنکھوں میں سرمہ لگائے (تو کیا یہ جائز ہے؟)“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جاہلیت میں تو) عورت سال پورا گزرنے پر مینگنی پھینکا کرتی تھی۔ (اسلامی شریعت میں تو) یہ عدت صرف چار مہینے دس دن ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 46 (5336)، 47 (5338)، الطب 18 (5706)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (1488)، سنن ابی داود/الطلاق 43 (2299)، سنن الترمذی/الطلاق 18 (1197)، سنن النسائی/الطلاق 55 (3530)، 67 (3568)، (تحفة الأشراف: 15876 و18259)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 35 (101)، مسند احمد (6/325، 326)، سنن الدارمی/الطلاق 12 (2330) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک خراب اور تنگ کوٹھری میں چلی جاتی، اور برے سے برے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو لگاتی نہ زینت کرتی، کامل ایک سال تک ایسا کرتی، جب سال پورا ہو جاتا تو ایک اونٹنی کی مینگنی لاتی، عورت اس کو پھینک کر عدت سے باہر آتی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ جاہلیت کے زمانہ میں تو ایسی سخت تکلیف ایک سال تک سہتی تھیں، اب صرف چار مہینے دس دن تک عدت رہ گئی ہے، اس میں بھی زیب و زینت سے رکنا مشکل ہے، امام احمد اور اہلحدیث کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ سوگ والی عورت کو سرمہ لگانا کسی طرح جائز نہیں اگرچہ عذر بھی ہو، اور حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک عذر کی وجہ سے جائز ہے، بلاعذر جائز نہیں، اور شافعی نے کہا رات کو لگا لے اور دن کے وقت اس کو صاف کر ڈالے، تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ میں رہے، یعنی زیب و زینت نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3532
| كانت إحداكن تجلس حولا هي أربعة أشهر وعشرا فإذا كان الحول خرجت ورمت وراءها ببعرة |
سنن النسائى الصغرى |
3571
| كانت إحداكن في الجاهلية إذا توفي عنها زوجها أقامت سنة ثم قذفت خلفها ببعرة ثم خرجت هي أربعة أشهر وعشرا حتى ينقضي الأجل |
صحيح البخاري |
1282
| لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا |
صحيح مسلم |
3733
| كانت إحداكن ترمي بالبعرة عند رأس الحول هي أربعة أشهر وعشر |
صحيح مسلم |
3729
| لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا |
سنن ابن ماجه |
2084
| كانت إحداكن ترمي بالبعرة عند رأس الحول هي أربعة أشهر وعشرا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2084 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2084
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وفات کی عدت کے دوران میں زیور وغیرہ پہننے اور زینت کی اشیاء کے استعمال سے اجتناب ضروری ہے۔
لباس بھی سادہ پہننا چاہیے۔
(2)
عدت كے دوران میں علاج کے طور پر بھی ایسی چیز کا استعمال جائز نہیں جو زینت کے لیے استعمال ہوتی ہو، مثلاً:
آنکھوں میں سرمہ لگانا، یا ہاتھوں پر مہندی لگانا، اس دوران علاج کے لیے دوسری اشیاء استعمال کریں۔
(3)
وفات کی عدت چار ماہ دس دن ہے، البتہ اگر امید سے ہو تو اس کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے، خواہ پیدائش چار ماہ دس دن کی مدت گزرنے پہلے ہو جائے یا مدت کے بعد ہو۔ (سنن ابن ماجة، حدیث2027، 2030)
(4)
اسلام کے احکام غیر اسلامی رسم و رواج سے بہتر بھی ہیں اور آسان بھی، اس لیے ان میں اگر کوئی مشکل محسوس ہو تو اسے برداشت کرتے ہوئے شرعی احکام ہی پر عمل کرنا چاہئے۔
(5)
مینگنی پھینکنے سے جاہلیت کے دور طرف اشارہ ہے۔
اس زمانے میں جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تھا تو وہ جھونپڑی میں رہائش پذیر ہو جاتی، پرانے کپڑے پہن لیتی، کوئی خوشبو وغیرہ استعمال نہ کرتی۔
پورا سال اسی طرح گزارنے کے بعد جب وہ باہر آتی تو اونٹ کی ایک مینگنی لے کر پھینک دیتی۔
