🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : ما لا يحل بيعه
باب: حرام اور ناجائز چیزوں کی خرید و فروخت حلال نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2168
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُغَنِّيَاتِ، وَعَنْ شِرَائِهِنَّ، وَعَنْ كَسْبِهِنَّ، وَعَنْ أَكْلِ أَثْمَانِهِنَّ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغنیہ (گانے والی عورتوں) کی خرید و فروخت، ان کی کمائی اور ان کی قیمت کھانے سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 15 (1282)، (تحفة الأشراف: 4898) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو المہلب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2922)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه علل منھا ضعف عبيد اللّٰه (بن زحر) الإفريقي (ضعيف / د 3293) وھو رواه عن علي بن يزيد ضعيف عند الترمذي (1282)
وللحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني (212/8 ح 7749) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامةصحابي
👤←👥عبيد الله بن زحر الضمري
Newعبيد الله بن زحر الضمري ← صدي بن عجلان الباهلي
صدوق يخطئ
👤←👥مطرح بن يزيد الأسدي، أبو المهلب
Newمطرح بن يزيد الأسدي ← عبيد الله بن زحر الضمري
ضعيف الحديث
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← مطرح بن يزيد الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عيسى بن ماهان الرازي، أبو جعفر
Newعيسى بن ماهان الرازي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
مقبول
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر
Newهاشم بن القاسم الليثي ← عيسى بن ماهان الرازي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن محمد القطان، أبو سعيد
Newأحمد بن محمد القطان ← هاشم بن القاسم الليثي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1282
لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن ولا خير في تجارة فيهن ثمنهن حرام
جامع الترمذي
3195
لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن ولا خير في تجارة فيهن ثمنهن حرام في مثل هذا أنزلت عليه هذه الآية ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله
سنن ابن ماجه
2168
عن بيع المغنيات وعن شرائهن وعن كسبهن وعن أكل أثمانهن
مسندالحميدي
934
لا يحل ثمن المغنية، ولا بيعها، ولا شراؤها، ولا الاستماع إليها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2168 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2168
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے دیگر محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں دیگر دلائل سے بھی ان اشیاء کی خرید و فروخت اور ان کی کمائی کے حرام ہونے کا ذکر ملتا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (سلسلة الأحاديث الصحيحة للألباني، رقم: 2922)
بنابریں اہل عرب دور جاہلیت میں بھی گانا بجانا معیوب سمجھتے تھے، اس لیے معزز خاندان کی عورتیں اس سے پرہیز کرتی تھیں، البتہ لونڈیاں اپنے آقاؤں اور ان کے دوستوں کا دل بہلانے کے لیے، یا گانا سنا کر انعام حاصل کرنے کے لیے گا بجا لاتی تھیں۔
دور جاہلیت کے عرب اپنی لونڈیوں سے کہتے تھے کہ کماکر لاؤ۔
وہ ساز اور گانے کے ذریعے سے یا عصمت فروشی کے ذریعے سے پیسے کما کر مالکوں کو دیتی تھیں۔
اسلام نے یہ کمائی حرام قرار دی ہے۔
نہ لونڈیوں کو اس طرح کمانا جائز ہے۔

(3)
  آج کل ساز و نغمہ کو فن کا نام دے کر کمائی کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
شرعی نقطۂ نظر سے یہ جائز نہیں۔
فلموںمیں غیر شریفانہ کردار ادا کرنا اور ماڈلنگ کا پیشہ اختیار کرنا بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔

(4)
  گانے والی لونڈیاں اگر گانا سننے سنانے کےلیے نہ خریدی جائیں بلکہ گھر کے کام کاج اور دوسری جائز خدمت کے لیے خریدی جائیں تو منع نہیں، اس طرح اگر بیچتے وقت انہیں فنکار ظاہر کرکے زیادہ قیمت طلب نہ کی جائے بلکہ عام لونڈی کی حیثیت سے بیچاجائے تو حرام نہیں ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2168]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1282
گانے والی لونڈی کی بیع کی حرمت کا بیان۔
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں (گانا) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں (لقمان: ۶)۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1282]
اردو حاشہ: 1؎:
کیونکہ یہ فسق اورگناہ کے کاموں کی طرف لے جاتا ہے۔
نوٹ:

(سند میں عبیداللہ بن زحر اور علی بن یزید بن جدعان دونوں ضعیف راوی ہیں،
لیکن ابن ماجہ کی سند حسن درجے کی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1282]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3195
سورۃ لقمان سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں (لقمان: ۶)، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3195]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بعض لوگ ایسے ہیں جو لہوولعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں (لقمان: 6)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3195]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:934
934- سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: گانے والی عورت کا معاوضہ حلال نہیں ہے اسے فروخت کرنا اور خرید نا بھی حلال نہیں ہے نہ ہی اسے سننا جائز ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:934]
فائدہ:
اس حدیث میں گانا گانے والی عورت کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ اپنی عورت کے گانے سننے کے عوض میں پیسے دینا، اور اس کی کیسٹیں اور سی ڈیز بیچنا یا خریدنا اور میموری کارڈ بھرنا یا بھرانا سب حرام ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 933]