🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : من قتل له قتيل فهو بالخيار بين إحدى ثلاث
باب: مقتول کے ورثاء کو تین باتوں میں سے کسی ایک بات کا اختیار ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2624
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ وَإِمَّا أَنْ يُفْدَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی شخص قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے، یا تو وہ قاتل کو قصاص میں قتل کر دے، یا فدیہ لے لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2624]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی (قریبی رشتے دار) آدمی قتل ہو جائے تو اسے دو ایک جیسی چیزوں میں سے ایک کے انتخاب کا حق حاصل ہے: یا (قاتل کو) قتل کر لے، یا فدیہ (دیت) لے لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 39 (112)، اللقطة 7 (2434)، الدیات 8 (6880)، صحیح مسلم/الحج 82 (1355)، سنن ابی داود/الدیات 4 (4505)، سنن الترمذی/الدیات 13 (1405)، سنن النسائی/القسامة 24 (4789، 4790)، (تحفة الأشراف: 15383)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/238) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک تیسری بات یہ ہے کہ معاف کر دے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اسرائیل میں قصاص تھا لیکن دیت نہ تھی، تو اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری: «كتب عليكم القصاص في القتلى» (سورة البقرة: 178) مسلمانوں قتل میں تمہارے اوپر قصاص فرض کیا گیا ہے اور قصاص کے بارے میں فرمایا: «ولكم في القصاص حياة» (سورة البقرة: 179) تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے غرض ان آیات و احادیث سے قصاص ثابت ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1405
من قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يعفو وإما أن يقتل
سنن أبي داود
4505
من قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يودى أو يقاد
سنن ابن ماجه
2624
من قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يقتل وإما أن يفدى
سنن النسائى الصغرى
4789
من قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يقاد وإما أن يفدى
سنن النسائى الصغرى
4790
من قتل له قتيل فهو بخير النظرين إما أن يقاد وإما أن يفدى
المعجم الصغير للطبراني
917
فمن عفي له من أخيه شيء فاتباع بالمعروف وأداء إليه بإحسان سورة البقرة آية 178 ، قال : كانت بنو إسرائيل إذا قتل فيهم القتيل عمدا لم يحل لهم إلا القود ، وأحلت لكم الدية ، فأمر هذا أن يتبع بالمعروف ، وأمر هذا أن يؤدي بإحسان ، فذلكم تخفيف من ربكم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2624 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2624
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قصاص اور فدیہ کو ایک جیسے چیزیں قرار دیا گیا ہے کیونکہ تیسری چیز، یعنی معاف کرنا بہت بلند اور عظیم کام ہے۔

(2)
  فدیہ قصاص سے افضل ہےکیونکہ یہ بھی ایک قسم کی معافی ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پورا فدیہ لینے کی بجائے کچھ فدیہ وصول کرکے باقی معاف کردیا جائے۔

(3)
قصاص یا دیت لینے کا فیصلہ کرنا مقتول کے وارثوں کا حق ہے، عدالت نہیں۔

(4)
قصاص صرف قتل عمد ميں ہوتا ہے، قتل خطا یا شبہ عمد میں قصاص نہیں، صرف دیت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2624]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4789
جب مقتول کا وارث قصاص معاف کر دے تو کیا قاتل عمد سے دیت لی جائے گی؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی آدمی قتل ہو گیا ہو تو اسے اختیار ہے، چاہے تو قصاص لے، چاہے تو دیت لے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4789]
اردو حاشہ:
عموماً مقتول کے ورثاء قصاص کا مطالبہ کرتے ہیں یا پھر دیت پر راضی ہو جاتے ہیں، اس لیے دو چیزوں کا ذکر فرمایا، تاہم اگر مقتول کے ورثاء درگزر کرتے ہوئے بالکل معاف کر دیں تو بھی قرآن کے عموم کے پیش نظر جائز ہے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ قصاص، دیت یا معافی کا اختیار مقتول کے ورثاء کو ہے نہ کہ قاتل کو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4789]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4505
مقتول کا وارث دیت لینے پر راضی ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے، یا قصاص میں قتل کرے یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ لکھ دیجئیے (عباس بن ولید کی روایت «اکتب لی» کے بجائے «اکتبوا لی» یہ صیغۂ جمع ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: «اکتبوا لی» سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4505]
فوائد ومسائل:
1: قتل عمد میں قاتل سے قصاص ہوتا ہے یا پھر اگر مقتول کے وارث رضا مند ہوں تو دیت بھی لے سکتے ہیں۔

2: رسول ؐ کے دور میں احادیث رسول لکھی بھی گئی ہیں تاہم ان کا دائرہ بہت محدود تھا اورصحابہ کرام رضی اللہ بجا طور پر یہ سمجھتے اور عقیدہ رکھتے تھے کہ فرامین رسول ؐ ہی ہمارے لئے معیار عمل ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4505]

Sunan Ibn Majah Hadith 2624 in Urdu