سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ : هَلْ يُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْعَبْدِ
باب: کیا آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 2664
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ الطَّبَّاعِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَا:" قَتَلَ رَجُلٌ عَبْدَهُ عَمْدًا مُتَعَمِّدًا، فَجَلَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً، وَنَفَاهُ سَنَةً وَمَحَا سَهْمَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سو کوڑے مارے، ایک سال کے لیے جلا وطن کیا، اور مسلمانوں کے حصوں میں سے اس کا حصہ ختم کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2664]
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک آدمی نے جان بوجھ کر اپنے غلام کو عمداً قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سو کوڑے لگوائے، اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا اور مسلمانوں (کے مال غنیمت) میں سے اس کا حصہ ختم کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8663، 10022، ومصباح الزجاجة: 938) (ضعیف جدا)» (سند میں اسحاق بن عبد اللہ متروک راوی ہے، اور اسماعیل بن عیاش غیر شامیوں سے روایت میں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
إسحاق بن أبي فروة: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474
إسناده ضعيف جدًا
إسحاق بن أبي فروة: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2664
| جلده رسول الله مائة ونفاه سنة ومحا سهمه من المسلمين |
Sunan Ibn Majah Hadith 2664 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي