یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب : من كره أن يوطأ عقباه
باب: اس کا ذکر جس کو یہ ناپسند ہو کہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلیں۔
حدیث نمبر: 245
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ:" مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے دن میں بقیع غرقد نامی مقبرہ سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں کی چاپ سنی تو آپ کے دل میں خیال آیا، آپ بیٹھ گئے، یہاں تک کہ ان کو اپنے سے آگے کر لیا کہ کہیں آپ کے دل میں کچھ تکبر نہ آ جائے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 245]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم شدید گرمی میں بقیع الغرقد کی طرف تشریف لے جا رہے تھے، دوسرے حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے آ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جوتوں کی آواز سنی تو ناگواری محسوس ہوئی، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے حتی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو آگے نکل جانے دیا تاکہ آپ کے دل میں فخر کی کوئی کیفیت پیدا نہ ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4915، ومصباح الزجاجة: 98)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/266) (ضعیف)» (علی بن یزید الألہانی ضعیف و منکر الحدیث ہیں، نیز القاسم بھی ضعیف ہیں، اور اس سند پر کلام کے لئے ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 228)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن يزيد: ضعيف
ومعان بن رفاعة: لين الحديث كثير الإرسال (تقريب: 6747)
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
إسناده ضعيف
علي بن يزيد: ضعيف
ومعان بن رفاعة: لين الحديث كثير الإرسال (تقريب: 6747)
والحديث ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
245
| مر النبي في يوم شديد الحر نحو بقيع الغرقد وكان الناس يمشون خلفه فلما سمع صوت النعال وقر ذلك في نفسه فجلس حتى قدمهم أمامه لئلا يقع في نفسه شيء من الكبر |
Sunan Ibn Majah Hadith 245 in Urdu
القاسم بن عبد الرحمن الشامي ← صدي بن عجلان الباهلي