یہ گویا اس بات کا اظہار ہوتا کہ فوت شدہ خاوند کی محبت میں ایک سال کا سوگ میرے لیے ایسے ہی معمولی ہے، جیسے ایک مینگنی اٹھا کر پھینک دینا۔
اسلام نے رسم بد کا خاتمہ کر دیا۔ (صحیح البخاري، الطلاق، باب تحد المتوفي عنها أربعة أشہر وعشرا)
فوائد و مسائل:
(1)
وفات کی عدت کے دوران میں زیور وغیرہ پہننے اور زینت کی اشیاء کے استعمال سے اجتناب ضروری ہے۔
لباس بھی سادہ پہننا چاہیے۔
(2)
عدت كے دوران میں علاج کے طور پر بھی ایسی چیز کا استعمال جائز نہیں جو زینت کے لیے استعمال ہوتی ہو، مثلاً:
آنکھوں میں سرمہ لگانا، یا ہاتھوں پر مہندی لگانا، اس دوران علاج کے لیے دوسری اشیاء استعمال کریں۔
(3)
وفات کی عدت چار ماہ دس دن ہے، البتہ اگر امید سے ہو تو اس کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے، خواہ پیدائش چار ماہ دس دن کی مدت گزرنے پہلے ہو جائے یا مدت کے بعد ہو۔ (سنن ابن ماجة، حدیث2027، 2030)
(4)
اسلام کے احکام غیر اسلامی رسم و رواج سے بہتر بھی ہیں اور آسان بھی، اس لیے ان میں اگر کوئی مشکل محسوس ہو تو اسے برداشت کرتے ہوئے شرعی احکام ہی پر عمل کرنا چاہئے۔
(5)
مینگنی پھینکنے سے جاہلیت کے دور طرف اشارہ ہے۔
اس زمانے میں جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تھا تو وہ جھونپڑی میں رہائش پذیر ہو جاتی، پرانے کپڑے پہن لیتی، کوئی خوشبو وغیرہ استعمال نہ کرتی۔
پورا سال اسی طرح گزارنے کے بعد جب وہ باہر آتی تو اونٹ کی ایک مینگنی لے کر پھینک دیتی۔
یہ گویا اس بات کا اظہار ہوتا کہ فوت شدہ خاوند کی محبت میں ایک سال کا سوگ میرے لیے ایسے ہی معمولی ہے، جیسے ایک مینگنی اٹھا کر پھینک دینا۔
اسلام نے رسم بد کا خاتمہ کر دیا۔ (صحیح البخاري، الطلاق، باب تحد المتوفي عنها أربعة أشہر وعشرا)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2084]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3532
بیوہ کی عدت کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی کے شوہر (یعنی میرے داماد) کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے (عدت میں بیٹھی) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہو جانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں (سوگ منانے والی) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے، جب سال پورا ہو جاتا تو وہ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3532]
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی کے شوہر (یعنی میرے داماد) کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے (عدت میں بیٹھی) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہو جانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں (سوگ منانے والی) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے، جب سال پورا ہو جاتا تو وہ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3532]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے سابقہ حدیث۔
تفصیل کے لیے دیکھیے سابقہ حدیث۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3532]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1282
1282. حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓ نے کہا کہ پھر میں (ام المومنین) حضرت زینب بنت جحش ؓ کے پاس گئی جبکہ ان کا بھائی فوت ہو گیا تھا تو انھوں نے خوشبو منگوا کر اپنے بدن پر لگائی، پھر فرمایا: مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی عورت کے لیے، جو اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر یقین رکھتی ہو، جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے لیکن اسے اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا چاہیے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1282]
حدیث حاشیہ:
(1)
