🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : من ادعى ما ليس له وخاصم فيه
باب: جس نے دوسرے کے مال پر دعویٰ کر کے اس میں جھگڑا کیا اس پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2319
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ أَبُو عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے، تو وہ ہم میں سے نہیں، اور اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11933)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 5 (3508)، صحیح مسلم/الإیمان 27 (61)، مسند احمد (5/166) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥أبو الأسود الدؤلي، أبو الأسود
Newأبو الأسود الدؤلي ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥يحيى بن يعمر القيسي، أبو سعيد، أبو سليمان، أبو عدي
Newيحيى بن يعمر القيسي ← أبو الأسود الدؤلي
ثقة
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← يحيى بن يعمر القيسي
ثقة
👤←👥الحسين بن ذكوان المعلم
Newالحسين بن ذكوان المعلم ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
ثقة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← الحسين بن ذكوان المعلم
ثقة ثبت
👤←👥عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي، أبو سهل
Newعبد الصمد بن عبد الوارث التميمي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة
👤←👥عبد الوارث بن عبد الصمد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن عبد الصمد العنبري ← عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3508
ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر من ادعى قوما ليس له فيهم فليتبوأ مقعده من النار
صحيح مسلم
217
ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر من ادعى ما ليس له فليس منا ليتبوأ مقعده من النار من دعا رجلا بالكفر أو قال عدو الله وليس كذلك إلا حار عليه
سنن ابن ماجه
2319
من ادعى ما ليس له فليس منا وليتبوأ مقعده من النار
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2319 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2319
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل:

(1)
  ہم میں سے نہیں۔
کا مطلب یہ ہے کہ اس کا یہ عمل مسلمانوں کا عمل نہیں اور اس کا ایمان کامل نہیں۔

(2)
جہنم میں ٹھکانا بنا لینا چاہیے۔
کامطلب یہ ہے کہ اسے یقین ہونا چاہیے کہ وہ جہنم میں جائے گا لہٰذا اس سے بچنے کےلیے اسے اس گناہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اور اگر یہ گناہ ہو گیا ہے تو حق دار کو اس کا حق واپس کرکے توبہ کرکے جہنم سے بچ جانا چاہیے۔

(3)
ارشاد نبوی ہے:
جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اللہ اسے (جہنم کی)
آگ پر حرام کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم، الإیمان، باب الدلیل علی أن من مات علی التوحید دخل الجنة قطعا، حدیث: 26)
 اس کایہ مطلب نہیں کہ اسے اس گناہوں کی سزا نہیں ملے گی بلکہ یہ مطلب ہے اسے جنہم میں ہمیشہ رہنے کا عذاب نہیں ہو گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2319]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 217
حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا: جو شخص دانستہ اپنے باپ کی بجائے کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس نے کفر کیا، اور جو ایسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے جو اس کی نہیں ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے، اور وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ اور جو شخص کسی کو کافر کہہ کر پکارتا ہے، یا اللہ کا دشمن کہتا ہے، حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو کفر اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:217]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
ادَّعَى:
دعویٰ کرنا۔
(2)
عَادَ عليه:
بَاءَ اور رَجَعَ کے ہم معنی ہے پلٹنا،
لوٹنا،
پلٹ آتا ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
اپنے حقیقی نسب کا انکار کرکے کسی اور کا بیٹا بننا انتہائی مجرمانہ حرکت ہے،
.....اور یہ کفر دون کفر ہوگا جو مخرج عن الملۃ نہیں ہے اور اس کام کو کفر قرار دیا جائے گا،
اگر کسی تاویل اور ضرورت کے تحت ایسا کرتا ہے،
تو یہ کفرانِ نعمت ہوگا،
جیسا کہ آپ نے عورتوں کے بارے میں فرمایا ہے:
"یَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ" وہ خاوند کی نا شکری اور احسان فراموش ہیں،
اسی طرح یہ انسان اللہ اور باپ کے حق کا نمک حرام ہے۔
(2)
اگر کوئی دانستہ طور پر کسی ایسی چیز کے اپنی ہونے کا دعوی ٰ کرتا ہے جو اس کی نہیں ہے تو یہ ایک جھوٹ ہے اور دوسرے کے مال پر غاصبانہ قبضہ ہے جو کسی صحیح اور کامل مومن کی شان کے منافی ہے،
اس لیے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا:
وہ ہم میں سے نہیں۔
جیسا کہ نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارے میں فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾ وہ آپ کے اہل میں سے نہیں ہے۔
یعنی اس کا طور طریقہ اور طرز عمل یا برتاؤ اور معاملہ مسلمانوں والا نہیں ہے اور یہ ایک ایسا قصور اور کھلم کھلا گناہ ہے جس کی سزا جہنم ہے الا یہ کہ انسان اس سے توبہ کرے یا اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 217]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3508
3508. حضرت ابوذر ؓسے روایت ہے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص دانستہ طور پر اپنے آپ کو حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے۔ اور جو شخص ایسی قوم میں سے ہونے کا دعویٰ کرے جس میں اس کا کوئی رشتہ نہ ہوتووہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3508]
حدیث حاشیہ:
مراد وہ شخص ہے جو ایسا کرنا درست سمجھے یا یہ بطور تغلیظ کے ہے، یا کفر سے ناشکری مراد ہے۔
واللہ أعلم۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3508]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3508
3508. حضرت ابوذر ؓسے روایت ہے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص دانستہ طور پر اپنے آپ کو حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے۔ اور جو شخص ایسی قوم میں سے ہونے کا دعویٰ کرے جس میں اس کا کوئی رشتہ نہ ہوتووہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3508]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی ایسی چیز کادعویٰ کرنا حرام ہے جو اس کی نہ ہو، خواہ اس کا تعلق مال ومتاع سے ہو یا علم وفضل سے یا حسب ونسب سے، چنانچہ بعض لوگ اپنی قوم کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں وہ بھی اس وعید کی زد میں آتے ہیں جیسا کہ کچھ لوگ سادات کی طرف اپنی نسبت کرلیتے ہیں تاکہ عوام کی نگاہوں میں محترم ہوں۔
وہ اس حدیث کے مصداق ہیں۔

اس کفر سے مراد کفرانِ نعمت ہے یا اس کامطلب یہ ہے کہ جو غیر کی نسبت کرنے کو اپنے لیے حلال سمجھتاہے وہ واقعی کافر ہے یا مذکورہ کلمہ ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر ہے۔
اگروہ توبہ کرلے تو یہ گناہ ساقط ہو جائے گا۔

حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
جب ثابت ہوا کہ اہل یمن حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد ہیں تو ان کاکسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا صحیح نہیں۔
امام بخاری ؒ کا اس حدیث سے یہی مطلب معلوم ہوتاہے۔
(فتح الباري: 660/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3508]