یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : فضل الرباط في سبيل الله
باب: اللہ کے راستے میں مورچہ بندی کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2768
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَرِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ مُحْتَسِبًا مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ عِبَادَةِ مِائَةِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا، وَرِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ مُحْتَسِبًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْظَمُ أَجْرًا، أُرَاهُ قَالَ: مِنْ عِبَادَةِ أَلْفِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا، فَإِنْ رَدَّهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِهِ سَالِمًا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ أَلْفَ سَنَةٍ، وَتُكْتَبُ لَهُ الْحَسَنَاتُ، وَيُجْرَى لَهُ أَجْرُ الرِّبَاطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثواب کی نیت سے مسلمانوں کے ناکے پر (جہاں سے دشمن کے حملہ آور ہونے کا ڈر ہو) اللہ کی راہ میں سرحد پر ایک دن پڑاؤ کی حفاظت کا ثواب غیر رمضان میں سو سال کے روزوں، اور ان کے قیام اللیل صیام سے بڑھ کر ہے، اور اللہ کے راستے میں مسلمانوں کے ناکے پر ثواب کی نیت سے رمضان میں ایک دن کی سرحد کی نگرانی کا ثواب ہزار سال کے نماز سے بڑھ کر ہے، پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم گھر لوٹا دیا تو ایک ہزار سال تک اس کی برائیاں نہیں لکھی جائیں گی، نیکیاں لکھی جائیں گی، اور قیامت تک «رباط» کا ثواب جاری رہے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2768]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے سوا کسی اور مہینے میں مسلمانوں کی سرحد پر خطرے کی جگہ ایک دن ثواب کی نیت سے اللہ کی راہ میں ٹھہرنا سو سال کی عبادت، یعنی اتنے عرصے کے روزوں اور تہجد سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ اور رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کی سرحد پر خطرے کی جگہ اللہ کی راہ میں ایک دن ثواب کی نیت سے ٹھہرنا ایک ہزار سال کی عبادت، یعنی اتنے عرصے کے روزوں اور تہجد سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس (نیک عمل کے فاعل) کو صحیح سلامت اس کے گھر لے آیا تو ہزار سال تک اس کے گناہ نہیں لکھے جائیں گے اور نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اسے قیامت تک سرحد کی رکھوالی کا ثواب ملتا رہے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 75، ومصباح الزجاجة: 979) (موضوع)» (سند میں عمر بن صبح ہے، جو وضع حدیث کرتا تھا، نیز محمد بن یعلی ضعیف راوی ہے، اور مکحول کی أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
عمر بن صبح: متروك كذبه ابن راھويه
ومحمد بن يعلي السلمي: ضعيف
وقال المنذري: ’’ وآثار الوضع ظاهرة عليه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
إسناده موضوع
عمر بن صبح: متروك كذبه ابن راھويه
ومحمد بن يعلي السلمي: ضعيف
وقال المنذري: ’’ وآثار الوضع ظاهرة عليه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2768
| لرباط يوم في سبيل الله من وراء عورة المسلمين محتسبا من غير شهر رمضان أعظم أجرا من عبادة مائة سنة صيامها وقيامها رباط يوم في سبيل الله من وراء عورة المسلمين محتسبا من شهر رمضان أفضل عند الله وأعظم أجرا أراه قال من عبادة ألف سنة صيامها وقيامها |
Sunan Ibn Majah Hadith 2768 in Urdu
مكحول بن أبي مسلم الشامي ← أبي بن كعب الأنصاري