سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب : ما للمرأة من مال زوجها
باب: شوہر کے مال میں عورت کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامَ، قَالَ:" ذَلِكَ مِنْ أَفْضَلِ أَمْوَالِنَا".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی کسی کو نہ دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کھانا بھی نہ دے، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2295]
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”عورت اپنے گھر کی کوئی چیز خاوند کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے۔“”حاضرین نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کھانے پر نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو ہمارا عمدہ مال ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة 34 (670)، (تحفة الأشراف: 4883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/267) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامة | صحابي | |
👤←👥شرحبيل بن مسلم الخولاني شرحبيل بن مسلم الخولاني ← صدي بن عجلان الباهلي | ثقة | |
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة إسماعيل بن عياش العنسي ← شرحبيل بن مسلم الخولاني | صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← إسماعيل بن عياش العنسي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
670
| لا تنفق امرأة شيئا من بيت زوجها إلا بإذن زوجها قيل يا رسول الله ولا الطعام قال ذاك أفضل أموالنا |
سنن ابن ماجه |
2295
| لا تنفق المرأة من بيتها شيئا إلا بإذن زوجها قالوا يا رسول الله ولا الطعام قال ذلك من أفضل أموالنا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2295 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2295
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عورت کو صدقہ وغیرہ کرنے کے لیے خاوند سے اجازت لینی چاہیے۔
(2)
طعام (کھانے کی چیز)
سے مراد تیار شدہ کھانا، روٹی سالن وغیرہ بھی ہو سکتا ہے اور غلہ، یعنی گندم، جو اور چاول وغیرہ بھی۔
(3)
اگر مرد کی عادت اور حالات کی وجہ سے عورت کو یقین ہو کہ فلاں صدقے سے یا کسی مستحق کی مدد کرنے سے خاوند ناراض نہیں ہو گا توالگ سے اجازت لینا ضروری نہیں، تاہم جس چیز کےبارے میں یہ خیال ہو کہ اسے خرچ کرنا خاوند پسند نہیں کرے گا تو ضرور پوچھ لینا چاہیے، مثلاً:
اگر عورت کوئی زیور صدقہ کرنا چاہتی ہے یا ایک بڑی رقم کسی کو دینا چاہتی ہے تو اجازت لینا ضرور ی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
عورت کو صدقہ وغیرہ کرنے کے لیے خاوند سے اجازت لینی چاہیے۔
(2)
طعام (کھانے کی چیز)
سے مراد تیار شدہ کھانا، روٹی سالن وغیرہ بھی ہو سکتا ہے اور غلہ، یعنی گندم، جو اور چاول وغیرہ بھی۔
(3)
اگر مرد کی عادت اور حالات کی وجہ سے عورت کو یقین ہو کہ فلاں صدقے سے یا کسی مستحق کی مدد کرنے سے خاوند ناراض نہیں ہو گا توالگ سے اجازت لینا ضروری نہیں، تاہم جس چیز کےبارے میں یہ خیال ہو کہ اسے خرچ کرنا خاوند پسند نہیں کرے گا تو ضرور پوچھ لینا چاہیے، مثلاً:
اگر عورت کوئی زیور صدقہ کرنا چاہتی ہے یا ایک بڑی رقم کسی کو دینا چاہتی ہے تو اجازت لینا ضرور ی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2295]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 670
عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا: ”عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اور کھانا بھی نہیں؟۔ آپ نے فرمایا: ”یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 670]
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا: ”عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اور کھانا بھی نہیں؟۔ آپ نے فرمایا: ”یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 670]
اردو حاشہ:
1؎:
پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شوہر کی اجازت کے بیوی خرچ نہیں کر سکتی اور اگلی روایت میں اجازت کی قید نہیں،
دونوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ اجازت کی دو قسمیں ہیں اجازت قولی اور اجازت حالی،
بعض دفعہ شوہر بغیر اجازت کے بیوی کے کچھ دے دینے پر راضی ہوتا ہے جیسے دیہات وغیرہ میں فقیروں کو عورتیں کچھ غلّہ اور آٹا وغیرہ دے دیا کرتی ہیں اور شوہر اس پر ان کی کوئی گرفت نہیں کرتا۔
1؎:
پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شوہر کی اجازت کے بیوی خرچ نہیں کر سکتی اور اگلی روایت میں اجازت کی قید نہیں،
دونوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ اجازت کی دو قسمیں ہیں اجازت قولی اور اجازت حالی،
بعض دفعہ شوہر بغیر اجازت کے بیوی کے کچھ دے دینے پر راضی ہوتا ہے جیسے دیہات وغیرہ میں فقیروں کو عورتیں کچھ غلّہ اور آٹا وغیرہ دے دیا کرتی ہیں اور شوہر اس پر ان کی کوئی گرفت نہیں کرتا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 670]
Sunan Ibn Majah Hadith 2295 in Urdu
شرحبيل بن مسلم الخولاني ← صدي بن عجلان الباهلي