سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : الحكرة والجلب
باب: ذخیرہ اندوزی اور جلب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2155
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الْمَكِّيُّ ، عَنْ فَرُّوخَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ وَالْإِفْلَاسِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو مسلمانوں کے کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جذام (کوڑھ) یا افلاس (فقر) میں مبتلا کر دے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10622، ومصباح الزجاجة: 764)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/21) (ضعیف)» سند میں ابویحییٰ المکی مجہول ہیں، صرف ابن حبان نے ان کی توثیق ہے، اور یہ معلوم ہے کہ وہ مجہول رواة کی توثیق کرتے ہیں ایسے ہی فروخ کی توثیق بھی صرف ابن حبان نے کی ہے، جو حجت نہیں ہے، ابن الجوزی نے العلل المتناہیة میں حدیث کی تضعیف ابویحییٰ کی جہالت کی وجہ سے کی ہے، نیزملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 764)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2155
| من احتكر على المسلمين طعاتهم ضربه الله بالجذام والإفلاس |
فروخ الأموي ← عمر بن الخطاب العدوي