سوگ سے متعلقہ دیگر احکام و مسائل کتاب الطلاق میں بیان ہوں گے، لیکن اس مقام پر یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اگر خاوند کی وفات کے وقت بیوی حاملہ تھی تو اس کے سوگ کی مدت وضع حمل ہے، خواہ چار ماہ دس دن سے پہلے وضع ہو یا اس کے بعد۔
اس روایت میں حضرت ابو سفیان ؓ کے متعلق ملک شام سے وفات کی خبر آنا وہم پر مبنی ہے، کیونکہ ان کا انتقال بالاتفاق مدینہ منورہ میں ہوا تھا۔
شام میں انتقال کرنے والے حضرت ام حبیبہ ؓ کے برادر عزیز حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ تھے، جیسا کہ سنن دارمی اور مسند احمد وغیرہ میں یہ وضاحت موجود ہے۔
(فتح الباري: 188/3) (2)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صرف بیوی اپنے خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن تک سوگ کر سکتی ہے، اس کے علاوہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں۔
بیوی کے خاوند پر اتنا سوگ کرنے کی صورت میں بھی متعدد اسلامی مصلحتیں پیش نظر ہیں جنہیں ہم آئندہ بیان کریں گے۔
(3)
حضرت زینب بنت حجش ؓ کے تین بھائی تھے:
عبداللہ، عبیداللہ اور ابو احمد۔
حضرت عبداللہ غزوہ اُحد میں شہید ہو گئے تھے، اس وقت حضرت زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں نہیں آئی تھیں۔
عبیداللہ نصرانی تھا وہ حبشہ میں عیسائیت پر مرا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وفات کے بعد حضرت زینب سے نکاح کیا تھا، کیونکہ عبیداللہ کی وفات کے وقت حضرت زینب بہت چھوٹی تھیں۔
ابو احمد کی زندگی میں حضرت زینب ؓ نے وفات پائی۔
تو اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت زینب نے کس بھائی کی وفات پر سوگ کیا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ام المومنین حضرت زینب بنت حجش ؓ کا ایک اخیافی یا رضاعی بھائی تھا اس کی وفات پر انہوں نے سوگ کیا تھا۔
(فتح الباري: 189/3)
(1)
سوگ سے متعلقہ دیگر احکام و مسائل کتاب الطلاق میں بیان ہوں گے، لیکن اس مقام پر یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اگر خاوند کی وفات کے وقت بیوی حاملہ تھی تو اس کے سوگ کی مدت وضع حمل ہے، خواہ چار ماہ دس دن سے پہلے وضع ہو یا اس کے بعد۔
اس روایت میں حضرت ابو سفیان ؓ کے متعلق ملک شام سے وفات کی خبر آنا وہم پر مبنی ہے، کیونکہ ان کا انتقال بالاتفاق مدینہ منورہ میں ہوا تھا۔
شام میں انتقال کرنے والے حضرت ام حبیبہ ؓ کے برادر عزیز حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ تھے، جیسا کہ سنن دارمی اور مسند احمد وغیرہ میں یہ وضاحت موجود ہے۔
(فتح الباري: 188/3) (2)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صرف بیوی اپنے خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن تک سوگ کر سکتی ہے، اس کے علاوہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں۔
بیوی کے خاوند پر اتنا سوگ کرنے کی صورت میں بھی متعدد اسلامی مصلحتیں پیش نظر ہیں جنہیں ہم آئندہ بیان کریں گے۔
(3)
حضرت زینب بنت حجش ؓ کے تین بھائی تھے:
عبداللہ، عبیداللہ اور ابو احمد۔
حضرت عبداللہ غزوہ اُحد میں شہید ہو گئے تھے، اس وقت حضرت زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں نہیں آئی تھیں۔
عبیداللہ نصرانی تھا وہ حبشہ میں عیسائیت پر مرا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وفات کے بعد حضرت زینب سے نکاح کیا تھا، کیونکہ عبیداللہ کی وفات کے وقت حضرت زینب بہت چھوٹی تھیں۔
ابو احمد کی زندگی میں حضرت زینب ؓ نے وفات پائی۔
تو اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت زینب نے کس بھائی کی وفات پر سوگ کیا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ام المومنین حضرت زینب بنت حجش ؓ کا ایک اخیافی یا رضاعی بھائی تھا اس کی وفات پر انہوں نے سوگ کیا تھا۔
(فتح الباري: 189/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1282]
Sunan Ibn Majah Hadith 2084 in Urdu
أم سلمة زوج النبي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية