🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : دية الجنين
باب: «جنین» (پیٹ کے بچے) کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2640
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: اسْتَشَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ يَعْنِي سِقْطَهَا، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ :" شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ"، فَقَالَ عُمَرُ: ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَشَهِدَ مَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ .
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پیٹ سے گر جانے والے بچے کے بارے میں مشورہ لیا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی اس بات کے لیے گواہ لاؤ، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ گواہی دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 2 (1689)، سنن ابی داود/الدیات 21 (4570)، (تحفة الأشراف: 11233، 11529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253)، سنن الدارمی/المقدمة 54 (668)، الدیات 20 (2426) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عمر رضی اللہ عنہ نے مزید توثیق کے لئے گواہ طلب کیا تھا ورنہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سچے صحابی رسول تھے، اور خبر واحد حجت ہے جب وہ ثقہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن مسلمة الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسى
Newالمغيرة بن شعبة الثقفي ← محمد بن مسلمة الأنصاري
صحابي
👤←👥المسور بن مخرمة القرشي، أبو عبد الرحمن
Newالمسور بن مخرمة القرشي ← المغيرة بن شعبة الثقفي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← المسور بن مخرمة القرشي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4397
غرة عبد أو أمة
سنن ابن ماجه
2640
قضى فيه بغرة عبد أو أمة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2640 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2640
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
  حضرت عمررضی اللہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی روایت پر شک نہیں کیا بلکہ مزید اطمینان کےلیے دوسرا گواہ طلب فرمایا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ مسئلہ ایک قانون کی حیثیت رکھتا ہے، لہٰذا پورا اطمینان ضروری ہے۔
اور ضروری وجہ یہ تھی کہ عام لوگ جب دیکھیں گے کہ حضرت عمر رضی اللہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہ پر بھی حدیث کے بارے میں سختی کرتے ہیں تو وہ بلاتحقیق حدیثیں روایت کرنےسے اجتناب کریں گے۔
واللہ اعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2640]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4397
امام اپنے تین اساتذہ سے، حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں سے عورت کے جنین کے بارے میں مشورہ لیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ایک غرة یعنی غلام یا لونڈی کا فیصلہ صادر فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، کوئی اور شخص بھی میرے پاس لاؤ، جو تمہارے ساتھ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4397]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
ملاص:
جس کو عام طور پر املاص کہتے ہیں،
اس کا معنی،
جنین،
پیٹ کا بچہ۔
فوائد ومسائل:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ وثوق اور تثبت (تسلی و یقین)
حاصل کرنے کے لیے،
ایسے مسئلہ کے بارے میں جس کا حکم انہیں معلوم نہ ہوتا اور وہ سمجھتے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود نہیں ہے یا عام لوگوں میں اس کا چرچا نہیں ہے،
شاہد طلب فرما لیتے تھے تاکہ لوگ احادیث کے بیان کرنے میں پورے حزم اور احتیاط سے کام لیں،
کسی قسم کی غفلت اور کاہلی کا مظاہرہ نہ کر دیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4397]