🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. باب : التغليظ في الربا
باب: حرمت سود میں وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2279
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ رُكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا أَحَدٌ أَكْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلَّا كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهِ إِلَى قِلَّةٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھی سود سے مال بڑھایا، اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا مال گھٹ جاتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9203، ومصباح الزجاجة: 802)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/395، 424) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سودی کاروبار کرنے والا اپنا مال بڑھانے کے لئے زیادہ سود لیتا ہے، لیکن غیب سے ایسی آفتیں اترتی ہیں کہ مال میں برکت نہیں رہتی، سب تباہ و برباد ہو جاتا ہے، اور آدمی مفلس بن جاتا ہے۔ اس امر کا تجربہ ہو چکا ہے، مسلمان کو کبھی سودی کاروبار سے ترقی نہیں ہوتی، البتہ کفار و مشرکین کا مال سود سے بڑھتا ہے، وہ کافر ہیں ان کو سود کی حرمت سے کیا غرض، ان کو تو پہلے ایمان لانے کا حکم ہے۔ اورچونکہ ان کی آخرت تباہ کن ہے، اس لیے دنیا میں ان کو ڈھیل دے دی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥الربيع بن عميلة الفزاري
Newالربيع بن عميلة الفزاري ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥ركين بن الربيع الفزاري، أبو الربيع
Newركين بن الربيع الفزاري ← الربيع بن عميلة الفزاري
ثقة
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← ركين بن الربيع الفزاري
ثقة
👤←👥يحيى بن زكريا الهمداني، أبو سعيد
Newيحيى بن زكريا الهمداني ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة متقن
👤←👥عمرو بن عون السلمي، أبو عثمان
Newعمرو بن عون السلمي ← يحيى بن زكريا الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥العباس بن جعفر البغدادي، أبو محمد
Newالعباس بن جعفر البغدادي ← عمرو بن عون السلمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2279
ما أحد أكثر من الربا إلا كان عاقبة أمره إلى قلة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2279 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2279
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حرام روزی میں برکت نہیں ہوتی۔

(2)
اس حدیث کی تائید قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ سے بھی ہوتی ہے:
﴿يَمحَقُ اللَّـهُ الرِّ‌با وَيُر‌بِي الصَّدَقاتِ ۗ﴾ (البقرۃ: 2: 276)
 اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2279]